[ہفتہ ٴ غزل] ۔ یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے۔ باصرؔ کاظمی

غزل

یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے
میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے

اس قدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نے
جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارہ کم ہے

دوستی میں تو کوئی شک نہیں اُس کی پر وہ
دوست دشمن کا زیادہ ہے ہمارا کم ہے

صاف اظہار ہو اور وہ بھی کم از کم دو بار
ہم وہ عاقل ہیں جنہیں ایک اشارہ کم ہے

اتنی جلدی نہ بنا رائے مرے بارے میں
ہم نے ہمراہ ابھی وقت گزارا کم ہے

باغ اک ہم کو ملا تھا مگر اس کو افسوس 
ہم نے جی بھر کے بگاڑا ہے سنوارا کم ہے

آج تک اپنی سمجھ میں نہیں آیا باصرؔ
کون سا کام ہے وہ جس میں خسارہ کم ہے

باصرؔ کاظمی

0 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک