دیکھ کر ہر در و دیوار کو حیراں ہونا ۔ عزیز لکھنوی

غزل​

دیکھ کر ہر در و دیوار کو حیراں ہونا 
وہ مرا پہلے پہل داخلِ زِنداں ہونا

قابلِ دید ہے اس گھر کا بھی ویراں ہونا
جس کے ہر گوشہ میں مخفی تھا بیاباں ہونا

جی نہ اٹھوں گا ہے بے کار پشیماں ہونا
جاؤ اب ہو چکا جو کچھ تھا مری جاں ہونا

واہمہ مجھ کو دکھا تا ہے جُنوں کے سامان 
نظر آتا ہے مجھے گھر کا بیاباں ہونا

اُف مرے اجڑے ہوئے گھر کی تباہی دیکھو
جس کے ہر ذرّہ پہ چھایا ہے بیاباں ہونا

حادثے دونوں یہ عالم میں اہم گزرے ہیں 
میرا مرنا تِرِی زُلفوں کا پریشاں ہونا

الحذر! گورِ غریباں کی ڈراؤنی راتیں
اور وہ ان کے گھنے بال پریشاں ہونا

رات بھر سوزِ محبت نے جلایا مجھ کو
تھا مقدر میں چراغِ شبِ ہجراں ہونا

کیوں نہ وحشت میں بھی پابندِ محبت رہتا 
تھا بیاباں میں مجھے قیدیِ زنداں ہونا

ہوگا اِک وقت میں یہ واقعۂ تاریخی
یاد رکھنا مرے کاشانہ کا ویراں ہونا

کچھ نہ پوچھو شبِ وعدہ مرے گھر کی رونق
اللہ اللہ وہ سامان سے ساماں ہونا

جوش میں لے کے اک انگڑائی کسی کا کہنا 
تم کو آتا ہی نہیں چاکِ گریباں ہونا

عالمِ عشق کی فطرت میں خلل آتا ہے
مان لوں حضرتِ انساں کا گر انساں ہونا

سرخ ڈورے تری آنکھوں کے الٰہی توبہ 
چاہئے تھا انھیں پیوست رگِ جاں ہونا

ان سے کرتا ہے دمِ نزع وصیّت یہ عزیزؔ 
خلق روئے گی مگر تم نہ پریشاں ہونا

عزیز لکھنوی​

آنکھوں سے مِری کون مرے خواب لے گیا

غزل​

آنکھوں سے مِری کون مرے خواب لے گیا
چشمِ صدف سے گوہرِ نایاب لے گیا

اِس شہرِ خوش جمال کو کِس کی لگی ہے آہ
کِس دل زدہ کا گریہ خونناب لے گیا

کُچھ نا خدا کے فیض سے ساحل بھی دُور تھا
کُچھ قسمتوں کے پھیر میں گرداب لے گیا

واں شہر ڈُوبتے ہیں یہاں بحث کہ اُنہیں
خُم لے گیا ہے یا خمِ محراب لے گیا

کچھ کھوئی کھوئی آنکھیں بھی موجوں کے ساتھ تھیں
شاید اُنہیں بہا کے کوئی خواب لے گیا

طوفان اَبر و باد میں سب گیت کھو گئے
جھونکا ہَوا کا ہاتھ سے مِضراب لے گیا

غیروں کی دشمنی نے نہ مارا،مگر ہمیں
اپنوں کے التفات کا زہر اب لے گیا

اے آنکھ!اب تو خواب کی دُنیا سے لوٹ آ
"مژگاں تو کھول!شہر کو سیلاب لے گیا!"

پروین شاکر​

قہوہ خانے میں دھواں بن کے سمائے ہوئے لوگ

غزل

قہوہ خانے میں دھواں بن کے سمائے ہوئے لوگ
جانے کس دھن میں سلگتے ہیں بجھائے ہوئے لوگ

تو بھی چاہے تو نہ چھوڑیں گے حکومت دل کی
ہم ہیں مسند پہ ترے غم کو بٹھائے ہوئے لوگ

اپنا مقسوم ہے گلیوں کی ہوا ہو جانا
یار ہم ہیں کسی محفل سے اٹھائے ہوئے لوگ

شکل تو شکل مجھے نام بھی اب یاد نہیں
ہائے وہ لوگ وہ اعصاب پہ چھائے ہوئے لوگ

آنکھ نے بور اُٹھایا ہے درختوں کی طرح
یاد آتے ہیں اِسی رُت میں بُھلائے ہوئے لوگ

حاکمِ  شہر کو معلوم ہوا ہے تابش
جمع ہوتے ہیں کہیں چند ستائے ہوئے لوگ

عباس تابش

روٹھ گئیں گلشن سے بہاریں، کس سے بات کریں

غزل 

روٹھ گئیں گلشن سے بہاریں، کس سے بات کریں
کیسے منائیں، کس کو پکاریں، کس سے بات کریں

ہم نے خود ہی پیدا کی ہے ایک نئی تہذیب
ہاتھ میں گُل، دل میں تلواریں کس سے بات کریں

محفل پھیکی، ساقی بہکا، زہریلا ہر جام
ہم کیسے اب شام گزاریں، کس سے بات کریں

قاتل وقت ہوا ہے ہم سے کیوں اتنا ناراض 
خود کو اور کہاں تک ماریں، کس سے بات کریں

آگ لگانا ہے تو دل میں، پیار کی آگ لگا
تو ہی بتا جلتی دیواریں کس سے بات کریں

شاعر: نامعلوم

ظالم سماجی میڈیا

ظالم سماجی میڈیا 
محمد احمد​

ہم ازل سے سُنتے آ رہے ہیں کہ سماج ہمیشہ ظالم ہوتا ہے اور سماج کے رسم و رواج زیادہ نہیں تو کم از کم دو محبت کرنے والوں کو جکڑ لیا کرتے ہیں۔ شکر ہے کہ ہم اکیلے ان کی مطلوبہ تعداد کو کبھی نہیں پہنچے سو حضرتِ سماج جکڑالوی سے بچے رہے ۔ تاہم جانے انجانے میں ہم سماجی میڈیا کے شکنجے میں کَس لئے گئے اور :


اتنے ہوئے قریب کہ ہم دور ہوگئے​

عموماً سوشل میڈیا کا بھیڑیا اُن بکری نما انسانوں پر حملہ کرتا ہے کہ جو اپنے ریوڑ سے الگ ہٹ کر ادھر اُدھر گھاس چر رہے ہوتے ہیں یا واقعی گھاس کھا گئے ہوتے ہیں۔ یعنی آپ کی سوشل لائف ناپید یا محدود ہے تو آپ سوشل میڈیا کے لئے تر نوالہ ہیں بلکہ مائونیز اور مکھن میں ڈوبے حیواناتی یا نباتاتی پارچہ جات میں سے ایک ہیں۔ ہم بھی اپنی مصروفیات ، کاہلی اور کم آمیزی کے باعث اس بھیڑیے کے خونی اور جنونی جبڑوں میں پھنس گئے۔ جبڑوں میں پھنسنے کا ایک فائدہ ہمیں اور ایک بھیڑیے کو ہوا۔ ہمیں تو یہ فائدہ پہنچا کہ بھیڑیا ہمیں نگل نہیں سکا اور بھیڑیا اسی پر خوش رہا کہ ہم بھاگ کر کہیں نہیں جا سکتے۔ یعنی اس سماجی بھیڑیے کے جبڑوں میں پھنسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ :


شامل ہیں اِک ادائے کنارہ کشی سے ہم ​

لیکن نہ تو کنارہ چلتا ہے اور نہ ناؤ۔ اور لگتا کہ ہےکہ بات چل چلاؤ تک پہنچ کر ہی دم لے گی۔اور ہم نہیں چاہتےکہ بات چل نکلے اور کہیں اور پہنچنے ،پہنچانے کی سعی کرے۔ 


سوشل میڈیا کے سب سے زیادہ قتیل ہمیں فیس بک پر چہرے پر چہرہ چڑھائے نظر آتے ہیں۔ چہرے پر چہرہ چڑھانے سے مراد یہ بھی لی جا سکتی ہے کہ لوگ کتاب چہرے کے چہرے پر اپنا چہرہ چڑھا کر اپنے احباب کو سوشل میڈیا تک محدود رہنے کی دھمکی دیا کرتے ہیں۔یا پھر وہی بات کہ جو سوشل میڈیا سے پہلے بھی گاہے گاہے نظر آتی رہی ہے۔ یعنی: 


ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لیتے ہیں لوگ​

ڈی پیاں یعنی نمائشی تصاویر بدلنے کا اور بدلتے رہنے کا چلن فیس بک پر بہت عام ہے ۔ سو لوگ اس فکر میں رہتے ہیں کہ کب اُن کی کوئی تصویر اچھی آ جائے یا کوئی بیوٹیفائیر قسم کی ایپ اُن کے چہرے کو رُخِ روشن بنا دے تو وہ اُسے اپنی پروفائل پر ٹانک دیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی تصاویر لاکھ جتن کرنے کے باجود رقیبِ رو سیاہ کے چہرہء انور کا مقابلہ کر رہی ہوتی ہیں سو وہ اپنے کسی دوست سے خوش خطی میں اپنا نام لکھوا کر اُسے تصویر کے خالی چوکھٹے میں ثبت کر دیتے ہیں ۔ اگر آپ عقل کے دوستوں میں سے نہیں ہیں اور اشارے کنائے آپ کے لئے ناکافی رہتے ہیں تو پھر ہم کہیں گے کہ یہ ہمارا ذکر نہیں ہے۔ 

اگر بات کی جائے صنفِ نازک کی پروفائل پر آویزاں ڈی پیز کی تو ان میں سے اکثر اپنے اصل چہرے سے کوسوں دور حُسن افروز مصنوعات یعنی غازے اور فیس بک غازیوں کے خونِ ناحق سے چپڑے نقاب کو ہی اپنا چہرہ سمجھتی اور سمجھاتی نظر آتی ہیں۔ 

اگر کبھی آپ کو لگے کہ فیس بک ویران ہوتی جا رہی ہے تو فوراً سے پیشتر کسی نازنین کی پروفائل پر پہنچ جائیے۔ عام سی بات پر تبصروں کی ریل پیل اور مہرِ پسندیدگی کی کھٹاکٹ دیکھ سُن کر آپ کی سٹی گم ہو جائے گی۔ یعنی فیس بک کی رنگا رنگی بھی بقول اقبال تصویرِ کائنات کی طرز پر ہی ہے اور اس تصویر میں رنگ بھرنے کےلئے بھی اقبال کا ہی آزمودہ فارمولا لاگو ہوتا ہے۔ 

خیر یہ تو تھی وہ سخن گسترانہ بات کہ جو کبھی مقطع میں آپڑتی ہے تو کبھی مطلع میں اور مطلع اکثر ابر آلود ہو جاتا ہے۔ بات ہو رہی تھی فیس بک کی ۔ہمارے لئے فیس بُک کا معاملہ بڑ ا عجیب ہے کہ جہاں ہر شخص اپنے ناشتے پانی سے لے کر پانی پت تک کی خبریں اور یادداشتیں شامل کرتا رہتا ہے اور ہم تبصرے کرکر کے ادھ موئے ہو جاتے ہیں۔تاہم جب کبھی بھولے سے ہم اپنی غزل لگا دیں تو لوگ لائک کی ناب دبانے پر ہی اکتفا کرتے ہیں یا اگر زیادہ فرصت ہو تو ہم سے ہمارے ہی اشعار کے مطلب پوچھنے لگتے ہیں ۔


کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا​

سو ہم کچھ نہیں بتاتے اور آئیں بائیں شائیں کرکے ادھر اُدھر ہو جاتے ہیں۔

فیس بک کے بعد ٹوئٹر کی باری آتی ہے (فیس بک ٹوئیٹر کی یہ تقدیم و تاخیر دانستہ نہیں ہے بلکہ دیدہ و دانستہ ہے سو اُمید ہے کہ احباب اس بات پر گرفت یا ستائش نہیں فرمائیں گے) ۔ عمومی خیال کیا جاتا ہے کہ ٹوئٹر پر نسبتاً پڑھے لکھے لوگ ہوا کرتے ہیں ۔ تاہم یہ خیال وہ لوگ کرتے ہیں جو خود ٹوئیٹر پر نہیں ہوتے یا ہوتے بھی ہیں تو ٹاپ ٹرینڈز کے ہیش ٹیگز کو کلک نہیں کیا کرتے۔ٹوئٹر پر ٹرینڈز کی رینکنگ بھی اُسی طرح سے ہوتی ہے جس طرح ہمارے ٹی وی چینلز خود کو درجہء اُولیٰ پر فائز کیا کرتے ہیں۔ یعنی پیسہ بولتا ہے اور لکھتا بھی ہے۔ ہمارے میڈیا چینلز کی نمبر ون کی دوڑ بھی عجیب ہے کہ پاکستان میں ہوتے ہوئے بھی کبھی نمبر دو کی زیارت نصیب نہیں ہوتی۔ 

ٹوئٹر والوں کی ایک اچھی بات یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے مخالفین کی ٹوئٹس بھی ری ٹوئٹ کرتے ہیں تاکہ اپنے پیروکاروں کو بتا سکیں کہ وہ کس بات کے جواب میں مغلظات بک رہے ہیں۔ 

ٹوئٹر اپنے لکھنے والوں کو ایک سو چالیس حروف تک محدود کرتا ہے اگر یہ ٹوئٹس کی یومیہ تعداد کو بھی محدود کرپاتا تو باتونی لوگوں سے بچنے کا اس سے بہتر ذریعہ اور کوئی نہیں ہوتا۔ ٹوئٹر سے پہلے ہمیں مختصر نویسی کی اثر انگیزی کا اتنا اندازہ نہیں تھا ۔ تاہم اب اس میں شبہ نہیں ہے کہ ایک سو چالیس حروف بھی دشنموں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے کافی ہوتے ہیں اور اگر ٹوئیٹس کو جوڑ جاڑ کر تھریڈ کی شکل دے دی جائے تو اینٹوں کا جواب پتھر سے بلکہ منجنیق سے دینا بھی مشکل نہیں رہتا۔ 

مزے کی بات یہ ہے کہ ہم ٹوئیٹر پر بھی ناکام و نا مراد ہیں کہ ہمیں کبھی سال دو سال میں کوئی دانائی کی بات سوجھتی بھی ہے تو اُسے مصروفیت، کام چوری اور انکساری کی چھلنیوں سے گزر کر ٹوئیٹر پر پہنچنا ہی دشوار ہو جاتا ہے۔ اور جب کبھی ہمارا دانش پارہ جو حجم میں نمک پارے سے تھوڑا سا ہی بڑا ہوتا ہے ٹوئیٹر پر پہنچ بھی جاتا ہے تو ہمارے پیروکاروں کے نزدیک ( جن کی آدھی اکثریت تو ہماری زبان سے ہی ناواقف ہے) نقار خانے میں ٹٹیری کی آواز سے زیادہ اہم نہیں سمجھا جاتا۔ 

ٹوئیٹر پر بڑے بڑے جغادری موجود ہیں کہ جن کے منہ سے چوبیس گھنٹے فلسفہ اُبلتا رہتا ہے اور کراچی کے مین ہولز کی طرح یہاں بھی نکاسی کا معقول بندوبست نہیں ہے سو اکثر عقیدت مندوں کی ٹائم لائنز کی حالت ناگفتہ بہ نظر آتی ہے۔ شاید یہاں کے کرتا دھرتا بھی کراچی کے ناظمِ نا کمال کی طرح بے اختیار ہیں۔ 

سوشل میڈیائی دنیا میں شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی ایک شے انسٹا گرام ہے۔ شنید ہے کہ اس پر لوگ زیادہ تر تصاویر دیکھنے دکھانے کا کام کیا کرتے ہیں ۔ہم نے اس کا تجربہ جز وقتی طور پر کیا تھا لیکن جن افراد کی پیروکاری ہم نے کی تو زیادہ تر وہی مواد دیکھنے کو ملا جو فیس بک وغیرہ پر ہوتا ہے سو ایک رنگ کے مضمون کو دور رنگ سے باندھتے باندھتے بے زار ہو گئے اور دو رنگی چھوڑ کر یک رنگی اختیار کی۔ کیا خبر کہ کل اسی یک رنگی سے نیرنگی پھوٹتی نظر آئے۔

غزل ۔ بے حس و کج فہم و لاپروا کہے ۔ مرتضی برلاس

غزل

بے حس و کج فہم و لاپروا کہے
کل مورّخ جانے ہم کو کیا کہے

اس طرح رہتے ہیں اس گھر کے مکیں
جس طرح بہرہ سُنے، گونگا کہے

راز ہائے ضبطِ غم کیا چھپ سکیں
ہونٹ جب خاموش ہوں چہرہ کہے

اس لئے ہر شخص کو دیکھا کیا
کاش کوئی تو مجھے اپنا کہے

ہے تکلّم آئینہ احساس کا
جس کی جیسی سوچ ہو ، ویسا کہے

پڑھ چکے دریا قصیدہ ابر کا
کیا زبانِ خشک سے صحرا کہے

بدگمانی صرف میری ذات سے
میں تو وہ کہتا ہوں جو دنیا کہے

مرتضیٰ برلاس

اقوالِ سعید - حکیم محمد سعید کے سنہرے اقوال . ٢

اقوالِ سعید 
حکیم محمد سعید کے اقوال
انسان ٹھوکریں کھاتا ہے مگر کچھ سبق حاصل نہیں کرتا۔ تاریخ بے چاری ہے کہ اپنا سبق دُہرائے جارہی ہے۔ ناقدریِ وقت سے غلامی کی زنجیریں پیروں میں پڑ جایا کرتی ہیں۔ اپنی شناخت اور اپنے سرمایہء ثقافت کو نظر انداز کرکے ہم علم کے نام پر جو کچھ بھی حاصل کریں گے، اس کے مثبت نتائج کبھی برامد نہیں ہو سکتے۔ ایک غلط کام کرکے انسان بہ ظاہر کتنا ہی خوش ہو ، اُس کا ضمیر اندرونی طور پر اُس کو متنبہ ضرور کرتا ہے۔ جب یہ کیفیت ملامت کی صورت اختیار کرلیتی ہے تو اس سے نظامِ جسم ضرور متاثّر ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قوم فسادِ اخلاق میں مبتلا ہو گئی وہ صفحہء ہستی سے مٹ گئی۔ جس طرح ایک مسلمان کے دل میں طمع اور تقویٰ ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے اسی طرح علم و حکمت اور دولت ساتھ نہیں رہ سکتے۔ آزادیِ صحافت کے ہرگز یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ تعمیرِ وطن نظروں سے اوجھل ہو جائے اور سر بلندیِ ملک اور سرفرازیِ ملّت نظر انداز کر دی جائے۔

حکیم محمد سعید

اقوالِ سعید - حکیم محمد سعید کے سنہرے اقوال

اقوالِ سعید 
حکیم محمد سعید کے اقوال

اہلیانِ پاکستان کے لئے حکیم محمد سعید صاحب کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ حکیم محمد سعید صاحب نہ صرف  ایک مایہ ناز حکیم تھے بلکہ مملکتِ پاکستان کے باسیوں کے لئے ایک عظیم مصلح بھی تھے۔ آپ نے مذہب ، طب و حکمت پر بے شمار کتب تصنیف و تالیف کیں۔ آپ کا قائم کردہ ادارہ ہمدرد پاکستان آج بھی اپنی ساکھ کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ 

حکیم محمد سعید  نے ہی بچوں کے معروف رسالے  ہمدرد نونہال کا اجراء کیا جو  اطفالِ وطن کی  تعلیم و تربیت میں  مشعلِ راہ کا کام کرتا رہا ہے۔



یہاں ہم حکیم محمد سعید صاحب کے مختصر کتابچے اقوالِ سعید سے کچھ اقوال رقم کریں گے جو نا صرف نونہالانِ پاکستان بلکہ پاکستان کے ہر شہری کے لئے بہت اہم ہیں۔

جس طرح سورج ہر انسان کو بلا امتیا ز اپنی روشنی سے منوّر کرتا ہے اسی طرح ایک انسان کو دوسرے انسان کو روشنی دینا چاہیے۔ روشن ضمیری صرف ایک انسا ن کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کو روشنی میں رکھتی ہے۔ انسان جب اپنی ذات کے لئے اضافی آرام و آسائش حاصل کرنے کا خواہاں ہو گا، اُسے خودی اور خود داری کو قربان کرنا پڑے گا۔ قومیں اور افراد چراغِ حُرّیت اپنے خون سے روشن رکھتے ہیں۔ دولت کی بے پناہ محبّت خباثت کی دلیل ہے اس لئے کہ یہ ہمیشہ بُرائی کی طرف لے جاتی ہے۔ مسلمان کی حیاتِ مستعار کا ہر لمحہ قرانِ حکیم کی تعلیمات کی روشنی میں بسر ہونا چاہیے اور اُس کی ہر آن اتّباعِ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عبارت ہونا چاہیے۔ تعلیم ایک ارتقائی عمل ہے جس کے ذریعے اقوام و اُمم اپنے مقصدِ حیات سے آگاہ ہو کر اس کے حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرتی ہیں۔
حکیم محمد سعید

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ شکریہ

شکریہ

ہفتہٴ غزل کے اختتام پر ہم اپنے احباب کے شکر گزار ہیں کہ جن سے ہمیں بہت حوصلہ افزائی ملی۔

بالخصوص ہم راحیل فاروق بھائی کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے ناصرف ہفتہٴ غزل کے انعقاد پر ہماری حوصلہ افزائی فرمائی بلکہ اپنے گہر بار قلم سے ایک عدد مضمون بھی اس سلسلے میں رقم کیا۔ اس کے بعد ہم محمد تابش صدیقی بھائی کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں کہ اُنہوں نے پورے ہفتہ کم و بیش ہر پوسٹ پر ہماری حوصلہ افزائی فرمائی اور انتخاب پر اپنے رائے سے بھی نوازا۔


ہمارے عزیز برادران ذوالقرنین سرور المعروف نیرنگِ خیال بھائی اور بلال اعظم بھیا نے بھی ہفتہٴ غزل کے آغاز پرا پنے تبصروں سے اس موقع پر ہماری ہمت بندھائی۔ عزیزی فلک شیر بھائی سے بھی ہمیں گاہے گاہے کچھ نہ کچھ کر گزرنے کی ہمت ملتی رہتی ہے اور اس سلسلے میں بھی اُنہوں نے اپنے احباب کی توجہ ہفتہٴ غزل کی طرف مبذول فرما کر ہمیں حوصلہ بخشا۔

ہمیں اعتراف ہے کہ ہمارے مذکورہ اور غیر مذکورہ احباب کی حوصلہ افزائی نہ ہوتی تو ہمارا ہفتہٴ غزل بُری طرح فلاپ ہو جاتا جو اب اللہ کا شکر ہے کہ اچھی طرح فلاپ ہوا ہے۔ ☺☺☺

ہم اپنے بلاگ کے قارئین کے بھی شکر گزار ہیں کہ جو گاہے گاہے بلاگ پر آتے رہتے ہیں اور اُن کے تبصروں اور کبھی محض نقشِ قدم سے اُن کی آمد کے نشاں ملتے رہتے ہیں۔

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ یہ آرزو تھی تجھے گُل کے رُوبرُو کرتے ۔ خواجہ حیدر علی آتش

آج کی معروف غزل

یہ آرزو تھی تجھے گُل کے رُوبرُو کرتے
ہم اور بلبل ِبے تاب گفتگو کرتے

پیام بر نہ میّسر ہوا تو خوب ہوا
زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے

مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے

ہمیشہ رنگ زمانہ بدلتا رہتا ہے
سفید رنگ ہیں آخر سیاہ مُو کرتے

لٹاتے دولتِ دنیا کو میکدے میں ہم
طلائی ساغر مئے نقرئی سبُو کرتے

ہمیشہ میں نے گریباں کو چاک چاک کیا
تمام عمر رفو گر رہے رفو کرتے

جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالم
اسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے

بیاضِ گردنِ جاناں کو صبح کہتے جو ہم
ستارہء سحری تکمہء گلُو کرتے

یہ کعبہ سے نہیں بے وجہ نسبتِ رخ ِیار
یہ بے سبب نہیں مردے کو قبلہ رُو کرتے

سکھاتے نالہء شب گیر کو در اندازی
غمِ فراق کا اس چرخ کو عدو کرتے

وہ جانِ جاں نہیں آتا تو موت ہی آتی
دل و جگر کو کہاں تک بھلا لہو کرتے

نہ پوچھ عالمِ برگشتہ طالعی آتش
برستی آگ، جو باراں کی آرزو کرتے

خواجہ حیدر علی آتش

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ گردِ سفر میں بُھول کے منزل کی راہ تک ۔ امجد اسلام امجدؔ

غزل

گردِ سفر میں بُھول کے منزل کی راہ تک
پھر آ گئے ہیں لوگ نئی قتل گاہ تک

اِک بے کسی کا جال ہے پھیلا چہار سُو
اِک بے بسی کی دُھند ہے دل سے نگاہ تک

بالائے سطحِ آب تھے جتنے، تھے بے خبر
اُبھرے نہیں ہیں وہ کہ جو پہنچے ہیں تھاہ تک

اِک دُوسرے پہ جان کا دینا تھا جس میں کھیل
اب رہ گیا ہے صرف وہ رشتہ نباہ تک

اہلِ نظر ہی جانے ہیں کیسے اُفق مثال!
حدِّ ثواب جاتی ہے حدِّ گناہ تک

زنجیرِ عدل اب نہیں کھینچے گا کوئی ہاتھ
رُلنے ہیں اب تو پاؤں میں تاج و کُلاہ تک

پُھولوں سے اِک بھری ہوئی بستی یہاں پہ تھی
اب دل پہ اُس کا ہوتا نہیں اشتباہ تک

آتی ہے جب بہار تو آتی ہے ایک ساتھ
باغوں سے لے کے دشت میں اُگتی گیاہ تک

جانا ہے ہم کو خواب کی کشتی میں بیٹھ کر
کاجل سے اِک بھری ہُوئی چشمِ سیاہ تک

جذبات بجھ گئے ہوں تو کیسے جلے یہ دل
میرِ سپہ کا نام  ہے اُس کی سپاہ تک

امجدؔ اب اس زمین پہ آنے کو ہے وہ دن
عالم کے ہاتھ پہنچیں گے عالم پناہ تک

امجد اسلام امجدؔ


[ہفتہ ٴ غزل] ۔ عشّاق کو وہ کوھکنی یاد نہیں کیا ۔ مرتضیٰ برلاس

غزل

عشّاق کو وہ کوھکنی یاد نہیں کیا
اس شہر میں اب کوئی بھی فرہاد نہیں کیا

ملبوس جدا کیوں ہیں ، زبانیں ہیں جدا کیوں
ہم ایک قبیلے کے سب افراد نہیں کیا

ناداں، تُو ہمیں دیکھ کے گرداب میں خوش ہے
سیلاب کی زد پر تری بنیاد نہیں کیا

آنکھیں مری صدیوں سے کرن ڈھونڈ رہی ہیں
اِس ظلمتِ شب کی کوئی معیاد نہیں کیا

اُڑنے کے لئے کر دیا سمتوں کا تعیّن
زنجیر کٹی، پھر بھی ہم آزاد نہیں کیا

پھر جادہ ء پُر پیچ پہ لغزیدہ خرامی
ٹھوکر جو ابھی کھائی تھی وہ یاد نہیں کیا

مرتضیٰ برلاس

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ یہ پنگھٹوں کو کیا ہوا۔ جو چُپ سی لگ گئی انہیں ۔ اعجاز عبیدؔ


دوغزلہ
(قحط زدہ گاؤں میں غزل)

وہ ہولیاں منانے والے کس طرف چلے گئے
وہ تعزئے اٹھانے والے کس طرف چلے گئے

سویرے گاؤں کی فضا کا وہ دھواں کہاں گیا
وہ بیل دھول اڑانے والے کس طرف چلے گئے

یہ پنگھٹوں کو کیا ہوا۔ جو چُپ سی لگ گئی انہیں
وہ رنگ دل لبھانے والے کس طرف چلے گئے

پہاڑیوں پہ چرنے والی بکریاں کدھر گئیں
وہ بانسری بجانے والے کس طرف چلے گئے

وہ ’’پیاس پیاس‘‘ چیختی ٹٹہرباں کہاں گئیں
وہ ہنس موتی کھانے والے کس طرف چلے گئے

الاؤ جل رہا ہے اور لوگ سب خموش ہیں
وہ ماہیا سنانے والے کس طرف چلے گئے

تڑخ رہی ہے گرم دھرتی پیر کس طرف رکھیں
وہ میگھ راگ گانے والے کس طرف چلے گئے

----

وہ ہاتھ گدگدانے والے کس طرف چلے گئے
وہ بچے چہچہانے والے کس طرف چلے گئے

وہ چار دن کی چاندنی تھی یہ اندھیری رات ہے
وہ جگنو جگمگانے والے کس طرف چلے گئے

جو ہاتھ خشک بالوں کو سنوارتے تھے کیا ہوئے
سکوں کی نیند لانے والے کس طرف چلے گئے

کتابوں میں لکھا تھا، ایسے ہی یُگوں میں آئیں گے
وہ جو نبی تھے آنے والے ، کس طرف چلے گئے

ادھر تو شہرِ گریہ ہے ، فصیل کے اُدھر مگر
وہ ہونٹ مسکرانے والے کس طرف چلے گئے

ہر اک طرف پکار دیکھا کوئی بھی نہیں یہاں
وہ بستیاں بسانے والے کس طرف چلے گئے

اعجاز عبیدؔ

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ آئینہ اندھیروں کو دکھا کیوں نہیں دیتے ۔ مقبول نقشؔ

غزل

آئینہ اندھیروں کو دکھا کیوں نہیں دیتے
اک شمع سرِ دار جَلا کیوں نہیں دیتے 

پتھر بھی چٹختے ہیں تو دے جاتے ہیں آواز
دل ٹوٹ رہے ہیں تو صَدا کیوں نہیں دیتے

کب تک پسِ دیوار سِسکتے رہے انساں
شہروں کی فصیلوں کو گرا کیوں نہیں دیتے

پابندیء اظہار سے بات اور بڑھے گی
احساس کو سولی پہ چڑھا کیوں نہیں دیتے 

کیا میری طرح خانماں برباد ہو تم بھی 
کیا بات ہے، تُم گھر کا پتا کیوں نہیں دیتے

ہم کو تو نہیں یاد کبھی دل بھی دُکھا تھا
رنجش کا سبب تم بھی بُھلا کیوں نہیں دیتے 

ساحل پہ کھڑے ہیں جو غمِ دل کے سفینے 
یادوں کے سمندر میں بَہا کیوں نہیں دیتے

معلوم تو ہو شہر ہے یا شہرِ خموشاں
تم نقشؔ کسی در پہ صدا کیوں نہیں دیتے

مقبول نقشؔ

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ ہم اپنے آپ سے بیگانے تھوڑی ہوتے ہیں ۔ انور شعورؔ

غزل

ہم اپنے آپ سے بیگانے تھوڑی ہوتے ہیں
سرور  و کیف میں دیوانے تھوڑی ہوتے ہیں

گنا کرو نہ پیالے ہمیں پلاتے وقت
ظروف ظرف کے پیمانے تھوڑی ہوتے ہیں

براہِ راست اثر ڈالتے ہیں سچے لوگ
کسی دلیل سے منوانے تھوڑی ہوتے ہیں

جو لوگ آتے ہیں ملنے ترے حوالے سے
نئے تو ہوتے ہیں، انجانے تھوڑی ہوتے ہیں

ہمیشہ ہاتھ میں رہتے ہیں پھول اُن کے لئے
کسی کو بھیج کے منگوانے تھوڑی ہوتے ہیں

کسی غریب کو زخمی کرے کہ قتل کرے
نگاہِ ناز کو جُرمانے تھوڑی ہوتے ہیں

شعورؔ تم نے خدا جانے کیا کیا ہوگا
ذرا سی بات کے افسانے تھوڑی ہوتے ہیں

انور شعورؔ

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ پھر اِس سے قبل کہ بارِ دگر بنایا جائے ۔ طارق نعیم

غزل 

پھر اِس سے قبل کہ بارِ دگر بنایا جائے
یہ آئینہ ہے اسے دیکھ کر بنایا جائے

میں سوچتا ہوں ترے لامکاں  کی اس جانب
مکان کیسا بنے گا اگر بنایا جائے

ذرا ذرا سے کئی نقص ہیں ابھی مجھ میں 
نئے سرے سے مجھے گوندھ کر بنایا جائے

بہت سے لفظ پڑے حاشیوں میں سوچتے ہیں
کسی طرح سے عبارت میں در بنایا جائے

زمین اتنی نہیں ہے کہ پاؤں رکھ پائیں
دلِ خراب کی ضد ہے کہ گھر بنایا جائے

وہ جا رہا ہے تو جاتے ہوئے کو روکنا کیا
ذرا سی بات کو کیوں دردِ سر بنایا جائے

کہیں رُکیں گے تو طارق نعیم دیکھیں گے
سفر میں کیا کوئی زادِ سفر بنایا جائے

طارق نعیم

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ ہوا نے باندھ دیا رات سلسلہ ایسے

آج کی معروف غزل

ہوا نے باندھ دیا رات سلسلہ ایسے
بلا رہا ہے کوئی دور سے لگا ایسے

جہاں بھی دیکھو وہاں پھول کھلنے لگتے ہیں
زمیں پہ چھوڑ گیا کوئی نقشِ  پا ایسے

ہمیں لگا کہ کوئی شعر کہہ لیا ہم  نے
ذرا سی دیر کہیں کوئی مل گیا ایسے

سکوت ایسا کہ اب خاک تک نہیں اڑتی
ہوائیں بھول بھی سکتی ہیں راستہ ایسے

- نامعلوم -

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے۔ باصرؔ کاظمی

غزل

یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے
میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے

اس قدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نے
جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارہ کم ہے

دوستی میں تو کوئی شک نہیں اُس کی پر وہ
دوست دشمن کا زیادہ ہے ہمارا کم ہے

صاف اظہار ہو اور وہ بھی کم از کم دو بار
ہم وہ عاقل ہیں جنہیں ایک اشارہ کم ہے

اتنی جلدی نہ بنا رائے مرے بارے میں
ہم نے ہمراہ ابھی وقت گزارا کم ہے

باغ اک ہم کو ملا تھا مگر اس کو افسوس 
ہم نے جی بھر کے بگاڑا ہے سنوارا کم ہے

آج تک اپنی سمجھ میں نہیں آیا باصرؔ
کون سا کام ہے وہ جس میں خسارہ کم ہے

باصرؔ کاظمی

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ سفر کے ساتھ مسافر کی دل لگی بھی گئی ۔ عبید الرحمٰن عبیدؔ

غزل

سفر کے ساتھ مسافر کی دل لگی بھی گئی 
جو شام آ گئی ، صحرا کی دل کشی بھی گئی

وہ جس پہ تکیہ کیا  سر کشیدہ موجوں  میں 
سو اب تو ہاتھ سے وہ ناؤ کاغذی بھی گئی

وہ خامشی کہ فقط میں ہی سُن رہا تھا جسے
دُروں کا شور بڑھا اور وہ خامُشی بھی گئی

ابھی سفینہ ٴ جاں ڈوبنے ہی والا تھا
کہ سر کشیدہ سی موجوں کی سرکشی بھی گئی

ہوا بھی تِیرہ شبی کی حلیف ہی ٹھیری
سحر سے پہلے چراغوں کی روشنی بھی گئی

اگرچہ دعوے بہت تھے کہ دوست ہیں ہم بھی 
پڑا جو اُن سے کبھی کام ،  دوستی بھی گئی

وہ تِیرہ شب سے اکیلے ہی لڑ رہا تھا عبیدؔ
دیا بُجھا تو ہواؤں کی برہمی بھی گئی

عبید الرحمٰن عبیدؔ

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ وہ کج کلہ جو کبھی سنگ بار گزرا تھا ۔ محمد یعقوب آسیؔ

غزل

وہ کج  کلہ جو کبھی سنگ بار گزرا تھا
کل اس گلی سے وہی سوگوار گزرا تھا

کوئی چراغ جلا تھا نہ کوئی در وا تھا
سنا رات گئے شہریار گزرا تھا

گہر جب آنکھ سے ٹپکا زمیں میں جذب ہوا
وہ ایک لمحہ بڑا باوقار گزرا تھا

جو تیرے شہر کو گلگوں بہار بخش گیا
قدم قدم بہ سرِ نوکِ خار گزرا تھا

وہ جس کے چہرے پہ لپٹا ہوا تبسم تھا
چھپائے حسرتیں دل میں ہزار گزرا تھا

جسے میں اپنی صدا کا جواب سمجھا تھا
وہ اک فقیر تھا، کرکے پکار گزرا تھا

ترے بغیر بڑے بے قرار ہیں، آسیؔ
ترا وجود جنہیں ناگوار گزرا تھا

محمد یعقوب آسی

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ کچھ اور سخن کر کہ غزل سلکِ گہر ہے! از راحیل فاروق

کچھ اور سخن کر کہ غزل سلکِ گہر ہے!
ہفتہ ٴ غزل کے لئے ہمارے عزیز دوست راحیل فاروق کا خصوصی مضمون

عالمی ادب کے تناظر میں دیکھا جائے تو غزل یوں معلوم ہوتی ہے جیسے جل پریوں کے جمگھٹ میں کوئی آسمانی پری سطحِ آب پر اتر آئی ہو۔ اجنبی اجنبی، وحشی وحشی، تنہا تنہا۔ جس کے حسنِ سوگوار پر لوگ ریجھ بھی جائیں اور سٹپٹا بھی جائیں۔ دیوانوں کو اس کا جمالِ بے ہمتا وجد میں لے آتا ہے اور فرزانوں کو اس کی ہئیتِ منفردہ فتنے میں ڈال دیتی ہے۔ کوئی سر دھنتا ہے اور کوئی پیٹتا ہے۔ سب سچے ہیں۔

غزل وہ بے نظیر صنفِ شاعری ہے جسے نظم کہنا ممکن نہیں۔ دنیا بھر کی اصنافِ شعر نظم ہی کی مختلف صورتیں ہیں جن میں کوئی خیال آہنگ اور قافیے کے التزام کے ساتھ اجمال یا تفصیل کے ساتھ باندھا جاتا ہے۔ رباعی اور قصیدے سے لے کر سانیٹ اور ہائیکو تک سب کی سب اصنافِ سخن اسی بحرِ جمالیات کی جل پریاں ہیں۔ مگر غزل چیزے دگر ہے۔ یہ جمالیات سے نکلی نہیں بلکہ الہام کی طرح اس پر نازل ہوئی ہے۔ اس سمندر کے رنگین چھینٹے اس کے دامنِ بیضا پر پڑتے تو ہیں مگر عرش کی پہنائیوں سے اس کا رشتہ منقطع نہیں کر سکتے۔ ممکن ہے کہ مجرد فلسفیانہ اور مذہبی خیالات کے اظہار کی غیر معمولی قوت اس میں اسی باعث پائی جاتی ہو۔

ارفع حقائق کو سادہ لفظوں میں بیان کرنے کی کوششیں یا مبالغے پر منتج ہوتی ہیں یا مغالطے پر۔ مگر کیا کیجیے کہ مناسبِ حال پیرایۂِ اظہار اور زیادہ بڑا امتحان ہے۔ ہر دو انتہاؤں سے بچتے ہوئے ہم زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ شاعری کی حدود کے اندر رہتے ہوئے غزل درحقیقت نظم کی نقیض ہے۔ یعنی نہ صرف یہ کہ نظم میں اور اس میں کوئی قدرِ مشترک نہیں بلکہ یہ دونوں ایسے معنوی بعد پر واقع ہوئی ہیں جس کی مثال ادبیات میں شاذ ہے۔ نظم کثرت کے اندر وحدت ہے اور غزل وحدت کے اندر کثرت!

غزل کی تقویم کچھ ایسی ہے کہ ہئیتی اعتبار سے تو وہ ایک وحدت ہوتی ہے مگر معنوی اعتبار سے نظموں کے ایک گلدستے کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا غزل کا ہر شعر ایک جداگانہ نظم ہے اور ایک نظم فی الاصل غزل کے ایک طویل شعر سے زیادہ کچھ نہیں۔ اقبالؔ علیہ الرحمۃ کی شہرۂِ آفاق نظم "شکوہ" اٹھائیے اور غالبؔ کے اس شعر کے سامنے رکھیے۔ بات کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگے گی۔


ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخئِ فرشتہ ہماری جناب میں!​

مگر اس سیدھی سادی سی حقیقت کی الٹی سیدھی تفہیمات نے بڑے بڑوں کی چیں بلوائی ہے اور اب بھی کئی ہیں کہ اس نیرنگی پر اعتراض کرتے ہیں اور اسے روحِ شاعری کے شایان نہیں سمجھتے۔ مگر ہم جس طرح اور جس قدر غزل کو سمجھتے ہیں اس لحاظ سے بہت رعایت بھی کریں تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ بدقسمت ہے وہ شخص جو غزل کا ذوق نہیں رکھتا اور نامکمل ہے وہ ادب جس میں اس صنف نے بار نہیں پایا۔ ایجاز اور شوخی سے لے کر تہہ داری اور آفاقیت تک الوانِ ادب میں کیا ہے جس کی تجسیم غزل میں نہیں؟ ہمیں پوری ایمان داری کے ساتھ نظریۂِ ادب، تنقید، جمالیات اور لسانیات وغیرہ کی دریافت کردہ کوئی وقیع قدر ایسی نظر نہیں آتی جس کی کامل ترجمانی غزل میں نہ ہو چکی ہو۔ بلکہ ہم تو یہاں تک کہنے کو تیار ہیں کہ ایسے سب اصولوں کی بیک وقت متحمل بھی صرف اور صرف غزل ہی ہو سکتی ہے۔ کسی اور صنفِ ادب کی یہ تاب نہیں کہ وہ مثلاً ایجاز اور اطناب کے جلوے ایک ہی شہ پارے میں یکجا کر سکے۔

غزل کی یہ تکثیریت بجائے خود بڑی معنیٰ خیز اور عالم فریب ہے۔ یعنی شاعر ایک شعر میں وصال کی امید پر رقص کرتا ہے تو دوسرے شعر میں ہجر کی یاس اسے مفلوج کر ڈالتی ہے۔ نا آشنایانِ راز یہیں سے دھوکا کھاتے ہیں اور اسے غیر فطری یا وحشیانہ خیال کرتے ہیں۔ محرمِ درونِ خانہ کے نزدیک یہی سیمابی نہ صرف غزل بلکہ خود اس کارخانۂِ فطرت کا بھی جوہر ہے جس کی ترجمانی غزل کرتی ہے۔ ایک بالغ نظر اور باشعور شخص، خواہ وہ کسی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتا ہو، گواہی دے گا کہ انسان کے افکار اور وجود ایک شرارِ جستہ سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے۔ ادھر ایک خیال آتا ہے اور ادھر اس کے دامن سے ایک اور ٹپک پڑتا ہے اور ذہنِ انسانی کو کشاں کشاں کسی اور سمت لیے جاتا ہے۔ وہاں پہنچتا نہیں کہ راہ کی بوقلمونیاں ایک نئی منزل کا اشارہ دے دیتی ہیں۔ ادھر کو چلتا ہے تو ناگہاں کوئی اور خیال وارد ہو کر راہ مارتا ہے۔ اس مظہر کو ماہرینِ نفسیات شعور کی رو (stream of consciousness) سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ ایک قدرتی اور فطرتی بہاؤ ہے جس میں رکاوٹ جنون کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ جنون خیالات کے ایک نکتے پر منجمد یا مرتکز ہو جانے کے سوا کچھ اور نہیں!

حیرت ہے کہ مغربی اکابرینِ ادب کو شعور کی رو سے ادب میں استفادے کا خیال بیسویں صدی میں جا کر آیا اور یہ استفادہ کیا بھی گیا تو ایسا بھونڈا کہ بجائے خود دیوانے کی بڑ معلوم ہوتا ہے۔ متغزلین کو دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ عرصۂِ دراز سے اس راہ کے شہسوار ہیں۔ اور شہسوار بھی ایسے کہ جن کی اڑائی ہوئی گرد بھی شعور کی رو کے تحت لکھنے والے مصنفین کے لیے سرمۂِ مفتِ نظر کی حیثیت رکھتی ہے۔ غزل کے مطلع سے لے کر مقطع تک احساسات اور افکار کا ایک دریا ہے جو بہتا چلا جاتا ہے اور میدانِ ہستی کے ذرے ذرے کو ساتھ بہائے لیے جاتا ہے۔ کیا ہے جو اس کی دست برد میں نہیں؟

بعض کا خیال ہے کہ غزل گو کو قافیے اور ردیف کی قید کہیں کی اینٹ، کہیں کا روڑا اٹھا کر بھان متی کا کنبہ جوڑنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ نہیں۔ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ ایک اوسط درجے کے شخص کے لیے نظم لکھنا درحقیقت غزل لکھنے سے زیادہ آسان ہے۔ اس کی صاف صاف وجہ یہ ہے کہ ایک خیال کا کسی مناسبِ حال ہئیت میں موزوں تفصیل کے ساتھ اظہار کرنا کسی غیر معمولی لیاقت کا تقاضا نہیں کرتا مگر آٹھ دس اشعار میں آٹھ دس خیالات کو کمالِ ایجاز و بلاغت کے ساتھ بیان کرنا پتا پانی کر دیتا ہے۔

اس سے مترشح ہوتا ہے کہ غزل کا حقیقی شاعر تخلیقی اور فکری وفور کے اعتبار سے باقی شعرا پر ایک غیرمعمولی فوقیت رکھتا ہے۔ وہ خیالات، احساسات اور اسالیب کی ایسی فراوانی سے بہرہ ور ہوتا ہے جو اظہارِ فن کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو گویا ایک نئے موقع کے طور پر دیکھتی ہے۔ جہاں زمینِ غزل نے کوئی ایسی کروٹ لی کہ جس پر بحر، قافیے یا ردیف کی غرابت کے باعث مرگِ فن کا شبہ ہو، وہیں ایک طرفہ خیال اور ایک نادر احساس جو نہاں خانۂِ دل میں گویا ازل سے اسی انتظار میں بیٹھا تھا، نکل کر مسکرانے لگا۔ متغزلین کے دیوان اٹھا کر دیکھیے۔ آپ کو اندازہ ہو گا کہ فکر اور احساس کا تنوع کیا شے ہے۔ بالفاظِ دیگر، انسان کیا شے ہے اور کائنات کیا شے ہے۔ یہ بصیرت آپ کو نظم نہیں دے سکتی!

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ میں کچھ دنوں میں اِسے چھوڑ جانے والا تھا ۔ ادریس بابر

غزل 

میں کچھ دنوں میں اِسے چھوڑ جانے والا تھا
جہاز غرق ہوا جو خزانے والا تھا

گلوں سے بوئے شکست اٹھ رہی ہے، نغمہ گرو!
یہیں کہیں کوئی کوزے بنانے والا تھا

عجیب حال تھا اِس دشت کا، میں آیا تو
نہ خاک تھی نہ کوئی خاک اُڑانے والا تھا

تمام دوست الاؤ کے گرد جمع تھے، اور
ہر ایک اپنی کہانی سنانے والا تھا

کہانی، جس میں یہ دنیا نئی تھی، اچھی تھی
اس اس پہ وقت، برا وقت، آنے والا تھا

بس ایک خواب کی دوری پہ ہے ہو شہر جہاں
میں اپنے نام کا سکہ چلانے والا تھا

شجر کے ساتھ مجھے بھی ہلا گیا، بابر
وہ سانحہ جو اُسے پیش آنے والا تھا

ادریس بابر

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ اپنے خوں سے جو ہم اک شمع جلائے ہوئے ہیں ۔ سحر انصاری

غزل

اپنے خوں سے جو ہم اک شمع جلائے ہوئے ہیں
شب پرستوں پہ قیامت بھی تو ڈھائے ہوئے ہیں

جانے کیوں رنگِ بغاوت نہیں چھپنے پاتا
ہم تو خاموش بھی ہیں سر بھی جھکائے ہوئے ہیں

محفل آرائی ہماری نہیں افراد کا نام
کوئی ہو یا کہ نہ ہو آپ تو آئے ہوئے ہیں

وقت کو ساعت و تقویم سمجھنے والوں
وقت ہی کے تو یہ سب حشر اُٹھائے ہوئے ہیں

اک تبسم کو بھی انعام سمجھتے ہیں سحر
ہم بھی کیا قحطِ  محبت کے ستائے  ہوئے ہیں

سحر انصاری

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ لہر دریا کو تو کُہسار کو قامت ملی تھی ۔ شہزاد اظہر

غزل

لہر دریا کو تو کُہسار کو قامت ملی تھی
دل کی کیا پوچھتے ہو دل کو محبت ملی تھی

پھول کچھ ہم نے بھی دامن میں اُٹھائے ہوئے ہیں
ہم کو بھی سیرِ گلستاں کی اجازت ملی تھی

توڑ سکتی تھی کسی لفظ کی ٹھوکر مجھ کو
میری مشکل، مجھے شیشے کی طبیعت ملی تھی

ایک میں ہی نہیں افزونیِ خواہش کا شکار
کوئی بتلاؤ کسی دل کو قناعت ملی تھی

دھوپ کے شہر میں سنولا گیا تِتلی کا بدن
پھول سی جان کو پوشاکِ تمازت ملی تھی

مجھ سے آباد ہوا تھا مرے حصے کا ورق
لفظ کا گھر تھا، مجھے جس کی اقامت ملی تھی

شہزاد اظہر

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ پیام آئے ہیں اُس یارِ بے وفا کے مجھے ۔ احمد فراز

آج کی معروف غزل

پیام آئے ہیں اُس یارِ بے وفا کے مجھے
جسے قرار نہ آیا کہیں بھلا کے مجھے

جدائیاں ہوں تو ایسی کہ عمر بھر نہ ملیں
فریب دو تو ذرا سلسلے بڑھا کے مجھے

نشے سے کم تو نہیں یادِ یار کا عالم
کہ لے اُڑا ہے کوئی دوش پر ہوا کے مجھے

میں خود کو بھول چکا تھا مگر جہاں والے
اداس چھوڑ گے آئینہ دکھا کے مجھے

تمہارے بام سے اب کم نہیں ہے رفعتِ دار
جو دیکھنا ہو تو دیکھو نظر اٹھا کے مجھے

کھنچی ہوئی ہے مرے آنسوؤں میں اک تصویر
فراز دیکھ رہا ہے وہ مسکرا کے مجھے

احمد فراز

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ تری جستجو میں بتاؤں کیا ، میں کہاں کہاں سے گزر گیا ۔ مقبول نقش

غزل

تری جستجو میں بتاؤں کیا ، میں کہاں کہاں سے گزر گیا
کہیں دل کی دھڑکنیں رُک گئیں، کہیں وقت جیسے ٹھہر گیا

ترے غم کی عمر دراز ہو، مرا فن اسی سے سنور گیا
یہی درد بن کے چمک گیا، یہی چوٹ بن کے اُبھر گیا

یہ تو اپنا اپنا ہے حوصلہ ، کہیں عزم اور کہیں گِلہ 
کوئی بارِ دوشِ زمیں رہا، کوئی کہکشاں سے گزر گیا

یہ اختلافِ مذاق ہے، یہی فرقِ وصل و فراق ہے
کوئی پائمالِ نشاط ہے، کوئی غم بھی پا کے سنور گیا

ترا لطف ہو کہ تری جفا، مِرے غم کی یہ تو نہیں دوا
مجھے اب تو اپنی تلاش ہے، میں تری طلب سے گزر گیا

وہ اُمنگ اور وہ ہما ہمی، جسے نقشؔ کہتے ہیں زندگی
دلِ نامُراد کے دَم سے تھی، دلِ نامُراد تو مر گیا

مقبول نقش

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ ہر طرف شورِ فغا ں ہے کوئی سنتا ہی نہیں ۔ عباس رضوی

غزل

ہر طرف شورِ فغا ں ہے کوئی سنتا ہی نہیں
قافلہ ہے کہ رواں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

اک صدا پوچھتی رہتی ہے کوئی زندہ ہے ؟
میں کہے جاتا ہوں ہاں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

میں جو چپ تھا ، ہمہ تن گوش تھی بستی ساری
اب مرے منھ میں زباں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

ایک ہنگامہ کہ اس دل میں بپا رہتا تھا
اب کراں تابہ کراں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

دیکھنے والے تو اس شہر میں یوں بھی کم تھے
اب سماعت بھی گراں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

کیا ستم ہے کہ مرے شہر میں میری آواز
جیسے آوازِ سگاں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

عباس رضوی

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ بلا کشانِ محبّت کی رسم جاری ہے ۔ محمد وارث اسدؔ

غزل

بلا کشانِ محبّت کی رسم جاری ہے
وہی اٹھانا ہے پتھر جو سب سے بھاری ہے

نگاہِ شوق نہیں، آہِ صبح و شام نہیں
عجب فسردہ دلی، حیف، مجھ پہ طاری ہے

یہی متاع ہے میری، یہی مرا حاصل
نہالِ غم کی لہو سے کی آبیاری ہے

زبانِ حق گو نہ تجھ سے رکے گی اے زردار
جنونِ عشق پہ سرداری کب تمھاری ہے

اسد نہ چھوڑنا تُو دامنِ وفا داراں
زمیں کی مانگ اسی جہد نے سنواری ہے

محمد وارث اسدؔ

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ حوصلہ دید ہ ٴ بیدار کے سو جاتے ہیں ۔ لیاقت علی عاصم

غزل

حوصلہ دید ہ ٴ  بیدار کے سو جاتے ہیں
نیند کب آتی ہے تھک ہار کے سو جاتے ہیں

روز کا قصہ ہے یہ معرکہ  ٴ یاس و اُمید
جیت کر ہارتے ہیں، ہار کے سو جاتے ہیں

سونے دیتے ہیں کہاں شہر کے حالات مگر
ہم بھی سفّاک ہیں جی مار کے سو جاتے ہیں

چاہتے ہیں رہیں بیدار غمِ یار کے ساتھ
اور پہلو میں غمِ یار کے سو جاتے ہیں

ڈھیر ہو جاتی ہے وحشت کسی آغوش کے پاس
سلسلے سب رم و رفتار کے سو جاتے ہیں

جاگتے تھے تری تصویر کے امکان جن میں
اب تو رنگ بھی دیوار کے سو جاتے ہیں

لیاقت علی عاصم

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ شب ِ تاریک میں لرزا ں شرار ِ زندگانی ہے ۔ سید عاطف علی

غزل

شب ِ تاریک میں لرزا ں شرار ِ زندگانی ہے
ترے غم کی رفاقت سے یہ عمر ِجاودانی ہے

مرا پیہم تبسم ہی مرے غم کی نشانی ہے
مرا دھیما تکلّم ہی مری شعلہ بیانی ہے

فقیہِ شہر کا اب یہ وظیفہ رہ گیا باقی،
امیر ِ شہر کی دہلیز پہ بس دُم ہلانی ہے

کوئی زنداں میں جب بھی نو گرفتارِ وفا آیا
مجھے ایسا لگا جیسے یہ میری ہی کہانی ہے

فغاں ہے خام تیری گر تجھے سودا ہے جلووں کا
کہ تو ناواقفِ رمزِ ِ ندائے لن ترانی ہے

سیاہی سے ترے گیسو کی پانی ہیں گھٹائیں بھی
زمیں کے آگے شرمندہ بلائے آسمانی ہے​

سید عاطف علی

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ میں خموشی سے رات سوئی تھی ۔ بشریٰ اعجاز

غزل 

میں خموشی سے رات سوئی تھی
میرے پہلو میں بات سوئی تھی

اک بدن پالکی میں جاگتا تھا
اور ساری برات سوئی تھی

بسترِ شب  پہ آسماں اوڑھے
بے خبر کائنات سوئی تھی

اے پری زاد تیرے ہجرے میں
ایک عورت کی ذات سوئی تھی

اک طرف سائبان بیٹھا تھا 
ایک جانب قنات سوئی تھی

ڈوبنے لگ گئے کنارے بھی
پانیوں میں نجات سوئی تھی

جانے کس درد کا تذبذب تھا
ہونٹ جاگے  تھے بات سوئی تھی

ایک ٹھوکر سے جاگ اُٹھی تھی
راستے میں حیات سوئی تھی

مرگِ دائم تھا رت جگا بشریٰ
زندگی بے ثبات سوئی تھی

بشریٰ اعجاز

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ آنکھ برسی ہے ترے نام پہ ساون کی طرح ۔ مرتضیٰ برلاس

آج کی معروف غزل 

آنکھ برسی ہے ترے نام پہ ساون کی طرح 
جسم سُلگا ہے تری یاد میں ایندھن کی طرح

لوریاں دی ہیں کسی قُرب کی خواہش نے مجھے
کچھ جوانی کے بھی دن گزرے ہیں بچپن کی طرح

اس بلندی سے مجھے تونے نوازا کیوں تھا
گر کے میں ٹوٹ گیا کانچ کے برتن کی طرح

مجھ سے ملتے ہوئے  یہ بات تو سوچی ہوتی
میں ترے دل میں سما جاؤں گا دھڑکن کی طرح

اب زلیخا کو نہ بدنام کرے گا کوئی 
اس کا دامن بھی دریدہ مرے دامن کی طرح

منتظر ہے کسی مخصوص سی آہٹ کے لئے
زندگی بیٹھی ہے دہلیز پہ برہن کی طرح

مرتضیٰ برلاس

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ دن ہو کہ رات، کنجِ قفس ہو کہ صحنِ باغ ۔ انجم رومانی

غزل

دن ہو کہ رات، کنجِ قفس ہو کہ صحنِ باغ 
آلامِ روزگار سے حاصل نہیں فراغ

رغبت کسے کہ لیجئے عیش و طرب کا نام 
فرصت کہاں کہ کیجئے صہبا سے پُر ایاغ

ویرانہء حیات میں آسودہ خاطری
کس کو مِلا اس آہوئے رم خوردہ کا سُراغ

آثارِ کوئے دوست ہیں اور پا شکستگی
خوشبوئے زلفِ یار ہے اور ہم سے بے دماغ

کس کی جبیں پہ ہیں یہ ستارے عرق عرق
کس کے لہو سے چاند کا دامن ہے داغ داغ

کرتے ہیں کسبِ نور اسی تیرگی سے ہم 
انجمؔ ہیں دل کے داغ کہر ہائے شب چراغ

انجم رومانی

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی ۔ شاہین عباس

غزل

اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی
کبھی ہوتی تھی مٹی اور کبھی ہوتی نہیں تھی

بہت پہلے سے افسردہ چلے آتے ہیں ہم تو
بہت پہلے کہ جب افسردگی ہوتی نہیں تھی

ہم اِک ایسے زمانے میں بھی گزرے ہیں یہاں سے
یہ گھر ہوتے تھے لیکن یہ گلی ہوتی نہیں تھی

دیا پہنچا نہیں تھا، آگ پہنچی تھی گھروں تک
پھر ایسی آگ، جس سے روشنی ہوتی نہیں تھی

نکل جاتے تھے سر پر بے سر و سامانی لادے
بھری لگتی تھی گٹھری اور بھری ہوتی نہیں تھی

ہمیں یہ عشق  تب سے ہے کہ جب دن بن رہا تھا
شبِ ہجراں جب اِتنی سرسری ہوتی نہیں تھی

پرانے حیرتی تھے اور زمانوں سے وہیں تھے
پرانی خامشی تھی اور نئی ہوتی نہیں تھی

ہمیں جا جا کہ کہنا پڑتا تھا، ہم ہیں ، یہیں ہیں
کہ جب موجودگی ، موجودگی ہوتی نہیں تھی

بہت تکرار رہتی تھی بھرے گھر میں کسی سے 
جو شے درکار ہوتی تھی، وہی ہوتی نہیں تھی

شاہین عباس

[ہفتہ ٴ غزل] ۔ پندار کی ویران سرا میں نہیں رہتے ۔ ظہیر احمد ظہیر

غزل

پندار کی ویران سرا میں نہیں رہتے
ہم خاک پہ رہتے ہیں خلامیں نہیں رہتے

قامت بھی ہماری ہے ، لبادہ بھی ہمارا
مانگی ہوئی دستار و قبا میں نہیں رہتے

ہم کشمکشِ دہر کے پالے ہوئے انسان
ہم گریہ کناں کرب و بلا میں نہیں رہتے

خاشاکِ زمانہ ہیں ، نہیں خوف ہمیں کوئی
آندھی سے ڈریں وہ جو ہوا میں نہیں رہتے

ہم چھوڑ بھی دیتے ہیں کُھلا توسنِ دل کو
تھامے ہوئے ہر وقت لگامیں نہیں رہتے

روحوں میں اتر جاتے ہیں تیزاب کی صورت
لفظوں میں گھلے زہر صدا میں نہیں رہتے

احساس کے موسم کبھی ہوجائیں جو بے رنگ
خوشبو کے ہنر دستِ صبا میں نہیں رہتے

اونچا نہ اُڑو اپنی ضرورت سے زیادہ
تھک جائیں پرندے تو فضا میں نہیں رہتے

دستار بنے جاتے ہیں اب شہرِ طلب میں
کشکول کہ اب دستِ گدا میں نہیں رہتے

اس خانہ بدوشی میں خدا لائے نہ وہ دن
جب بچھڑے ہوئے یار دعا میں نہیں رہتے


ظہیر احمد ظہیر

FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک