[ہفتہ ٴ غزل] ۔ آج ہم بچھڑے ہیں تو کتنے رنگیلےہو گئے ۔ شاہد کبیر

آج کی معروف غزل 

آج ہم بچھڑے ہیں تو کتنے رنگیلےہو گئے
میری آنکھیں سرخ، تیرے ہاتھ پیلےہو گئے

اب تری یادوں کے نشتر بھی ہوئے جاتے ہیں کند
ہم کو کتنے روز اپنے زخم چھیلے ہو گئے

کب کی پتھر ہو چکی تھیں  منتظر آنکھیں مگر
چھو کے  جب دیکھا تو میرے  ہاتھ  گیلےہو گئے

جانے کیا احساس سازِحسن کے تاروں میں ہے
جن کو چھوتے ہی میرے نغمے رسیلےہو گئے

اب کوئی اُمید ہے شاھدؔ  نہ کوئی آرزو
آسرے ٹوٹے تو جینے کے وسیلےہو گئے

شاہدکبیر 

0 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک