شبنم افسانی

شبنم افشانی

اے غریبِ شہر تیری رب نگہبانی کرے
لوڈ شیڈنگ کے ستائے، تجھ پہ آسانی کرے
گر نہیں تجھ کو میسر گرمی دانوں کا سفوف٭
آسماں تیری کمر پر شبنم افشانی کرے

محمد احمدؔ​

* prickly heat powder​


میرا دل بدل دے

جنید جمشید کا پڑھا ہوا یہ کلام مجھے بہت اچھا لگا۔ یہ دعائیہ کلام ہے اور اس کی شاعری بھی بہت خوب ہے۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ شاعری جنید جمشید صاحب کی ہی ہے یا کسی اور کی ہے۔ تاہم یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسلام میں دعا کو منظوم کرنا پسند نہیں کیا جاتا۔

میرا دل بدل دے

میرا غفلت میں ڈوبا دل بدل دے​
ہوا و حرص والا دل بدل دے​
الٰہی فضل فرما ،دل بدل دے​
بدل دے دل کی دنیا ،دل بدل دے​
گناہ گاری میں کب تک عمر کاٹوں؟؟​
بدل دے میرا رستہ، دل بدل دے​
ہٹا لوں آنکھ اپنی ماسواسے​
جیوں میں تیری خاطر، دل بدل دے​
کروں قربان اپنی ساری خوشیاں​
تو اپنا غم عطا کر، دل بدل دے​
سہل فرما مسلسل یاد اپنی​
الٰہی رحم فرما،دل بدل دے​
پڑا ہوں تیرے در پر دل شکستہ​
رہوں کیوںدل شکستہ، دل بدل دے​
تیرا ہو جاؤں اتنی آرزو ہے​
بس اتنی ہے تمنا ،دل بدل دے​
میری فریاد سن لے میرے مولا​
بنا لے اپنا بندہ ،دل بدل دے​
دلِ مغموم کو مسرور کر دے​
دلِ بے نور کو پر نور کر دے​
میرا ظاہر سنور جائے الٰہی​
میرے باطن کی ظلمت دور کر دے​


تحریف در غزلِ شکیب جلالی :)

شکیب جلالی کی معروف غزل "یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں" اور ہماری مشقِ ستم، آپ احباب کے ذوقِ سلیم کی نذر: 

یہ جو دیوانے سے چھ آٹھ نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحبِ بمباٹ1 نظر آتے ہیں

تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں
ورنہ یہ لوگ تو فِٹ فاٹ نظر آتے ہیں

دور تک کوئی ستارہ ہے نہ کوئی جگنو
ان دنوں آپ بھی کچھ شارٹ2 نظر آتے ہیں

ان سموسوں میں حراروں کے سوا کچھ بھی نہیں
آپ کھا کھا کے بھی اسمارٹ3 نظر آتے ہیں

جب سے اسپاٹ کی فکسکنگ کا سنا ہے شہرہ
اب تو ہرمیچ میں اسپاٹ4 نظر آتے ہیں

ہو گئے وہ بھی سگِ عاملِ تطہیرِ لباس
اب کبھی گھر تو کبھی گھاٹ نظر آتے ہیں

کچے دھاگے سے کھنچے آتے ہیں اب بھی لیکن
کچے دھاگے میں کئی ناٹ5 نظر آتے ہیں

اُن سے کہتا تھا کہ مت اتنی مٹھائی کھائیں
دیکھیے اب وہ شوگر پاٹ6 نظر آتے ہیں

محمد احمد


فرہنگ
1۔ بمباٹ : ایک قسم کی دیسی شراب 
2- short
3- smart
4- spot
5- knot
6- sugar pot

باقی صدیقی کی سدا بہار غزل

غزل

داغ دل ہم کو یاد آنے لگے 
لوگ اپنے دیئے جلانے لگے 

کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم 
عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے 

یہی رستہ ہے اب یہی منزل 
اب یہیں دل کسی بہانے لگے 

خود فریبی سی خود فریبی ہے 
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے 

اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں 
ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے 

اس بدلتے ہوئے زمانے میں 
تیرے قصے بھی کچھ پرانے لگے 

رخ بدلنے لگا فسانے کا 
لوگ محفل سے اٹھ کے جانے لگے 

ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے 
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے 

اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو 
تیر پر اڑ کے بھی نشانے لگے 

ہم تک آئے نہ آئے موسم گل 
کچھ پرندے تو چہچہانے لگے 

شام کا وقت ہو گیا باقیؔ 
بستیوں سے شرار آنے لگے 

باقیؔ صدیقی

FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک