زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا

غزل

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا

اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا

منیر نیازی

2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ateeqkhan کہا...

جناب میں بلاگ میں نیا ہوں مہربانی فرما کر میری راہنمائی فرما دیں کہ کیسے میں لوگوں کہ بلاگ پڑھ سکتا ہوں

Muhammad Ahmed کہا...

بلاگ پر خوش آمدید عتیق صاحب،

آپ کسی بھی بلاگ پر جا کر براہِ راست پوسٹس پڑھ سکتے ہیں۔ یا آپ اس بلاگ سے آر ایس ایس لنک لے کر آر ایس ایس ریڈر پر پڑھ سکتے ہیں۔ یا کچھ بلاگس پر ای میل سبسکرپشن کے ذریعے بھی بلاگ پڑھا جا سکتا ہے۔ جیسے رعنائی خیال پر فوٹر کے قریب ای میل سبسکرپشن کا وجیٹ دستیاب ہے۔ آپ وہاں جا کر اپنا ایمیل درج کر سکتے ہیں۔ ای میل کی تصدیق کے بعد بلاگ پوسٹس آپ کو ایمیل پر ملنا شروع ہو جائیں گی۔

اگر آپ اچھے بلاگز سے واقف نہیں ہیں تو درج ذیل بلاگ ایگریگیٹر سائٹ سے بلاگز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

https://www.urduweb.org/planet/

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک