شکریہ اردو محفل


اگر انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج کا ذکر کیا جائے تو پہلا خیال اردو محفل کا ہی آتا ہے۔ اردو محفل بلاشبہ انٹرنیٹ پر یونیکوڈ اردو کو باقاعدہ متعارف کروانے والا پہلا فورم ہے۔ ہماری خوش نصیبی کہ ہم ایک عرصے اس فورم کے ساتھ منسلک رہے۔ ہم اسے اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ہم اردو محفل کی اردو اور اردو دان طبقہ کے لئے جو خدمات ہیں اُن کا کھلے دل سے اعتراف کریں اور ایک بار پھر شکریہ ادا کریں۔


اردو یونیکوڈ کی ترویج

ایک زمانہ تھا کہ انٹرنیٹ پر اردو زبان نظر ہی نہیں آتی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ جب انٹرنیٹ پر اردو نظر آنا شروع ہوئی تو وہ تصویری شکل میں تھی۔ یعنی لوگ باگ ان پیچ پر اردو مواد کمپوز کرتے اور اُس کی تصاویر بنا کر مختلف سائٹس پر چسپاں کر دیتے تھے۔ یہ اردو محفل ہی کے لوگ تھے کہ جنہوں نے اردو دان طبقے کو یہ احساس دلایا کہ تصویری اردو ، اردو کی ترویج میں معاون ثابت نہیں ہوتی کہ نہ تو اسے سرچ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ عبارت کسی اور کام آنے ولی ہے ۔ اور یہ کہ یونیکوڈ اردو ہی اردو کا مستقبل ہے۔ ان لوگوں کی یہ محنت رنگ لائی اور آہستہ آہستہ لوگ اردو رسم الخط میں لکھی تحاریر براہِ راست انٹرنیٹ پرشامل کرنے لگےاور رفتہ رفتہ تصویری اردو سے جان چھوٹ گئی۔ اس اہم کام پر ہم اردو محفل کے شکر گزار ہیں۔

اردو کمپیوٹنگ

انٹرنیٹ کے دنیا میں اردو کی ترویج اردو محفل انتظامیہ اور اراکین کی خاص ترجیح رہی ۔ انہوں نے اردو کمپیوٹنگ کو باسہولت بنانے کے لئے شبانہ روز محنت کی۔ اردو لوکلائزیشن، سوفٹ وئیر ڈیولپمنٹ، ٹائپو گرافی وغیرہ میں بہت کام ہوا جو کہ اردو دان طبقے کے لئے بہت مفید ثابت ہوا۔ مزید براں اردو محفل پر بہت سے ٹیوٹوریلز بھی گاہے بگاہے شامل ہوتے رہے جو نوواردان کے لئے مشعلِ راہ ثابت ہوئے۔

اردو بلاگنگ کی ترویج بھی اردو محفل کا خاصہ رہی ہے اور شروع کے دور میں بننے والے بیش تر بلاگ محفلین کے ہی تھے۔ خود ہمیں بھی بلاگ لکھنے کی ترغیب اردو محفل سے ہی ملی۔ یعنی اگر اردو محفل نہ ہوتی تو شاید آج رعنائیِ خیال بھی نہ ہوتا۔ ہماری جانب سے شکریہ !

اردو ویب لائبریری

اردو ادب کی ترویج کے لئے اردو محفل کے زیرِ اہتمام بہت سی کتابوں کو ڈجیٹائز کرنے کا کام شروع کیا گیا اور شروع کے ادوار میں اس سلسلے میں خاطر خواہ کام ہوا۔ آج بھی ہمیں جو بہت سی اردو ای بک یونیکوڈ فارم میں مل جاتی ہیں، اُن میں کہیں نہ کہیں محفل یا محفلین کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ شکریہ!

ادب پرور ماحول

یہ اردو محفل اور محفلین کی خوش قسمتی رہی ہے کہ یہاں اردو ادب سے علاقہ رکھنے والے اساتذہ ہر دور میں موجود رہے اور مبتدی اراکین کی داد رسی اور اصلاح کاکام ان احباب نے ہر دور میں بے غرض ہو کر کیا ۔ یہ ایک ایسی بیش بہا نعمت ہے کہ جوبہت سے دیگر فورمز پر مفقود رہی۔خود خاکسار کے لئے ان احباب سے سیکھنے کے مواقع ہر دور میں حاضر رہے اور خاکسار نے حسبِ حیثیت آپ احباب سے بہت کچھ سیکھا۔ میں بطورِ خصوصی جناب اعجاز عبید صاحب، جناب وارث صاحب اور جناب یعقوب آسی صاحب کی خدمات کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

گفتگو کا پلیٹ فارم

انٹرنیٹ کی دنیا میں یوں تو گفتگو کے بہت سے پلیٹ فارم موجود تھے لیکن بیش تر یا تو انگریزی زبان کے تھے یا پھر رومن اردو تک محدود تھے۔ اردو محفل کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ یہاں گفتگو کا ایک ایسا فورم موجود تھا جہاں صرف اردو جاننے والے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار اپنی زبان میں کر سکتے تھے۔ اور یہ احساس بہت خوبصورت تھا۔ خاکسار نے اپنی ایک نظم میں اردو محفل کی اس خصوصیت کا شکریہ ادا کیا ہے جسے آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں اردو محفل کے توسط سے ایسے اچھے دوست ملے کہ جن کی بابت ہم شکریہ بھی ادا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے۔ یہ اردو محفل کا پلیٹ فارم ہی تھا کہ جس کی وساطت سے ہم ایسے دوستوں سے متعارف ہوئے کہ جو جغرافیائی لحاظ سے تو ہم سے قریب نہیں تھے لیکن دل کے بہت قریب نکلے۔ اِن احباب کی دوستی آج بھی ہمارا اثاثہ ہے۔

آخری شکریہ

اور آخری شکریہ یہ کہ اردو محفل نے ہمیں یہ سکھایا کہ انسان کو کسی بھی چیز کا اتنا عادی نہیں ہونا چاہیے کہ اُسے چھوڑنے کا خیال ہی اُسے لرزا دے۔ ایسی باتیں مشکل سے ہی سمجھ آتی ہیں لیکن سکھانے والے اچھے ہوں تو آ ہی جاتی ہیں۔ سو کسی حد تک ہم بھی سیکھ ہی گئے۔

نہ جاننے والوں کے لئے بتا دیتے ہیں کہ محفل آج سے ڈیڑھ دو ماہ قبل کچھ طبقاتی کشیدگی کا شکار رہی۔ چونکہ ہم بھی اپنی سو چ رکھتے ہیں سوہمارا جھکاؤ بھی دو میں سے ایک طبقے کی طرف رہا اور اس کا اظہار بھی ہم نے گاہے گاہے کیا کہ اگر گفتگو کے ایسے اچھے پلیٹ فارم پر بھی انسان اپنے خیالات کا اظہار نہیں کرے گا تو کہاں کرے گا۔ بہرکیف اس دوران محفل انتظامیہ اپنی مصروفیات کے باوجود ان معاملات سے نمٹنے کی کما حقہ کوشش کرتی رہی اور اپنے تئیں کچھ اقدامات کرکے معاملات بہتر بھی کر لیے۔

اب جب کہ صورتحال بہت بہتر تھی اور محفل پر محفل کی سالگرہ کی تقریبات عروج پر تھیں تو نہ جانے انتظامیہ کس کی کس بات سے مشتعل ہوئی اور انتظامی تبدیلیوں کے نام پر پھر جانبدارانہ اقدامات کرتی نظر آئی۔ ہم محفل پر آن لائن ہی تھے کہ اچانک ہمیں اپنی تین پوسٹس اور ایک کیفیت نامے کے حذف ہونے کی اطلاع ملی اور اُس کے بعد ہمارا اکاؤنٹ جزوقتی طور پر معطل ہوگیا۔

حذف ہونے والی تین پوسٹس میں سے ایک تو ایسی تھی کہ جس میں ہم نے محفل میں کشیدگی کے دوران افتخار عارف کے کچھ اشعار جمع کیے تھے کہ جو محفل کی صورتحال سے کچھ نہ کچھ مماثلت رکھتے تھے یا اُن کی بابت ایسا سمجھا جا سکتا تھا۔ یہ ہماری واحد "شر انگیزی" تھی حالانکہ اس پوسٹ میں بھی اشعار کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔

ہمیں حیرت اس بات پر ہوئی کہ نبیل بھیا نے یا اتنظامیہ کے کسی اور رُکن نے پسندیدہ کلام میں لگائی جانے والی افتخار عارف کی دو مزید غزلیات بھی حذف کر دیں۔ شاید اس سراسیمگی کی کیفیت میں اُنہیں رسی بھی سانپ نظر آ رہی ہے۔ اسی طرح ہمارےایک کیفیت نامے کا شعر جو کہ ہم نے نہ جانے کس خیال میں کیفیت نامے میں ارسال کر دیا۔ اُسے بھی حذف کر دیا گیا۔ حالانکہ اس کا تعلق محفل اور محفل انتظامیہ سے ہرگز نہیں تھا۔ شعر یہ تھا:


میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب
میرے خلاف زہر اُگلتا پھر ےکوئی

ہم جون ایلیا کے لہجے کی تاثیر کے معترف تو ہیں ہی لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم تھا کہ تیر پر اُڑ کر نشانے از خود بھی لگ سکتے ہیں۔ :)

بہرکیف اس کیفیت نامے کا محفل یا انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی افتخار عارف کی آخری دو غزلوں کا کوئی واسطہ اس سب معاملے سے تھا۔ سُنتے ہیں کہ انتظامیہ نے ہم سمیت کچھ لوگوں کے کچھ اختیارات کو محدود کیا ہے۔ بہت اچھی بات ہے وہ کر سکتے ہیں کہ اُن کو اختیار ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر محفل انتظامیہ شروع سے ہی ایسی حساسیت والی ہوتی تو ہم تو پسندیدہ اشعار کے انتخاب کے باعث 2007 میں ہی انتظامیہ کو پیارے ہو جاتے۔ :)

سب سے آخری بات یہ ہے کہ ہمیں محفل انتظامیہ سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے اور درج بالا مندرجات اس سلسلے میں ہماری سوچ کی عکاسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ محفل انتظامیہ صاحبِ اختیار ہے اُن کا حق ہے کہ وہ اپنے فورم کو جیسے چاہیں چلائیں۔ یہ تحریر اپنے بلاگ پر اس لئے لگائی ہے کہ اگر کوئی دوست اسے پڑھنا چاہے تو یہ پڑھنے والوں کے لئے دستیاب رہے۔

اس آخری شکریے سے ماقبل محفل کی خدمات کے حوالے سے ہم نے جو اعترافات کیے ہیں وہ تمام تر تہہ دل سے کیے ہیں اور ہم واقعتاً ان شاندار کارناموں پر محفل انتظامیہ کے ممنون ہیں۔ بالخصوص ہم نبیل بھائی، ذکریا بھائی، سعود بھائی اور دیگر ابتدائی دور کے اراکین کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے اردو محفل کو اردو محفل بنایا۔

کسی کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اللہ نے چاہا تو محفل ایسے ہی آباد رہے گی۔

ہمارا ایک پرانا کیفیت نامہ، جسے شاید ہم نے کچھ پہلے لکھ دیا تھا:

دائم آباد رہے گی 'محفل'
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا

22 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

Unknown کہا...

صورت حال کو بہترین لفظوں میں قید کیا ہے۔۔۔

فلک شیر کہا...

یہ کب ہوا آخری حملہ؟
اس کا مطلب ہے کہ خدا حافظ کہنے کا وقت آ گیا ہے

Zulqarnain Sarwar کہا...

قابل افسوس۔۔۔۔۔ آپ جیسے لوگوں کا اس پلیٹ فارم سے جدا ہونا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ میری سمجھ میں یہ نہیں آیا کہ ایکا ایکی یہ دوبارہ کیا چکر چلا۔ بہرحال انتہائی افسوس ناک صورتحال۔

Mirza Zubair کہا...

ہم نے انتظامیہ کی جانبداری اور تسلط پسندی کو بخوبی جان لیا تھا اور جانا ترک کردیا

غدیر زہرا کہا...

انتہائی افسوس ناک

Muhammad Ahmed کہا...

فلک بھائی یہ ہفتے کی صبح کی بات ہے۔ :)

گمنام کہا...

شرپسند عناصر کا اعزازی عہدہ ملنے والے ممبران کافی تعداد میں ہیں. بظاہر یہ یکطرفہ کارروائی بطور احتجاج یا بطور سوگ.... سیاہ ڈی پی لگانے والے ممبران کے خلاف کی گئی ہے.

Muhammad Ahmed کہا...

زبیر بھائی ! آپ کی دور اندیشی کے تو ہم پہلے سے قائل ہیں۔ :) :)

Muhammad Ahmed کہا...

نین بھیا !بس ہوتا ہے ایسا بھی۔ :)

squarened کہا...

بہت افسوس ہوا پڑھ کر. آپ تو ہمیں سمجھانے والوں میں سے تھے...
مجھے تو شر انگیزی کا سرٹیفکیٹ پہلے ہی دے کر نکالا جا چکا تھا،اس لیے ابھی اس تحریر سے اس سانحہ کا علم ہوا

Shahzad Nasir Gillani کہا...

میں خود اس بات سے دلبرداشتہ ہوں مگر محفل سے کچھ ایسا انس ہو گیا ہے کہ چھوٹ نہیں سکتا

Muhammad Ahmed کہا...

@squarened

نہ جانے کیا بات ہے کہ محفل انتظامیہ عدم برداشت کی پالیسی پر گامزن ہے۔ بہرکیف جیسی اُن کی مرضی۔ کسی کو کیا فرق پڑنا ہے۔

Muhammad Ahmed کہا...

شہزاد ناصر صاحب! یہ بات درست ہے کہ محفل کی اپنی کشش ہے۔

squarened کہا...

ہمم، احمد بھائی مجھے تو کوئی خاص فرق نہیں پڑنا تھا اس لیے اپنی طرف سے کوشش یہی تھی کہ ان خرابیوں کی نشاندہی کر دوں جو ایک طبقہ کی ہر چیز برداشت اور دوسرے کی معمولی سی بات بھی عدم برداشت میں فرق کی وجہ سی پیدا ہو رہی ہیں مگر جب وہ سمجھنا ہی نہیں چاہتے تو واقعی کوئی کچھ نہیں کر سکتا.
مجھے دلی طور پر بہت افسوس ہے کہ آپ جیسے دیرینہ رکن کے ساتھ یہ افسوسناک صورتحال پیش آئی

Muhammad Ahmed کہا...

@squarened

اچھی بات ہے۔۔۔! ہماری بھی یہی کوشش تھی کہ کسی طرح معاملات بہتر بنائے جائیں۔ ورنہ جیسا کہ ہمے کہا تھا کہ بقول جون ایلیا:

ترکِ تعلقات کوئی مسئلہ نہیں
یہ تو وہ راستہ ہے کہ بس چل پڑے کوئی

ویسے یہ پوسٹ لگانے کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ احباب کی ہمدردیاں سمیٹی جائیں۔ اصل خیال یہ تھا کہ محفل کا شکریہ ادا کر دیا جائے اور مزید صرف یہ چاہتا تھا کہ اس معاملے کا جو ورژن ہمارے تئیں ہے وہ بھی دلچسپی رکھنے والوں کے لئے آشکار ہو جائے۔

squarened کہا...

احمد بھیا! آپ یقینا ہماری ہمدردی سے بالاتر ہیں. یہ اظہار افسوس آپ سمجھیں خود سے اور دیگر اردو داں طبقہ سے تھا.

aamir کہا...

یہ واقعی بہت افسوس ناک ہے ۔۔ میرا تو پچھلے دو ماہ سے محفل سے کوئی تعلق نہیں ۔۔ ابھی آپ کی تحریر سے ہی اندازہ ہوا کہ وہاں کیا چل رہا ہے ۔۔۔
اگر غیر جانبدار ہو کر ایک نظر دوڑائی جائے تو یہ دیکھ کے حیراننگی ہوتی ہے کہ محفل انتظامیہ کی ہٹ دھرمی سے جو لوگ محفل سے متنفر ہوئے ہیں ان میں محمد احمد ۔۔۔ راحیل فاروق ۔۔۔ چودھری عبدالقیوم ۔۔ ادب دوست ۔۔ نیرنگ خیال ۔۔ عاطف ملک ۔۔۔ squarenend ۔۔۔ بدرالفاتح ۔۔ لئیق احمد ۔۔ فلک شیر ۔۔۔ اور ان کے علاوہ نہ جانے کتنے لوگ ہیں ۔۔۔
پوری دنیا میں لوگوں کے اور طبقوں کے آپس میں اختلافات ہوتے ہیں ۔۔ اور انہیں ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہوتا ہے کہ کھلے دل سے ان کی بات سنی جائے ۔۔ اور پھر کسی نتیجے پہ پہنچا جائے ۔۔
لیکن یہاں تو نہ کسی کی بات سنی گئی اورنہ کسی کو صفائی کا موقع دیا گیا ۔۔
اور اب تو صاف نظر آ رہا ہے کہ محفل تباہی کے جس رستے پہ گامزن ہےایک وقت آئے گا کہ صرف فیس بک کی طرح چھچھور پن اور گھٹیا جُگت بازی رہ جائے گی وہاں ۔۔ اردو ادب کا نام لینے والا کوئی نہیں ہو گا ۔۔
اللہ ہم سب کو ہدایت دے ۔ آمین

گمنام کہا...

ahmer
افسوس صد افسوس
شائد یہ پاکستانی قوم کی نفسیات میں شامل ہے
جناب زہیر عبّاس صاحب کی پوسٹ میں باقاعدگی سے پڑہتا ہوں
اتفاق سے ان کی دو حالیہ پوسٹ کچھ کچھ اس معاملے سے متعلق ہیں
یعنی گروہ میں نئے افراد کی شمولیت، گروہ کا بڑا ہوجانا، اختلافات اور پھرالگ گروہ کا بن جانا
وہ بتاتے ہیں کی انسان میں کیوں کہ نقطہ نظر کے حوالے سے ایک بہتر رویہ موجود ہوتا ہے لہذا وہ دنیا پر حکومت کر رہا ہے باقی جاندار نہیں-
شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا کی باقی قومیں اختلافی معاملات میں بہتر رویہ اختیار کر رہی ہیں اور ترقی کر رہی ہیں
پاکستانی قوم اس معاملے میں بہت پیچھے ہے لہذا ترقی میں بھی پیچھے ہے-





http://www.jahanescience.com/2017/07/Sapiens--A.Brief.History.of.Humankind-Yuval.Noah.Harari.The.Tree.of.Knowledge.chapter.2.3.html

http://www.jahanescience.com/2017/07/Sapiens--A.Brief.History.of.Humankind-Yuval.Noah.Harari.The.Tree.of.Knowledge.chapter.2.4.html

Muhammad Ahmed کہا...

ڈاکٹر بھیا۔۔۔!

چلیے اسی بہانے آپ ہمارے بلاگ تک تو آئے۔ :)

رہی اردو محفل، تو محفل چلتی رہے گی اور اردو ادب بھی پنپتا رہے گا۔ دو چار لوگوں کے ادھر اُدھر ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ :) :) :)

Muhammad Ahmed کہا...

بہت شکریہ احمر صاحب!

آپ کا تبصرہ اچھا لگا۔

زہیر صاحب کے آرٹیکلز کا لنک دینے کا شکریہ۔

گمنام کہا...

احمد بھا ئی السلام علیکم۔ کاش ہمیں یہ سب کچھ پتہ ہوتا تو ہم ناحق اپنا وقت نہ برباد کرتے محفل پر۔ اب ہمارے وہاں جانے کا کوئی جواز نہیں ۔ جو لوگ آپ ایسے خلیق انسان اور باکمال ادیب و شاعر کی قدر نہ کرسکے وہ بہت محروم اور بدنصیب لوگ ہیں ۔
ظہیرآحمد

Muhammad Ahmed کہا...

ظہیر بھائی آداب!

چلیے اسی بہانے آپ ہمارے بلاگ تک تو آئے۔

آپ کی محبت اپنی جگہ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ آپ محفل نہ چھوڑیے کہ وہاں کئی لوگ ہیں جو آپ سے آپ کے کلام سے محبت رکھتے ہیں اور آپ سے کچھ نہ کچھ سیکھتے رہتے ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک