امیرالمومنین کی عید

عید کے دن لوگ کاشانہ خدمت پر حاضر ہوئے تو کیا دیکھا کہ آپ (رضی اللہ تعالی عنہ) دروازہ بند کرکے زار و قطار رو رہے ہیں۔ لوگوں نے حیران ہو کر تعجب سے عرض کیا۔
یا امیر المومنین ! آج تو عید کا دن ہے، مسرت و شادمانی اور خوشی منانے کا دن ۔ یہ خوشی کی جگہ رونا کیسا؟
آنسو پونچھتے ہوئے آپ (رضی اللہ تعالی عنہ) نے فرمایا۔
"اے لوگو! یہ عید کا دن بھی ہے اور وعید کا دن بھی ہے۔ آج جس کے نماز روزے مقبول ہوگئے بلاشبہ آج اس کے لئے عید کا دن ہے لیکن آج جس کی نماز اور روزہ کو اس کے منہ پر مار دیا گیا ہو، اس کے لئے آج وعید کا دن ہے۔ اور میں اس خوف سے رو رہا ہوں کہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ میں مقبول ہوں یا رد کردیا گیا ہوں ۔

بشکریہ : کرن ڈائجسٹ

5 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

TariqRaheel کہا...

میری جانب سے دلی عیدالفطر کی مبارک باد قبول کیجئے ہمین بھی ان خوشی کے دنوں میں یاد رکھیئے گا

افتخار اجمل بھوپال کہا...

اللہ عيد مبارک کرے

Bushra کہا...

Isse munsalik mazmun per ujlat men maine apne Comments pesh kiye hain. Uski Copy yahan.... Down below


""جس کی نماز و روزہ اس کے منہ پر مار دیا گیا ہو اس کے لیئے وعید کا دن ہے.""

واہ بہت خوب... !

کے ساتھ کتنی لرزاہ دینے والی تنبیہ و وعید پیش کی گئی ہی جسے سن کر ہی دل دہل جاتا ہے.

ایسی ہی آئتیں و باتیں پیش کی جانی چاہئیں جس کو سن کر دل دہلے لرزے اور اثر قبول کرے. ہم لوگ انعام و اکرام کی اچھی اچہی باتیں تو بہت سنتے رہتے ہیں پر تنمبیہ و خوف دلانے والی باتیں شاز و نادر ہی سنتے پڑھتے ہیں.

اللہ آپ کو اچھا رکھے.

آپ نے جو واقعہ پیش کیا ہے غالباً علی ابن طالب رزی اللہ و تعالٰیٰ عنہ کی خلافت کا واقعہ ہے.

بشرٰی خان
الہٰ آباد

* میری اردو لکھت بہت کمزور ہے. بزرگ رہنمااستاز محترمی افتخار اجمل صاحب بھوپال کی شفقت آنا رہنمائی میں رہ کر اردو سیکھ رہی ہوں. ابھی ابتدای درجہ میں ہوں. جتنا لکھ چکی ہوں انہیں کی دین ہے. اللہ موصوف کو اچھا رکھے.

Bushra کہا...

جناب محمد احمد صاحب

سلام مسنون

میں آپ کے Blog پر اپنی بات کو طول دے رہی ہوں جس کی معافی چاہتی ہوں.

اللہ کے (Nabi (saw کا ارشاد ہے کہ تم کو جس کسی سے فیض پہنچے یا جس نے اچی بات کی سمت تمھاری رہنمائی کی ہو اس کا شکر ادا کرنے کے ساتھ دوسروں کو بھی اس کی اچھائی بتاو تاکہ انھیں بھی ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کرنے کی رغبت و جزبہ پیدا ہو.

بشرٰی خان

Muhammad Ahmed کہا...


افتخار اجمل بھوپال صاحب قابلِ قدر ہیں کہ اردو کی ترویج کا کام کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو اردو لکھنے میں دقت کا سامنا ہے تو اردو محفل www.urduweb.org/mehfil میں شمولیت اختیار کرلیں وہاں کافی احباب ہمہ وقت مدد کے لئے تیار رہتے ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک