[ہفتہ ٴ غزل] ۔ تصویر ہے یا کوئی پری ہے ۔ احمد صغیر صدیقی

غزل 

تصویر ہے یا کوئی پری ہے 
کیا سلسلہ ٴ خوش نظری ہے

ہونٹوں پہ ہیں کچھ برف زدہ لفظ 
سینے میں عجب آگ بھری ہے

کچھ بھی نہیں یہ نیند یہ بستر
جو کچھ بھی سب خواب گری ہے

جینے کے لئے پاس ہمارے 
تقدیر ہے اور رنج وری ہے

دل ہے تو بہت درد کے امکاں
سر ہے تو بہت دردِ سری ہے

انجامِ سفر ایک تھکن بس
رودادِ خبر بے خبری ہے

مل جائے تو کچھ بھی نہیں دنیا
کھو جائے تو جادو نگری ہے

احمد صغیر صدیقی

1 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

Zulqarnain Sarwar کہا...

ظالم غزل ہے سرکار۔۔۔ بہت پسند آئی۔۔۔ لاجواب

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک