گول میز



یہ کیا ہے ؟
یہ گول میز ہے ۔

اس کی کیا ضرورت تھی بھلا؟
اس پر گول میز کانفرنس ہوگی ، گفتگو ہوگی۔

لیکن گفتگو تو چوکور میز پر بھی ہوسکتی ہے گول میز کی ہی تحصیص کیوں؟
ہاں ہو تو سکتی ہے لیکن جو بات گول میز میں ہے وہ چوکور میں کہاں۔

وہ کیسے ؟
وہ ایسے کہ گول میز پر بیٹھ کر چاہے کتنی ہی دیر گفتگو ہوتی رہے نہ گفتگو کا کوئی سرا ہاتھ آتا ہے اور نہ ہی میز کا۔ پھر گول میز پر بیٹھ کر باعثِ شرم میرا مطلب ہے قابلِ گرفت باتوں کو گول کر جانے کا بھی اپنا ہی مزہ ہے۔ (شرم و غیرت کا ذکر تو ہم نے محاورتاً ہی کر دیا ورنہ تیمور کے گھر سے جو چیز رخصت ہوئی تھی وہ ہمارے ایوانِ اقتدار میں تو ہمیشہ سے ہی ناپید ہے۔ ) ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ گول میز پر کسی بھی موضوع کو ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر گھمانا بہت آسان ہو جاتا ہے۔

اچھا ! اور کیا خصوصیات ہیں اس گول میز کی ؟
اس گول میز کا محیط اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ مقابل چاہے بھی تو آپ پر دست درازی نہیں کر پاتا ، رہی بات گلدان اُٹھا کے مارنے کی تو اس کا اندازہ لگانا بھی بہت مشکل ہوتا ہے کہ حریف آپ کے عین شمال میں ہے یا قدرے جنوب میں۔ ہاں البتہ گول میز کے مدار میں دشنام طرازی کے سیارے باآسانی گھمائے جا سکتے ہیں ۔

تو پھر وہ کون کون سے موضوعات ہے جنہیں گول مول کرنے کے لئے اس گول میز کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
اصل قصہ اسیرِ افرنگ کا ہے کہ جس کی زنجیر کا حلقہ ہمارے حکام کے ذہنوں میں موئے آتش دیدہ کی طرح پگھلا چلا جارہا ہے۔

تو اس میں گول میز کا کیا کام؟
صاحب بہادر کی دھمکیاں سہارنے کے لئے کوئی تو سہارا چاہیے نا۔۔۔۔! گول میز ہی سہی ۔

پھر کیا اسیرِ افرنگ کو رہائی ملنے کا امکا ن ہے ؟
یوں تو یہ کام پہلے دن ہی ہو جانا تھا کہ صاحب بہادر کو ناراض کرنے کا خطرہ کوئی بھی مول نہیں لینا چاہتا لیکن ہمارے حکام خوفِ فسادِ خلق سے ڈرے ہوئے ہیں کہ یہ سال قوم کی مرضی کے خلاف چلنے والوں کے لئے کوئی اتنا اچھا نہیں لگ رہا، بس اب گول میز کا ہی سہارا رہ گیا ہے کہ شاید سارے چور مل کر کوئی چور راستہ نکال لیں اور یہ سارا مسئلہ ہی گول مول ہو جائے۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک