غزل۔ اپنے خونِ وفا میں نہائے ہوئے زخم اپنے بدن پر سجائے ہوئے ۔ اعجاز رحمانی

غزل

اپنے خونِ وفا میں نہائے ہوئے زخم اپنے بدن پر سجائے ہوئے
قاتلوں سے کہو اب نہ زحمت کریں ہم صلیب اپنی خود ہیں اُٹھائے ہوئے

ہر زباں بے سُخن، ہر جبیں پر شکن وحشتِ رقص میں انجمن انجمن
اتنا غمناک ماحول ہے شہر کا اک زمانہ ہوا مُسکرائے ہوئے

معتبر کیا ہے اور کیا ہے نا معتبر، اپنا اپنا خیال اپنی اپنی نظر
لوگ کانٹوں سے بچتے ہیں گلزار میں، ہم گلوں سے ہیں دامن بچائے ہوئے

ایک کیا سو نشیمن ہوں میرے اگر، وہ بھی قربان گلزار کے نام پر
آشیاں کا مجھے غم نہیں ، غم یہ ہے، پھول شعلوں کی زد میں ہیں آئے ہوئے

سطحِ دریا ہے چشمِ تماشائی میں، جھانکتا کون ہے دل کی گہرائی میں
اشک آنکھوں میں اس طرح محفوظ ہیں، جیسے موتی صدف ہو چھپائے ہوئے

رہگزاروں کے سب نقش معدوم ہیں، پیڑ ہیں بھی تو سائے سے محروم ہیں
جن کو آتا ہے شیشہ گری کا ہنر، سنگ ہاتھوں میں ہیں وہ اُٹھائے ہوئے

ساغرِ شب کو لبریز کر دیں گے ہم، صبح کو رنگ آمیز کر دیں گے ہم
ضد پہ قائم ہیں اپنی ہوائیں اگر، مشعلِ جاں ہیں ہم بھی جلائے ہوئے

ہے اسی شہر کا نام شہرِ طرب، لوگ بھی ہیں عجب، شہر بھی ہے عجب
پیار ہونٹؤں پہ ہے، پھول ہاتھوں میں ہے، آستیں میں ہیں خنجر چھپائے ہوئے

دل کی باتوں میں ہرگز نہ آئیں گے ہم، اب فریبِ تبسم نہ کھائیں گے ہم
زندگی بھر کا اعجازؔ ہے تجربہ ، دوست دشمن ہیں سب آزمائے ہوئے

اعجاز رحمانی


بشکریہ : فلک شیر بھائی

کاپی پیسٹ اسپیشل

کرنل محمد خان کی ایک شاہکار تحریر

رضیہ ہماری توقع سے بھی زیادہ حسین نکلی اور حسین ہی نہیں کیا فتنہ گر قد و گیسو تھی۔

پہلی نگاہ پر ہی محسوس ہوا کہ initiative ہمارے ہاتھ سے نکل کر فریقِ مخالف کے پاس چلا گیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ پہلا سوال بھی ادھر سے ہی آیا:

"تو آپ ہیں ہمارے نئے نویلے ٹیوٹر؟"

اب اس شوخ سوال کا جواب تو یہ تھا کہ "تو آپ ہیں ہماری نئی نویلی شاگرد؟"

لیکن سچی بات یہ ہے کہ حسن کی سرکار میں ہماری شوخی ایک لمحے کے لیئے ماند پڑ گئی اور ہمارے منہ سے ایک بے جان سا جواب نکلا:

" جی ہاں، نیا تو ہوں ٹیوٹر نہیں ہوں۔ مولوی صاحب کی جگہ آیا ہوں"

"اس سے آپ کی ٹیوٹری میں کیا فرق پڑتا ہے؟"

"یہی کہ عارضی ہوں"

"تو عارضی ٹیوٹر صاحب۔ ہمیں ذرا اس مصیبت سے نجات دلا دیں"

رضیہ کا اشارہ دیوانِ غالب کی طرف تھا۔ میں نے قدرے متعجب ہو کر پوچھا:

"آپ دیون غالب کو مصیبت کہتی ہیں؟"

"جی ہاں! اور خود غالب کو بھی،"

"میں پوچھ سکتا ہوں کہ غالب پر یہ عتاب کیوں؟:

"آپ ذرا آسان اردو بولیئے۔ عتاب کسے کہتے ہیں؟"

"عتاب غصے کو کہتے ہیں۔"

"غصہ؟ ہاں غصہ اس لئے کہ غالب صاحب کا لکھا تو شاید وہ خود بھی نہیں سمجھ سکتے۔ پھر خدا جانے پورا دیوان کیوں لکھ مارا؟:

"اس لئے کہ لوگ پڑھ کر لذت اور سرور حاصل کریں"

"نہیں جناب۔ اس لئے کہ ہر سال سینکڑوں لڑکیاں اردو میں فیل ہوں"

"محترمہ۔ میری دلچسپی فقط ایک لڑکی میں ہے، فرمایئے آپ کا سبق کس غزل پر ہے؟"

جواب میں رضیہ نے ایک غزل کے پہلے مصرع پر انگلی رکھ دی لیکن منہ سے کچھ نہ بولی۔ میں نے دیکھا تو غالب کی مشہور غزل تھی۔

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا

میں نے کہا:

"یہ تو بڑی لا جواب غزل ہے ذرا پڑھیئے تو۔"

"میرا خیال ہے آپ ہی پڑھیں ۔ میرے پڑھنے سے اس کی لا جوابی پر کوئی ناگوار اثر نہ پڑے"

مجھے محسوس ہوا کہ ولایت کی پڑھی ہوئی رضیہ صاحبہ باتونی بھی ہیں اور ذہین بھی لیکن اردو پڑھنے میں غالباً اناڑی ہی ہیں۔ میں نے کہا:

"میرے پڑھنے سے آپ کا بھلا نہ ہوگا۔ آپ ہی پڑھیں کہ تلفظ بھی ٹھیک ہو جائے گا"

رضیہ نے پڑھنا شروع کیا اور سچ مچ جیسے پہلی جماعت کا بچہ پڑھتا ہے۔

" یہ نہ تھی ہماری قس مت کہ وصل۔۔۔ ۔۔۔ ۔"

میں نے ٹوک کر کہا:

"یہ وصل نہیں وصال ہے، وصل تو سیٹی کو کہتے ہیں۔"

رضیہ نے ہمیں سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ ہم ذرا مسکرائے اور ہمارا اعتماد بحال ہونے لگا۔

رضیہ بولی:
"اچھا۔ وصال سہی۔ وصال کے معنی کیا ہوتے ہیں؟"

"وصال کے معنی ہوتے ہیں ملاقات، محبوب سے ملاقات۔ آپ پر مصرع پڑھیں۔"

رضیہ نے دوبارہ مصرع پڑھا۔ پہلے سے ذرا بہتر تھا لیکن وصال اور یار کو اضافت کے بغیر الگ الگ پڑھا۔ اس پر ہم نے ٹوکا۔

"وصال یار نہیں وصالِ یار ہے۔ درمیان میں اضافت ہے۔"

"اضافت کیا ہوتی ہے؟ کہاں ہوتی ہے؟"

"یہ جو چھوٹی سی زیر نظر آرہی ہے نا آپ کو، اسی کو اضافت کہتے ہیں۔"

"تو سیدھا سادا وصالے یار کیوں نہیں لکھ دیتے؟"

"اس لئے کہ وہ علما کے نزدیک غلط ہے۔"۔۔۔ ۔۔۔ یہ ہم نے کسی قدر رعب سے کہا۔

علما کا وصال سے کیا تعلق ہے؟"

" علما کا تعلق وصال سے نہیں زیر سے ہے۔"

"اچھا جانے دیں علما کو۔ مطلب کیا ہوا؟"

"شاعر کہتا ہے کہ یہ میری قسمت ہی میں نہ تھا کہ یار سے وصال ہوتا۔"

"قسمت کو تو غالب صاحب درمیان میں یونہی گھسیٹ لائے، مطلب یہ کہ بے چارے کو وصال نصیب نہ ہوا"

"جی ہاں کچھ ایسی ہی بات تھی۔"

"کیا وجہ؟"

"میں کیا کہہ سکتا ہوں؟"

"کیوں نہیں کہہ سکتے ۔ آپ ٹیوٹر جو ہیں۔"

"شاعر خود خاموش ہے۔"

"تو شاعر نے وجہ نہیں بتائی مگر یہ خوش خبری سنادی کہ وصال میں فیل ہوگئے؟"

" جی ہاں فی الحال تو یہی ہے۔ آگے پڑھیں۔"

رضیہ نے اگلا مصرع پڑھا۔ ذرا اٹک اٹک کر مگر ٹھیک پڑھا:

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

میں نے رضیہ کی دلجوئی کے لئے ذرا سرپرستانہ انداز میں کہا:

"شاباش، آپ نے بہت اچھا پڑھا ہے۔"

"اس شاباش کو تو میں ذرا بعد میں فریم کراؤں گی۔ اس وقت ذرا شعر کے پورے معنی بتادیں۔"

ہم نے رضیہ کا طنز برداشت کرتے ہوئے کہا:

"مطلب صاف ہے، غالب کہتا ہے قسمت میں محبوبہ سے وصال لکھا ہی نہ تھا۔ چنانچہ اب موت قریب ہے مگر جیتا بھی رہتا تو وصال کے انتظار میں عمر کٹ جاتی۔"

" توبہ اللہ، اتنا Lack of confidence یہ غالب اتنے ہی گئے گزرے تھےِ؟"

گئے گزرے؟ نہیں تو۔۔۔ غالب ایک عظیم شاعر تھے۔"

"شاعر تو جیسے تھے، سو تھے لیکن محبت کے معاملے میں گھسیارے ہی نکلے"

بشکریہ

شکرقندی کا المیہ

شکرقندی کا المیہ
مرتضیٰ برلاس سے معذرت کے ساتھ

سبزیوں کے حلقے میں، ہم وہ کج مقدر ہیں
گاجروں میں مولی ہیں، مولیوں میں گاجر ہیں




سرگوشی: شعر جو تختہء مشق بنا :)

دوستوں کے حلقے میں ہم و کج مقدر ہیں
افسروں میں شاعر ہیں، شاعروں میں افسر ہیں مرتضیٰ برلاس

احوالِ ملاقات . فیض صاحب سے معذرت کے ساتھ​ (تضمین)

احوالِ ملاقات
فیض صاحب سے معذرت کے ساتھ​

وہ تو کچھ چُپ چُپ رہی پر اُس کے پیارے بھائی نے‎
چار چھ مکے بھی مارے، آٹھ دس لاتوں کے بعد‎
اُس نے اپنے بھائی سے پوچھا یہ حضرت کون تھے؟
"ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد"​

تضمین از محمد احمدؔ​


جوش ملیح آبادی اور فیس بک ۔۔۔ تحریف در غزلِ جوش

جوش ملیح آبادی کی ایک خوبصورت غزل کسی شوخ ساعت میں  ہماری مشقِ ستم کا شکار ہو گئی تھی۔ غزل کی اس تازہ شکل میں جوش صاحب قتیلِ فیس بک ہو کر رہ گئے ہیں اور اسی بات کی دہائی جناب اس غزل میں دے رہے ہیں۔

ملاحظہ فرمائیے۔


فیس بک دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا
جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا

وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں مینشن تجھ کو
جن کو تیری نگہِ لطف نے برباد کیا

نوٹیفائیر نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
جب میں لاگ آف ہوا، تو نے مجھے یاد کیا

اے میں سو جان سے اس طرزِ تکلّم کے نثار
آپ نے ٹیگ کیا اور کچھ ارشاد کیا

اس کا رونا نہیں ان فرینڈ کیا تم نے مجھے
اس کا غم ہے کہ بہت دیر سے آزاد کیا

اتنا مانوس ہوں 'فطرت' سے، کہ لی جب چُٹکی
جھک کے میں نے یہ کہا، مجھ سے کچھ ارشاد کیا

مجھ کو تو ہوش نہیں، میں تو وہاں ٹیگ نہ تھا
لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا​

پس نوشت:

اِس دھماچوکڑی میں فرینڈ کی "ر" کہیں گر گرا گئی ہے، تاہم یہ انگریزی ہے اور اردو کے برخلاف کہ جس میں صرف الف کا ہی وصال ہوا کرتا ہے، انگریزی میں وصال اتنی عنقا شے نہیں ہے سو ہم اس اجازت کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ :)

ویسے انگریزی میں کہیں کہیں "ر" کی ادائیگی آدھی یا چوتھائی بھی رہ جاتی ہے اور چھوٹے موٹے حروف جگجیت سنگھ کی طرح کھا جانا عیب نہیں سمجھا جاتا۔ 

غزل ۔ سوزِ غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا ۔ جوش ملیح آبادی

غزل

سوزِ غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا
جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا

وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ
جن کو تیری نگہِ لطف نے برباد کیا

دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
جب چلی سرد ہوا، میں نے تجھے یاد کیا

اے میں سو جان سے اس طرزِ تکلم کے نثار
پھر تو فرمائیے، کیا آپ نے ارشاد کیا

اس کا رونا نہیں کیوں تم نے کیا دل برباد
اس کا غم ہے کہ بہت دیر میں برباد کیا

اتنا مانوس ہوں فطرت سے، کلی جب چٹکی
جھک کے میں نے یہ کہا، مجھ سے کچھ ارشاد کیا

مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شاید
لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا

جوش ملیح آبادی

تم ہوتے ہو جہاں حماقت ہوتی ہے



جاوید اختر ہمارے پسندیدہ شاعر ہیں۔ اُن کی ایک غزل جو ہمیں  بہت پسند ہے ایک دن بیٹھے بیٹھے دماغ میں اُلٹ پُلٹ ہوگئی۔ یہ نیا ورژن قارئینِ بلاگ کے لئے پیش ہے۔

تم ہوتے ہو جہاں حماقت ہوتی ہے
میں ہوتا ہوں، میری ہمت ہوتی ہے

اکثر وہ کہتے ہیں تکلف مت کرنا
اکثر کیوں کہتے ہیں حیرت ہوتی ہے

چاروں اور سے دیکھتے ہیں اُس شوخ کو ہم
ڈبے پر ہر شے کی قیمت ہوتی ہے

ماں کے ہاتھ میں چپل بھی ہے دھیا ن رہے
یہ مانا پیروں میں جنت ہوتی ہے

عادی ہوں میں دنیا بھر کی باتوں کا
جانتا ہوں میں اُن کو عادت ہوتی ہے

بسمہ اللہ پڑھ کر وہ پانی ڈالتا ہے
دودھ میں اچھی خاصی برکت ہوتی ہے​

غزل ۔ غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہے​۔ جاوید اختر

غزل​
غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہے​
دنیا میں ہر شے کی قیمت ہوتی ہے​
اکثر وہ کہتے ہیں وہ بس ہیں میرے​
اکثر کیوں کہتے ہیں حیرت ہوتی ہے​
تب ہم دونوں وقت چُرا کر لاتے تھے​
اب ملتے ہیں جب بھی فرصت ہوتی ہے​
اپنی محبوبہ میں اپنی ماں دیکھیں​
بِن ماں کے بچوں کی فِطرت ہوتی ہے​
اک کشتی میں ایک قدم ہی رکھتے ہیں​
کچھ لوگوں کی ایسی عادت ہوتی ہے​
جاوید اختر​

شبنم افسانی

شبنم افشانی

اے غریبِ شہر تیری رب نگہبانی کرے
لوڈ شیڈنگ کے ستائے، تجھ پہ آسانی کرے
گر نہیں تجھ کو میسر گرمی دانوں کا سفوف٭
آسماں تیری کمر پر شبنم افشانی کرے

محمد احمدؔ​

* prickly heat powder​


میرا دل بدل دے

جنید جمشید کا پڑھا ہوا یہ کلام مجھے بہت اچھا لگا۔ یہ دعائیہ کلام ہے اور اس کی شاعری بھی بہت خوب ہے۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ شاعری جنید جمشید صاحب کی ہی ہے یا کسی اور کی ہے۔ تاہم یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسلام میں دعا کو منظوم کرنا پسند نہیں کیا جاتا۔

میرا دل بدل دے

میرا غفلت میں ڈوبا دل بدل دے​
ہوا و حرص والا دل بدل دے​
الٰہی فضل فرما ،دل بدل دے​
بدل دے دل کی دنیا ،دل بدل دے​
گناہ گاری میں کب تک عمر کاٹوں؟؟​
بدل دے میرا رستہ، دل بدل دے​
ہٹا لوں آنکھ اپنی ماسواسے​
جیوں میں تیری خاطر، دل بدل دے​
کروں قربان اپنی ساری خوشیاں​
تو اپنا غم عطا کر، دل بدل دے​
سہل فرما مسلسل یاد اپنی​
الٰہی رحم فرما،دل بدل دے​
پڑا ہوں تیرے در پر دل شکستہ​
رہوں کیوںدل شکستہ، دل بدل دے​
تیرا ہو جاؤں اتنی آرزو ہے​
بس اتنی ہے تمنا ،دل بدل دے​
میری فریاد سن لے میرے مولا​
بنا لے اپنا بندہ ،دل بدل دے​
دلِ مغموم کو مسرور کر دے​
دلِ بے نور کو پر نور کر دے​
میرا ظاہر سنور جائے الٰہی​
میرے باطن کی ظلمت دور کر دے​


تحریف در غزلِ شکیب جلالی :)

شکیب جلالی کی معروف غزل "یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں" اور ہماری مشقِ ستم، آپ احباب کے ذوقِ سلیم کی نذر: 

یہ جو دیوانے سے چھ آٹھ نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحبِ بمباٹ1 نظر آتے ہیں

تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں
ورنہ یہ لوگ تو فِٹ فاٹ نظر آتے ہیں

دور تک کوئی ستارہ ہے نہ کوئی جگنو
ان دنوں آپ بھی کچھ شارٹ2 نظر آتے ہیں

ان سموسوں میں حراروں کے سوا کچھ بھی نہیں
آپ کھا کھا کے بھی اسمارٹ3 نظر آتے ہیں

جب سے اسپاٹ کی فکسکنگ کا سنا ہے شہرہ
اب تو ہرمیچ میں اسپاٹ4 نظر آتے ہیں

ہو گئے وہ بھی سگِ عاملِ تطہیرِ لباس
اب کبھی گھر تو کبھی گھاٹ نظر آتے ہیں

کچے دھاگے سے کھنچے آتے ہیں اب بھی لیکن
کچے دھاگے میں کئی ناٹ5 نظر آتے ہیں

اُن سے کہتا تھا کہ مت اتنی مٹھائی کھائیں
دیکھیے اب وہ شوگر پاٹ6 نظر آتے ہیں

محمد احمد


فرہنگ
1۔ بمباٹ : ایک قسم کی دیسی شراب 
2- short
3- smart
4- spot
5- knot
6- sugar pot

باقی صدیقی کی سدا بہار غزل

غزل

داغ دل ہم کو یاد آنے لگے 
لوگ اپنے دیئے جلانے لگے 

کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم 
عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے 

یہی رستہ ہے اب یہی منزل 
اب یہیں دل کسی بہانے لگے 

خود فریبی سی خود فریبی ہے 
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے 

اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں 
ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے 

اس بدلتے ہوئے زمانے میں 
تیرے قصے بھی کچھ پرانے لگے 

رخ بدلنے لگا فسانے کا 
لوگ محفل سے اٹھ کے جانے لگے 

ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے 
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے 

اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو 
تیر پر اڑ کے بھی نشانے لگے 

ہم تک آئے نہ آئے موسم گل 
کچھ پرندے تو چہچہانے لگے 

شام کا وقت ہو گیا باقیؔ 
بستیوں سے شرار آنے لگے 

باقیؔ صدیقی

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک