[ہفتہ ٴ غزل] ۔ معاصر غزل - مسئلہ کیا ہے؟ ۔ ڈاکٹر صلاح الدین درویش

معاصر غزل - مسئلہ کیا ہے؟
ڈاکٹر صلاح الدین درویش
[مستعار مضمون]

غزل کی شاعری کو یار لوگوں نے لڑکوں کا کھیل بنا کر رکھ دیا ہے۔ قافیہ پیمائی ضرور ارزاں ہے لیکن غزل کا شعر کیا محض موزوں الفاظ کی نشست سے بن جاتا ہے؟ ظاہر ہے کہ ایسی بات ہرگز نہیں ہے۔ غزل کا شعر بھلے اپنی بنت میں کسی علمی یا فکری گرہ کو نہ کھولتا ہو لیکن اس کے لیے یہ ضرور لازم ہے کہ اس میں جذبہ اور خیال کے عین درمیان ایک کڑی جسے دانش کہتے ہیں، وہ کڑی بھی موجود ہوتی ہے، یہ کڑی جذبہ اور خیال کی ہم آہنگی، افتراق یا تضاد کی مختلف صورتوں میں معنویت کی ایک ایسی جمالیاتی سطح پیدا کر دیتی ہے کہ جسے ہم جہانِ علم و جمال میں ’اضافہ‘ کہتے ہیں۔ ایسا شعر ہر خاص و عام میں پذیرائی حاصل کرنے میں ضرور کامیاب رہتا ہے۔ ایسا شعر جمالیاتی اعتبار سے ایک ایسے منظر یا منظرنامے کو ابھارتا ہے کہ جو قاری کے تحیّر کو مخمصے میں ڈال دیتا ہے۔ پورے منظر یا منظرنامے کا احاطہ قاری میں ایک اضطراب سا پیدا کر دیتا ہے۔وہ اپنی اس کیفیت سے لطف اندوز ہوتا ہے ۔ فکری سطح پر غزل کا اچھا شعر قاری کے وِژن میں جب اچانک یا دھیرے دھیرے سمونے لگتا ہے تو خود قاری کو اپنے فکری نظام کے سانچے میں اس شعر کو جذب کرنے میں کچھ تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ فکری اعتبار سے اچھا شعر قاری کے نظامِ فکر پر اکثر ٹوٹ پڑتاہے، وہ قاری کے لیے نجات یا رہائی کے سارے راستے مسدود کر دیتا ہے۔ شعر کی فکری اعتبار سے شعری منطق قاری کو ہیجان سے دوچار کر دیتی ہے، جب اس کے ذہن میں کہیں لفظ ’واہ‘ چمکتا ہے تو ایسے میں قاری اپنی فکر کے تمام ہتھیار پھینک دیتا ہے اور ایک شکست خوردہ سپاہی کی طرح فاتح کی عظمت کے سامنے اپنا سر جھکا دیتا ہے۔ بات یہ ہے کہ غزل کا اچھا شعر فکری اعتبار سے جہانِ علم کے مسلّمات، رسوم و رواج، عقائد ، روایات اور اقدار کو بڑی قوت اور جرأت کے ساتھ چیلنج کرتا ہے۔ میرؔ و غالبؔ و اقبالؔ کی فکری اعتبار سے جو ثروت مندی ہے اس کا تعلق جہانِ فکر کی نَو بہ نَو تعمیر و تشکیل سے ہے۔ ایسی شاعری جمالیاتی حوالوں سے بھی امکانات کی نئی صورتوں کو جنم دیتی ہے۔ مثلاً غالب ہی کا یہ شعر ملاحظہ ہو:

بوئے گل، نالۂ دل، دُودِ چراغِ محفل
جو تِری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

مسئلہ یار لوگوں کا ہے کہ جنھوں نے غزل کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے۔ ان سے جب بھی کسی موضوع پر احتیاط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کوئی بات کی جاتی ہے تو ان کے چہروں پر ہوائیاں اُڑنے لگتی ہیں۔ اقدار، تہذیب، مذہب، معاشرت، زبان و ثقافت سے متعلق مباحث کے مخصوص دائروں سے جب بھی انھیں باہر لانے کی کوشش کی جاتی ہے تو طرزِ کہن پر پہلے پہل اتراتے ہیں اور پھر ایسے اَڑتے ہیں کہ زبان میں لکنت اور پھر منہ جھاگ سے بھرنے لگتا ہے۔ وہ کسی ایسی نادیدہ چیز کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں کہ جس کو سامنے لاتے ہوئے ان کا دل ڈوبنے لگتا ہے کہ جس کو ’بکواس‘ کہہ کر مخالف اپنا منہ دوسری طرف نہ پھیر لیں۔ ’’قشقہ کھینچا‘‘ یا ’’مَرے بُت خانے میں کعبے میں گاڑو برہمن کو‘‘ ان کے نزدیک شعری اعتبار سے فکر کا ایک علامتی یا استعاراتی اظہار نہیں ہوتا بلکہ ایک مذہبی مسئلہ ہوتا ہے۔ اب ایسے یاروں کی شعرفہمی پر سَر نہ دُھنا جائے تو کیا کِیا جائے !!

اچھا شعری ابلاغ طنز کے جوہر کو ہر دو سطح پر برقرار رکھتا ہے۔ لفظ کی سماجی قدر کے اعتبار سے بھی اور معنیٰ کی نئی دریافت کے اعتبار سے بھی۔صراطِ مستقیم پر چلنے والے انسان کے درجات دنیا و آخرت میں بہت بلند ہیں لیکن شاعر ہونا اپنے جوہر میں ایسے انسانوں کے لیے جھوٹا، مکار، فریبی، فسادی، جنونی اور خاص طور پر عقل کا اندھا ہوتا ہے۔ شاعر صراطِ مستقیم کو ٹھٹھہ اُڑاتا ہے اور ایک ایسے راستے پر چلنے میں زیادہ عافیت محسوس کرتا ہے کہ جہاں قدم قدم پر خار ہوں، رسوائی ہو، ذلت ہو، رکاوٹیں ہوں، دشنام ہو، بے راہ روی اور گمراہی کے عمیق غار ہوں۔ یہ ایک اور طرح سے زندگی بسر کرنے کا حوصلہ ہے۔ ایک خاص طرح کی بے نیازی اور فارغ البالی ہے۔ ایسا شاعر ترکِ رسوم کی بات اس لیے نہیں کرتا کہ وہ ان رسوم کو نسل انسانی کی بقا کے لیے مہلک تصور کرتا ہے بلکہ وہ اپنے لیے ایک اور طرح کی فکر کی نمو چاہتا ہے کہ جس کے انجام سے خود شاعر کو بھی کوئی خاص پروا نہیں ہوتی۔ ایک جارح تلوارباز کے پاس شمشیرزنی کا فن نہ ہو تو خود اس کا اشتعال جارح کی گردن کو دشمن کی تلوار کی دھار کے نیچے پٹخ دیتا ہے۔ غزل کے دو مصرعوں میں شاعر کی جارحیت جس فن کا تقاضا کرتی ہے اس کے اسرارو رموز کے سرچشمے علوم و افکار کے ہمہ جہت شعبوں سے پھوٹتے ہیں۔ تب کہیں جا کر غزل کا کوئی شعر سر اٹھانے کے قابل ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے شاعر دوست کسی یک طرفہ عشق کی چوٹ، زندگی سے مایوسی اور خودمکتفی بے زاری اور اجنبیت کے غلبے سے معمور ہو کر ایک ذرا خیالوںمیں گھومتے ہیں، قلم اٹھائی، لو جی مصرعِ تر کاغذ کو بھگونے لگا۔ یہ انتہائی سطحی اور نجی سطح کی مصنوعی واردات ہوتی ہے کہ جس کے سیاق و سباق میں خود شاعر کی جہالت اور بے خبری کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ چنانچہ احباب خاموش رہتے ہیں یا دبی سی مسکراہٹ کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔ لیکن شاعر کم بخت کا کیا کِیا جائے کہ وہ خاموشی اور استہزا آمیز مسکراہٹ کو نیم رضامندی سمجھ کر اِترائے پھرتا ہے۔

غزل اپنی کرافٹ کی تکمیل میں فلسفی کا دماغ مانگتی ہے جو انتہائی شاطر، زیرک اور بیشتر مہلک ہوتا ہے۔ زیرکی اور عیاری کا یہ فن انفس و آفاق کے گہرے مطالعے اور مشاہدے کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ شاعر سیاسی و معاشرتی زندگی یا حسن و عشق کے معاملے کو محض تہذیبی اور تاریخی تناظرات میں نہیں دیکھتا بلکہ ان کے نتائج کو بھی مرتب کرتا ہے۔ اکثر یہ نتائج ایسے ہوتے ہیں کہ جو غزل کے شعر میں وارد ہو کر نقد و بحث کو ہَوا دیتے ہیں۔ ایسا شعر فکری، لسانی اور جمالیاتی سطح پر فنون میں موجود جمود کی مختلف صورتوں کو توڑ دیتا ہے۔غزل کا ایسا شعر یاسیت سے کوسوں دُور ہوتا ہے۔ مایوسی اور بے زاری کی مختلف مریضانہ جہتوں کا ظہور غزل میں اس لیے ہوتا ہے کیونکہ شاعر کے پاس کسی معاملے پر غوروفکر کرنے کے لیے دیگر متبادل صورتوں، افکار اور نظریات کا کوئی شعور نہیں ہوتا۔ غزل کے ایسے تمام شاعر دراصل صراطِ مستقیم پر چلنے والے ہوتے ہیں۔ زندگی کے جس اسلوب یا ڈھب کواپنے لیے سہل سمجھتے ہیں، جب اس میں کوئی نیا موڑ آجاتا ہے تو خندہ پیشانی سے اس کا سامنا کرنے کی بجائے اپنے محبوب، دوست، دشمن، قوم یا قبیلے سے ان آفاقی اقدار کی نمائش کی توقع رکھتے ہیں کہ جو عصری معاملات کی تفہیم میں ایک کوڑی کی حیثیت نہیں رکھتیں۔ یاروں نے غزل میں موجود جس شکست اور ملال کو اپنی شخصی زندگی کا مقدر سمجھ رکھا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ جس گلی، کوچے، محبوب، معاشرت یا قوم سے انھوں نے وفا کی امیدباندھ رکھی تھی وہ سب لفظ ’وفا‘ سے ناآشنا تھے۔ انھیں اپنے معاملات میں مریضانہ وفا سے زیادہ کاروبارِ حیات عزیز تھا۔ کاروبارِ حیات کو مذاق سمجھنے والا غزل کا نام نہاد مجذوب شاعر عشق کے حوالے سے کسی ذوقِ سلیم کی نشوونما سے محروم رہے، ضروری ہے۔

غزل کا بُرے سے بُرا شعر بھی منطقی استدلال ضرور رکھتا ہے۔ بات معاملے کی ہے۔ محبوب جدا ہو گیا، شاعر دھاڑیں مار مار روتا آہیں بھرتا ہے، محبوب کی یاد آتی ہے تو دل کی کلی کھِل اُٹھی، کانٹوں بھرا راستہ ہے تو پائوں زخمی ہو گئے، کسی نے جان مانگی سر دے دیا، کوئی چوٹ لگی درد سے بلبلا اُٹھے، قوم گمراہ ہوئی درسِ عبرت دے ڈالا، حکمران بددیانت ہوئے تو ایمانداری کے فوائد بتا دیے، رات ہوئی تو چاند ہے، دن چڑھا تو سورج لپکا۔ ہماری غزل کے کلاسیکی ورثے میں مذکورہ استدلال کی مختلف صورتوں نے کیسے کیسے رنگ جمائے کہ دل آج بھی واہ واہ کر اٹھتا ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر اگر آج کا یا ماضی قریب کا کوئی شاعر ایسے استدلالی نظامِ فکر کو شعر میں بروئے کار لانے کی کوشش کرتا ہے تو اُبکائی سی آنے لگتی ہے۔ قاری زیرِلب بڑبڑانے لگتا ہے کہ یا کیا بکواس ہے۔ اس کی شاید وجہ یہ ہو کہ غزل کا قاری شاعر سے کہیں زیادہ معاملات کا تجربہ رکھتا ہے اور استدلال کی متبادل صورتوں سے بھی آگاہ ہوتا ہے۔ اب ایسے زیرک قاری کو منطق کے معروف استدلال سے قابو میں نہیں کیا جا سکتا، اسے شعر میں آنے والے گھِسے پٹے استدلال سے کوئی رغبت نہیں ہو پاتی۔ چنانچہ شاعر، مجموعے اپنی جیب سے چھاپتا ہے، یاروں میں مفت تقسیم کرتا ہے اور یار کسی فٹ پاتھ پر بنی غیرقانونی دکان میں اس مجموعے کے ساتھ بیس تیس مزید مجموعوں کو بھی ردی کے بھائو بیچ آتا ہے۔ یقینا ایسے منطقی استدلال کی قیمت اتنی ہی ہوتی ہے۔ اب غزل کا اچھا شاعر وہی قرار پائے گا جو بے خبری میں مرنے کی بجائے خودآگہی کی زندگی اختیار کرنے کو ترجیح دے گا، وہ دوسروں کے فیصلے اور قوتِ اختیار پر نہ بھیگی بِلّی بنے گا اور نہ قربانی کا بکرا۔ وہ محبوب کی جدائی کا سبب خود اپنے ذہن، شخصیت، کردار اور نفسیاتی الجھنوں میں تلاش کرے گا، محبوب کی یاد میں دل کی کلی کو کھِلانے کی بجائے صحبتِ یار اور لطفِ قرب کے اسباب و دلائل ڈھونڈے گا، کانٹوں بھرے راستے کو خود اپنا انتخاب سمجھے گا، جان مانگنے والے کی حتمیت پسند رعونت آمیز بیانیے پر سوالات وارد کرے گا، چوٹ لگے گی تو اپنی بے بسی، بے خبری اور حماقت پر مسکرائے گا، قوم کی گمراہی کو اس کے اعمال کی نسبت معقول اور درست جانے گا، حکمرانوں کی بددیانتی کو خود اپنے ایمان کی رمق سے ناپے گا، رات میں چراغ روشن کرے گا اور دن میں سورج کی شعاعوں کو گرفتار کرے گا۔

غزل کہنے والے یار دوستوں کو یہ بات سمجھانا نہایت مشکل ہے کہ جسے خود تم غزل کا اچھا شعر کہتے ہو، وہ اپنے اندر ایک بھرپور علمی سرگرمی بھی رکھتا ہے۔ یہ سرگرمی شعر کے فن میں رونق پیدا کر دیتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ غزل کا اچھا شعر طبیعت کو بشاش کر دیتا ہے، قلب و ذہن کی گرانی کو فی الفور ختم کر دیتا ہے۔ قاری کی ایسی ذہنی حالت کا سبب دانش یا دانش مندی کے کسی پہلو میں اضافہ ہوتا ہے۔ میرؔ سے لے کر ناصرکاظمی تک ہمارے تمام بڑے شعرا ایک بڑی تہذیبی زندگی کے شارح اور ناقد بھی تھے لیکن تمھارے پاس تو سکولوں کالجوں کی درسی کتابوں کا تجزیاتی مطالعہ بھی نہیں ہے۔ تم نے اپنی معاشرت میں جو کچھ بھی جانا اور سیکھا تم اس کے معروضات اور مضمرات سے آگاہی کو وقت کا زیاں سمجھتے ہو، تم ایک حاکم اور جرنیل بننے کی بجائے ایک غلام اور سلیوٹ مار سپاہی بننا چاہتے ہو تو کوئی نطشے تمھیں ذلت سے نکالنے کا کوئی نسخۂ کیمیا مفت میں ہرگزنہیں تھمائے گا۔ لگے رہو مُناّ بھائی۔ لیکن اس بات سے یہ مرادہرگز نہیں ہے کہ اگر کوئی شاعر صاحبِ مطالعہ و مشاہدہ و بصیرت ہو گا یا بڑی تہذیبی زندگی کا شعور رکھتا ہو گا وہ لازماً بڑا شاعر بھی ہو گا۔ بات شاعر کی نہیں غزل کی بڑی شاعری کی ہے کہ جسے اپنی معنویت کی توسیع کے لیے فلسفیانہ بصیرت، تہذیب سے آگاہی، علوم کی مختلف شاخوں، شعبوں اور افکار و نظریات کے متبادل نظاموں اور تحریکوں سے کافی قدر راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

بشکریہ ادبی دنیا

0 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک