روٹھ گئیں گلشن سے بہاریں، کس سے بات کریں

غزل 

روٹھ گئیں گلشن سے بہاریں، کس سے بات کریں
کیسے منائیں، کس کو پکاریں، کس سے بات کریں

ہم نے خود ہی پیدا کی ہے ایک نئی تہذیب
ہاتھ میں گُل، دل میں تلواریں کس سے بات کریں

محفل پھیکی، ساقی بہکا، زہریلا ہر جام
ہم کیسے اب شام گزاریں، کس سے بات کریں

قاتل وقت ہوا ہے ہم سے کیوں اتنا ناراض 
خود کو اور کہاں تک ماریں، کس سے بات کریں

آگ لگانا ہے تو دل میں، پیار کی آگ لگا
تو ہی بتا جلتی دیواریں کس سے بات کریں

شاعر: نامعلوم

0 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک