اُس راہ پہ جانے سے پہلے اسباب سنبھال کے رکھ لینا

غزل

اُس راہ پہ جانے سے پہلے اسباب سنبھال کے رکھ لینا
کچھ اشک فراق سے لے لینا، کچھ پُھول وصال کے رکھ لینا

اک عُمر کی محرومی اپنے سِینے میں چُھپانا مشکل ہے
جب حدِّ وضاحت آ جائے یہ تِیر نکال کے رکھ لینا

اک حیرت دل میں جھانکے گی آنکھوں میں ستارے ٹانکے گی
جو آنسو تم پر بھاری ہوں دامن میں اُچھال کے رکھ لینا

اک ایسی چُپ طاری کرنا جیسے گویائی سے عاری ہو
خاموشی کے گہوارے میں آوازیں پال کے رکھ لینا

چہرے سے خوشی ثابت کرنا جیسے ہر دُکھ سے غافل ہو
ہاں بابِ تخاطب آئے تو الفاظ ملال کے رکھ لینا

وہ شام بہت جلد آئے گی جو تم کو تم سے ملائے گی
اُس شام تم اپنی آہوں سے کچھ نغمے ڈھال کے رکھ لینا

اس کارِ جہاں کی وحشت پر جب کوئی دستاویز لکھو
سب سے آخر میں کچھ صفحے اپنے احوال کے رکھ لینا

تائید کے سنّاٹے سے اُٹھو، تردید کے شور میں آ جاؤ
اک تلخ جواب سے بہتر ہے الزام سوال کے رکھ لینا

یہ خوابوں، زخموں، داغوں کی ترتیب مناسب ہے لیکن
اس زادِ سفر میں عزمؔ کہیں کچھ صدمے حال کے رکھ لینا

عزم بہزادؔ

1 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

Huma Anwar کہا...

کیا خوب غزل ہے، کس کمال شخصیت کی
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں۔۔۔

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک