دریا ملے ، شجر ملے ، کوہِ گراں ملے

غزل

دریا ملے ، شجر ملے ، کوہِ گراں ملے
بچھڑے مسافروں کا بھی کوئی نشاں ملے

یہ وصل بھی فریبِ نظر کے سوا نہیں
ساحل کے پار دیکھ زمیں آسماں ملے

ایسی جگر خراش کہاں تھیں کہانیاں
راوی کے رنج بھی تو پسِ داستاں ملے

جانے مسافروں کے مقّدر میں کیا رہا
کشتی کہیں ملی تو کہیں بادباں ملے

جس کو جنوں کی زرد دوپہروں نے چُن لیا
شامِ سکوں ملی ، نہ اُسے سائباں ملے

بارش میں بھیگتی رہی تتلی تمام شب
آئی سحر تو رنگ دھنک میں عیاں ملے

پختہ چھتیں بھی اب کے یقیں سے تہی ملیں
پکے گھروں میں خوف کے کچے مکاں ملے

احمدؔ یہ دل کا شہر تو حیران کر گیا
جھرنے کہیں ملے ، کہیں آتش فشاں ملے

10 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

محمد وارث کہا...

بلاگنگ کی دنیا میں خوش آمدید احمد صاحب، بہت خوشی ہوئی کہ ایک اور شاعر نے اپنا بلاگ شروع کیا ہے، امید ہے آپ کی تخلیقات ہمیں پڑھنے کو ملتی رہیں گے۔

اور غزل آپ کی بہت اچھی ہے، لاجواب

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ وارث بھائی!

آپ کے خیر مقدمی کلمات میرے لئے بہت حوصلہ افزا ہیں۔ کوشش کروں گا کہ کچھ نہ کچھ کلام اس بلاگ پر پیش کرتا رہوں۔

غزل آپ کو پسند آئی یہ میری خوش بختی ہے۔

محمد محمود مغل کہا...

ماشا اللہ شہزادے بھائی خوب بلاگ سجا یاہے۔
کلام بھی اعلی ہے ، ماشا اللہ ،

محمد احمد کہا...

مغل بھیا،

بلاگ پر نظرِ التفات کا شکریہ !

اُمید ہے آتے رہیں گے اور آپ کی طرف سے رہنمائی بھی ملتی رہے گی.

فہد احمد کیہر کہا...

محمد احمد صاحب! بلاگنگ کی دنیا میں خوش آمدید۔ یہ سال اردو بلاگنگ خصوصاً ادبی بلاگنگ کے لیے بہت اچھا جا رہا ہے۔ بہت شاندار ادبی بلاگز سامنے آ رہے ہیں۔

محمد احمد کہا...

فہد احمد کیہر صاحب،

بہت شکریہ کہ آپ نے خاکسار کے لئے خیرمقدمی کلمات کہے. آپ نے ٹھیک کہا کہ اس سال بہت عمدہ ادبی بلاگز سامنے آئے ہیں جنہیں دیکھ کر مجھ ایسے ناکارہ کو بھی کچھ نہ کچھ کرنے کی ہمت ہوئی.

بلاگ پر خوش آمدید!

اُمید ہے کہ آپ آتے رہیں گے.

jafar کہا...

بہت ہی عمدہ غزل ہے ۔۔۔
خاص طور پر یہ شعر
یہ وصل بھی فریبِ نظر کے سوا نہیں
ساحل کے پار دیکھ زمیں آسماں ملے

محمد احمد کہا...

جعفر صاحب،

"رعنائیِ خیال" پر خوش آمدید!

غزل آپ کو پسند آئی یہ میری خوش بختی ہے.

اُمید ہے آتے رہیں گے.

وہاب اعجاز خان کہا...

واہ جناب آپ کی غزل بہت اچھی لگی۔ آپ نے خیال کو بہت اچھوتے انداز میں الفاظ کا جامہ پہنایا ہے۔ واہ بہت خوب

محمد احمد کہا...

وہاب اعجاز صاحب،

سب سے پہلے تو بلاگ پر خوش آمدید!

غزل آپ کو پسند آئی یہ آپ کا حسنِ ذوق ہے. اُمید ہے آئندہ بھی حوصلہ افزائی فرماتے رہیں گے.

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک