جانے کیا ہو گیا ہے کچھ دن سے

غزل

جانے کیا ہو گیا ہے کچھ دن سے
وحشتِ دل سوا ہے کچھ دن سے

لاکھ جشنِ طرب مناتے ہیں
روح نوحہ سرا ہے کچھ دن سے

ہے دعاؤں سے بھی گُریزاں دل
ربط ٹوٹا ہوا ہے کچھ دن سے

روح، تتلی ہو جیسے صحرا میں
اور آندھی بپا ہے کچھ دن سے

میں اُسے دیکھ تک نہیں سکتا
وہ مجھے تک رہا ہے کچھ دن سے

میں تو ایسا کبھی نہ تھا احمدؔ
یہ کوئی دوسرا ہے کچھ دن سے

محمد احمدؔ

4 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ali کہا...

بہت عمدہ
یہ کوئی دوسرا ہے کچھ دن سے

محمد وارث کہا...

لاجواب، کیا خوبصورت غزل ہے احمد صاحب، بہت خوبصورت اشعار ہیں، داد قبول کیجیے محترم۔

گمنام کہا...

ماشاء اللہ.... بہت خوب
سعید

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ تمام احباب کی توجہ اور تبصرے کا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک