تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر نہیں ہے؟ وزارتِ صحت؟

گذشتہ شام ہم ایک دوست کے ساتھ بیٹھے ‘انڈائریکٹ اسموکنگ’ کر رہے تھے کہ باتوں کے درمیان ہم سگریٹ کی ڈبیہ اُٹھا کے اُس کا (سگریٹ کی ڈبیہ کا )ازسرِ نو جائزہ لینے لگے ۔ بڑی عجیب سی (شاید بُری لکھنا چاہیے تھا )عادت ہو چلی ہے کہ جب تک کسی چیز کا چاروں اور سے اچھی طرح جائزہ نہیں لے لیتے ہمیں چین ہی نہیں آتا۔ خیر ڈبیہ کی پُشت پر باریک حروف میں اردو میں لکھا تھا ‘تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے’ ۔ لیکن نہیں! اُس پر ایسا کچھ نہیں تھا بلکہ شاید ہم وہاں یہ عبارت دیکھنا چاہ رہے تھے جو ہمیں وہاں نہیں ملی۔ ہمارے ایک دوست نے کہا تھا کہ ‘ہم وہی دیکھتے ہیں جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں’ شاید میر صاحب نے بھی یہی سوچ کر کہا ہوگا کہ

؂ یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا

لیکن ہمارا تجربہ تو ہمیشہ اس کے برعکس ہی رہا ۔پھر بھی جتنے منہ کم از کم اُتنی باتیں تو ہونی ہی چاہیے سو ‘ دُنیا کب چپ رہتی ہے کہنے دو جو کہتی ہے ’۔

بہر حال سگریٹ کی ڈبیہ پر موجود عبارت کچھ یوں تھی۔



















یہ پڑھ کر تو فوراً دل یہی چاہا کہ کاش ہم بھی بچے ہوتے اور اس ‘پروٹیکشن زون’ میں ہی کہیں پائے جاتے ۔

بہر کیف ہم نے اس کا مطلب یہی لیا کہ یا تو شاید‘ اب تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر نہیں ہے’

یا آپڑی یہ شرم کے تکرار کیا کریں

(‘یاں’ کا نون غنہ ہم نے از خود حذف کردیا ہے اسے ٹائپو نہ سمجھا جائے)


18 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

عنیقہ ناز کہا...

یہ تو واقعی ایک خبر ہے ورنہ پہلے تو یہ لکھا ہوتا تحا کہ سگریٹ نوشی صھت کے لئے مضر ہے. انہوں نے سوچا آپ تو باز آنیوالے نہیں، بچوں کو ہی بچالیں. انکی نیت پر کیا شبہ کرنا.

ابوشامل کہا...

بہت خوب توجہ دلائی ہے محمد احمد صاحب۔ شاید ہمارے ادارۂ صحت نے سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ کے حوالے سے دنیا بھر میں جاری نئی تحقیق سے کچھ سبق حاصل کر لیا ہے۔ اس لیے اب ان کا کہنا ہے کہ چاہے براہ راست تمباکو نوشی کر لیں لیکن دوسروں خصوصا بچوں کو سگریٹ کے دھویں سے بچائیں۔
آپ گوگل پر second hand smoking یا passive smoking لکھ کر تلاش کر سکتے ہیں۔ جس پر کی گئی تحقیق کے مطابق یہ براہ راست تمباکو نوشی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

Farhan DAnish کہا...

ہمارے ادارۂ صحت کے اس اشتہار کا کوئی فا ئدہ نہیں ہے...........

کامی کہا...

آیا ہے منظر عام پے ایک اور کارنامہ
عوامی دولت سے چلتا حکومتی کارخانہ

محمد وارث کہا...

خوب توجہ دلائی ہے آپ نے احمد صاحب، کچھ ماہ ہوئے وزارتِ صحت نے یہ وارننگ بدل دی ہے، پہلے یہ تھا کہ سگریڑ نوشی سے دل اور کینسر کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔ میں نے اس تبدیلی کو نوٹ کر لیا تھا اور بعینہ یہی جذبات میرے بھی تھے کہ وارننگ کی شدت جان بوجھ کر کم کی گئی ہے لیکن کیا کروں روزانہ دو تین پیکٹ کھولتا ہوں سو، آگے آپ خود سمجھ دار ہیں :)

راشد کامران کہا...

پہلے پہل تو ایک ہی دھمکی ہوا کرتی تھی لیکن ہوسکتا ہے کہ درآمد شدہ سگریٹوں کی دیکھا دیکھی جہاں سرجن جرنل کی مختلف دھمکیاں مختلف ڈبیوں پر لکھی ہوتی تھی ہماری وزارت صحت نے بھی تمباکو نوش کی صحت کے علاوہ دوسرے لوگوں پر اس کے پڑنے والے اثرات سے آگاہ کرنے کا سوچ لیا ہو کہ
تو اپنا نہیں بنتا نا بن ان کا تو بن

محمد احمد کہا...

عنیقہ صاحبہ،

یہ بات میرے لئے بھی نئی ہی تھی. آپ کی بات بھی ٹھیک ہے کہ شاید وزارتِ صحت بھاگتے چور کی لنگوٹی کھیجچنا چاہ رہی ہے.

محمد احمد کہا...

ابو شامل،

نہ جانے کیا بات ہے کہ سگریٹ پینے والے لوگوں کی اکثریت بڑی بے حس ہوتی ہے نہ تو اُنہیں خود اس بات کا خیال ہوتا ہے کہ آس پاس موجود لوگ اُنکی سگریٹ نوشی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور نہ ہی بچوں کی موجودگی اُن کے شوق پر اثر انداز ہوتی ہے.

اکثر لوگ تو لڑنے مرے پر تیار ہو جاتے ہیں اور اس میں پڑھے لکھے اور میرے جیسے لوگ سب برابر ہیں.

Abdullah کہا...

اگر پاکستان میں چائے اور سگریٹ کی درآمد پر پابندی لگ جائے تو سب کو لگ پتہ جائے گا مگر جہاں ہیروئن اور حشیش کھلے عام بکتی ہو وہاں ان چیزوں پر پابندی کا مطالبہ کچھ بچکانہ سی بات لگتی ہے!

Abdullah کہا...

آپکا ایکوریئم بڑا دلفریب ہے،ماشاءاللہ!

محمد احمد کہا...

فرحان ٹھیک کہا آپ نے، بلکہ کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ ہمارے محکہء صحت کا ہی کوئی فائدہ نہیں ہے. ماسوائے اُن لوگوں کے فائدے کے جو وہاں سے تنخواہیں لے رہے ہیں.

محمد احمد کہا...

کامی نے کہا

آیا ہے منظر عام پے ایک اور کارنامہ
عوامی دولت سے چلتا حکومتی کارخانہ

ـــ

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا.

محمد احمد کہا...

وارث بھائی!

اچھا ہے آپ بھی بُرائی کے خاتمے کی تگ و دو میں رہتے ہیں (:

محمد احمد کہا...

راشد کامران صاحب،

بالکل ایسا ہی ہے، بقول عنیقہ صاحبہ وزارتِ صحت کی نیت پر شبہ نہیں کرنا چاہیے۔ اور یوں بھی سگریٹ نوشوں نے تو ہر بات کو دھوئیں میں ہی اُڑانا ہوتا ہے۔

جعفر کہا...

عادت ہو چلی ہے کہ جب تک کسی چیز کا چاروں اور سے اچھی طرح جائزہ نہیں لے لیتے ہمیں چین ہی نہیں آتا۔
یہ عادت بہت خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہے۔۔۔
سگریٹ کے بارے میں میرے خیالات نہایت متشددانہ ہیں
میرے وزیر اعظم بننے کی صورت میں کے ٹو کی ڈبی کی قیمت
ایک تولے سونے کے برابر کردی جائے گی۔۔۔

محمد سعد کہا...

السلام علیکم۔
ظاہری بات ہے کہ جس سرے پر فلٹر ہی نہ ہو، اس سرے والا بندہ زیادہ خطرے میں ہی ہوگا۔ سگریٹ والے انکل خود تو فلٹر کے پیچھے چھپ کر بیٹھے ہوتے ہیں اور ہم کو دھواں دھواں کر دیتے ہیں۔
میں تو کہتا ہوں کہ تمام سگریٹ نوشوں اور سگریٹ فروشوں کا معاشرتی بائیکاٹ کیا جائے۔ کون کون میرے ساتھ ہے؟ جعفر بھائی کم از کم آپ ہی کچھ اپنے پرتشدد خیالات کے زیرِ اثر میرے ساتھ مل جاؤ۔

محمد احمد کہا...

جعفر بھائی،

کے ٹو کی ڈبی کی قیمت بلا شبہ ایک تولے سونے کے برابر کردی جائے گی لیکن سونے کی قیمت برقرار رہے ورنہ کہیں کے ٹو کے حساب سے سونے کی قیمت کو بڑھا دیا گیا تو لوگ جاگ جاگ کے پاگل ہو جائیں گے.

محمد احمد کہا...

محمد سعد صاحب،

بلاگ پر خوش آمدید!

جعفر بھائی کے ساتھ ہم بھی حاضر ہیں لیکن کیا کریں کہ آج کے دور میں سگریٹ نہ پینے والے اقلیت میں دکھائی دیتے ہیں . سوچتا ہوں کہ کہیں آپ کی معاشی بائیکاٹ کی تجویز اُلٹی ہمارے خلاف ہی نہ چلی جائے.

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک