سائے میں پڑی لاشیں


سندھی زبان کا ایک مشہور مقولہ ہے کہ حق بات اپنی جگہ لیکن ساتھ بھائی کا دیں گے۔ اس سے آپ یہ ہر گز نہ سمجھیے گا کہ تعصب پر سندھی بولنے والوں کی ہی اجارہ داری ہے بلکہ یہ بیماری تو ہمارے ہاں موجود ہر قوم میں کسی نہ کسی شکل میں پھیلی ہوئی ہے۔

تعصب عدل کو معزول کر دیتا ہے ۔ یوں تو عدل اور تعصب دونوں ہی اندھے ہوتے ہیں لیکن عدل سب کے لئے کورچشم ہوتا ہے تاہم تعصب اندھا ہوتے ہوئے بھی اتنا ضرور دیکھ لیتا ہےکہ کون اپنا ہے اور کون پرایا اور کسے ریوڑھیاں بانٹنی ہے اور کسے نہیں۔

ہم بڑے عجیب لوگ ہیں، ہم اپنی معاملے میں عدل چاہتے ہیں لیکن دوسروں کے معاملے میں تعصب سے کام لیتے ہیں۔ جب مصیبت ہم پر آ پڑتی ہے تو ہم انصاف انصاف کی دُہائی دیتے نظر آتے ہیں ۔ لیکن جب بات کسی اور کی ہو تو ہم سوچتے ہیں کہ صاحبِ معاملہ کون ہے۔ کہاں کا رہنے والا ہے؟ کون سی زبان بولتا ہے؟ کس رنگ و نسل کا ہے؟ حتیٰ کہ ہمارے علاقے کا ہے یا کہیں اور کا۔ ہمارے صوبے کا ہے یا کہیں اور کا؟ ہمارے شہر کا ہے یا کہیں اور کا؟

پھر اگر کوئی آپ کا اپنا معاملے کا فریق بن جائے تو پھر آپ عدل سے آنکھیں چرا کر اپنے پرائے کو ہی حق و باطل کا معیار بنا لیتے ہیں۔ آپ کا اپنا ؟ آپ کا اپنا کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کا بھائی، آپ کا رشتہ دار، آپ کے محلے پڑوس کا کوئی شخص ، آپ کا کوئی ہم زبان، ہم رنگ و نسل۔ پھر آپ بھول جاتے ہیں کہ دنیا میں عدل و انصاف نام کی بھی کوئی شے ہے۔ بس جو اپنا ہے وہ ٹھیک ہے اور دوسرا وہ شخص جو آپ سے کوئی نسبت نہیں رکھتا حق پر ہوتے ہوئے بھی ، غلط ہے ۔ ظالم ہے۔

ہم لوگ اکثر روتے ہیں کہ ہمارے ہاں ظلم بڑھ گیا ہے۔ ہمارے ہاں عدل و انصاف نام کی کوئی چیز باقی ہی نہیں رہی ہے۔ لیکن کیا ہم واقعی عدل کو پسند کرتے ہیں۔ عدل جو اندھا ہوتا ہے، جسے اپنے پرائے کی کوئی تمیز نہیں ہوتی۔ جو کبھی ذات پات، رنگ ونسل، علاقہ و لسان کسی چیز سے علاقہ نہیں رکھتا۔

ہم کہتے ہیں ہمارے ہاں عدل کا حصول ممکن نہیں ہے۔ یہاں تو بس جان پہچان چلتی ہے، یہاں تو سیاسی وابستگی کام آتی ہے یہاں ہمارے لئے عدل کا حصول ممکن نہیں۔ یہ بات بھی ٹھیک ہے۔ لیکن کیا ہم اپنے معاملے میں تعصب کو برا سمجھتے ہیں۔

یا ہم نے سارے معیار صرف اس لئے وضع کیے ہیں کہ اُن سے دوسروں کی پیمائش کی جاتی رہے اور ہماری باری پر ہمیں استثنیٰ مل جائے۔


*****
بہرکیف اگر آپ کسی سے تعصب برتتے بھی ہیں تو اس سے مجھے کوئی غرض نہیں ہے کہ روزِ حشر اس کے جواب دہ آپ خود ہوں گے تاہم آپ کا یہ تعصب آپ کے دشمنوں کے لئے ہی نقصان دہ نہیں ہے بلکہ یہ آپ کے اپنے لئے بھی زہرِ قاتل ہے۔

وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ آپ کے سیاست دان آپ کی تعصب کی بیماری سے بہت زیادہ فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ آپ کو رنگ و نسل اور زبان و علاقے کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں اور اِسی برتے پر آپ کا قیمتی ووٹ لے اُڑتے ہیں۔ اور آپ؟

آپ اتنے سیدھے سادھے ہیں کہ آپ اس سے پوچھتے تک نہیں کہ ٹھیک ہے تم میری قوم سے ہو لیکن پچھلے پانچ سال تمہاری کیا کارکردگی رہی؟ اگلے پانچ سال کے لئے تمہار ا کیا منشور ہے؟ جس منصب پر پہنچنے کے لئے تم میرا ووٹ طلب کر رہے ہو کیا تم اُس کے اہل بھی ہو ۔ یا تمہاری اہلیت صرف یہ ہے کہ تم میری قوم سے ہو، یا میری زبان بولتے ہو۔

کہتے ہیں کہ اپنا تو مار کر بھی سائے میں ڈالتا ہے تو پھر سمجھ لیجے کہ آپ پاکستانیوں کا جو حال ہے وہ سائے میں پڑی لاشوں سے بہتر نہیں ہے جنہیں اُن کے 'اپنوں'نے مار کر بہت محبت سے سائے میں ڈالا ہے۔

یقین کیجے آپ کی آنکھیں بہت اچھا دیکھ سکتی ہے، بس ایک بار تعصب کی ہری نیلی پیلی عینکیں اُتار کر دیکھنے کی ہمت کیجے۔ تب آپ کو اپنوں میں غیر اور غیروں میں موجود اپنے نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔

4 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

Tabish Siddiqui کہا...

بہت عمدہ احمد بھائی۔
کاش ہم لوگ نہ صرف یہ کہ سمجھ سکیں، بلکہ اپنے اندر عملدرآمد کا حوصلہ بھی پیدا کریں۔

Muhammad Ahmed کہا...

بہت شکریہ تابش بھائی!

تعصب کو ہر حال میں چھوڑنا ہی پڑے گا۔ جب تک کار کردگی پر ووٹ نہیں پڑیں گے پاکستان ترقی نہیں کر سکے گا۔

فلک شیر کہا...

یہ آپ کس سے مخاطب ہیں مرشد؟
یہ پاکستان ہے....

Muhammad Ahmed کہا...

@فلک بھائی!

آپ تو ہمارا منہ ہی بند کروا دیتے ہیں۔:)

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک