[ہفتہ ٴ غزل] ۔ اہلِ نظر کی آنکھ میں تاج وہ کلاہ کیا ۔ امجد اسلام امجد

غزل

اہلِ نظر کی آنکھ میں تاج وہ کلاہ کیا
سایا ہو جن پہ درد کا، اُن کو پناہ کیا؟

ٹھہرا ہے اِک نگاہ پہ سارا مقدّمہ
کیسے وکیل! کون سا مُنصف! گواہ کیا!

کرنے لگے ہو آٹھوں پہر کیوں خدا کو یاد؟
اُس بُت سے ہو گئی ہے کوئی رسم و راہ کیا ؟

اے ربِّ عدل تُو مری فردِ عمل کو چھوڑ
بس یہ بتا کہ اِس میں ہے میرا گُناہ کیا؟

سارے فراق سال دُھواں بن کے اُڑ گئے
ڈالی ہمارے حال پہ اُس نے نگاہ کیا

کیا دل کے بعد آبروئے دل بھی رول دیں
دکھلائیں اُس کو جاکے کہ یہ حالِ تباہ کیا؟

جو جِتنا کم بساط ہے، اُتنا ہے معتبر
یارو یہ اہلِ فقر کی ہے بارگاہ ، کیا!

کیسے کہیں کہ کر گئی اِک سانحے کے بیچ
جادُو بھری وہ آنکھ، وہ جھکتی نگاہ کیا؟

(ق)

وہ بر بنائے جبر ہو یا اقتضائے صبر
ہر بُو لہوس سے کرتے رہو گے نباہ کیا

ہر شے کی مثل ہوگی،  کوئی بے کَسی کی حد؟
اس شہرِ بے ہُنر کا ہے دِن بھی سیاہ کیا

رستے میں تھیں غنیم کے پُھولوں کی پتّیاں
سالار بِک گئے تھے تو کرتی سپاہ کیا!

دل میں کوئی اُمّید نہ آنکھوں میں روشنی
نکلے گی اس طرح کوئی جینے کی راہ کیا؟

امجدؔ نزولِ شعر کے کیسے بنیں اُصول!
سیلاب کے لئے کوئی ہوتی ہے راہ کیا

امجد اسلام امجد


0 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک