نہ جب دکھلائے کچھ بھی آنکھ پیارے

غزل

نہ جب دکھلائے کچھ بھی آنکھ پیارے
تَو پھرتُو اپنے اندر جھانک پیارے

طلاطم خیز ہے جو دل کا دریا
سفالِ دشتِ وحشت پھانک پیارے

اگر مَہتاب دل کا بجھ گیا ہے
سرِ مژگاں ستارے ٹانک پیارے

ہے اُلفت سے دگر اظہارِ اُلفت
نہ اک لاٹھی سے سب کو ہانک پیارے

محمد احمدؔ

2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

راحیلؔ فاروق کہا...

نیاز مندی کی رسید قبول ہو!

گمنام کہا...

نہ جب دکھلائے کچھ بھی آنکھ پیارے
تَو پھرتُو اپنے اندر جھانک پیارے

ہے اُلفت سے دگر اظہارِ اُلفت
نہ اک لاٹھی سے سب کو ہانک پیارے

واہ واہ واہ! کیا کہنے احمد بھائی! یہ دو اشعار تو بہت ہی عمدہ ہیں :)
افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہر کوئی اپنی حرکتوں پر نظرِ ثانی نہیں فرماتا۔ کچھ لوگ صرف اگلے کی غلطیاں گنوانے میں لگے رہتے ہیں اور وہ بھی ایسی غلطیاں جو کہ ہو سکتا ہے کہ اس سے سرزد ہوئِی ہی نہ ہوں۔ مگر ان بیچاروں کا بھی قصور نہیں ہوتا۔ اب ایسا شخص کرے بھی تو کیا کرے جس کی آنکھوں پر بدگمانی اور تعصب کی پٹی سختی سے بندھی ہو۔ یہ چاہیں بھی تو کبھی اتار کر نہیں پھینک پاتے۔ ان بیچاروں کو صرف دوسروں کو جوتا مار کر ہی خوشی نصیب ہوتی ہے۔ ان کو کسی سے کوئی ہمدردی یا محبت وغیرہ نہیں ہوتی۔ یہ کبھی کسی کا خیال نہیں کر سکتے۔

بہت خوش رہیں :)

سائرہ

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک