[ہفتہ ٴ غزل] ۔ وہ کج کلہ جو کبھی سنگ بار گزرا تھا ۔ محمد یعقوب آسیؔ

غزل

وہ کج  کلہ جو کبھی سنگ بار گزرا تھا
کل اس گلی سے وہی سوگوار گزرا تھا

کوئی چراغ جلا تھا نہ کوئی در وا تھا
سنا رات گئے شہریار گزرا تھا

گہر جب آنکھ سے ٹپکا زمیں میں جذب ہوا
وہ ایک لمحہ بڑا باوقار گزرا تھا

جو تیرے شہر کو گلگوں بہار بخش گیا
قدم قدم بہ سرِ نوکِ خار گزرا تھا

وہ جس کے چہرے پہ لپٹا ہوا تبسم تھا
چھپائے حسرتیں دل میں ہزار گزرا تھا

جسے میں اپنی صدا کا جواب سمجھا تھا
وہ اک فقیر تھا، کرکے پکار گزرا تھا

ترے بغیر بڑے بے قرار ہیں، آسیؔ
ترا وجود جنہیں ناگوار گزرا تھا

محمد یعقوب آسی

0 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک