افسانہ : سفید بھیڑ

سفید بھیڑ
محمداحمد​

کلیِم کو نہ جانے کیا تکلیف ہے۔
وہ اُن لوگوں میں سے ہے جو نہ خود خوش رہتےہیں نہ دوسروں کو رہنے دیتے ہیں۔ 
18 تاریخ ہو گئی ہے اور مجھے ہر حال میں 25 سے پہلے پہلے احمر کی فیس جمع کروانی ہے۔ پیسوں کا بندوبست بھی سمجھو کہ ہوگیا ہے لیکن بس ایک کانٹا اٹکا ہوا ہے اور وہ ہے کلیم۔ 

امداد حسین کے روز فون آ رہے ہیں ۔ وہ ہر روز پوچھتا ہے کہ میرے کام کا کیا بنا ۔ اب میں اُسے کیا کہوں کہ کلیم اُس کی فائل پر سانپ بنا بیٹھا ہے۔ کم بخت نہ خود چین سے جیتا ہے اور نہ ہمیں جینے دیتا ہے۔


میں ایک سرکاری محکمے میں ملازم ہوں ۔ آپ کو تو پتہ ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے۔ یہ تو وہ چادر ہے کہ سر پر اوڑھو تو پیر تو کیا گھٹنے تک کھل جاتے ہیں۔ اوپر سے یہ ایمانداری کا ٹھیکیدار ہم پر مسلط ہو گیا تھا ۔ بندہ آخر کرے تو کیا کرے۔ ارے بھئی اوپر تو بندہ جب جواب دے گا تب دے گا، یہاں تو سکون سے جینے دو۔ 

امداد حسین ایک کنٹریکٹر ہے ، جو سرکاری اداروں میں ٹھیکے پر محتلف نوعیت کے کام کرتا ہے۔ وہ اس میدان کا پرانا کھلاڑی ہے سو جانتا ہے کہ سرکاری محکمے سے کام کیسے لیا جاتا ہے اور کس طرح کا کام کرکے دیا جاتا ہے۔ افسر سے لے کر چپراسی تک سب کو کیسے خوش رکھا جائے یہ امداد حسین اچھی طرح سمجھتا ہے۔ پھر ہم تو کہتے ہیں کہ اچھا آدمی وہی ہوتا ہے جو مل مِلا کر کھائے اور امداد حسین سب کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ 

کلیم ہمارے ہاں بطور سروئیر کام کرتا ہے۔ بلکہ کام بھی کیا کرتا ہے اُلٹا کام روک کر بیٹھ جاتا ہے۔ میں تو ایک چھوٹا سا ملازم ہوں اُس سے تو بڑے بڑے افسر تنگ ہیں لیکن نہ جانے کیا اڑچن ہے کہ اُس کا پتّہ ابھی تک صاف نہیں کر سکے ۔ 

بہر حال ماجرہ کچھ یوں ہے کہ امداد حسین کے ایک بڑے پروجیکٹ کی ادائیگی ہمارے محکمے کی طرف سے ہونی ہے اور چونکہ یہ حتمی ادائیگی ہے سو اُس سے پہلے پروجیکٹ سروے رپورٹ اور سٹسفکشن نوٹ کا تیار ہونا ضروری ہے۔ یوں تو سب دستاویزات تیار ہیں لیکن کلیم بطور سروئیر اُس پر دستخط کرنے پر راضی نہیں ہے ۔ اُس کے حساب سے پروجیکٹ پر غیر معیاری مٹیریل استعمال کیا گیا ہے اور معاہدے کی بہت سی شقوں کو سراسر نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔ اس الو کے پٹھے سے کوئی یہ پوچھے کہ سرکاری محکمے میں کام ایسے نہیں ہوگا تو کیسے ہوگا۔ اب مسئلہ یہ آن کھڑا ہوا ہے کہ سروئیر کے دستخط کے بغیر ادائیگی ممکن نہیں ہے ۔ 

میں کلیم سے خود بھی ملا اور اُسے سمجھایا کہ بھائی تیرے باپ کا کیا جا رہا ہے اُلٹا کچھ نہ کچھ مل ہی جائے گا تیرے بچوں کے ہی کام آئے گا۔ لیکن اُس کی کھوپڑی میں بُھس بھرا ہے۔ سمجھنے کے بجائے وہ اُلٹا مجھے لیکچر دینے لگا۔ اُس کی بکواس سننے کی تاب مجھ میں نہیں تھی سو اُس پر لعنت بھیج کر چلا آیا لیکن یہ بات میرے دل میں پھانس کی طرح چبھ گئی ۔

جیسا کہ میں نے بتایا کہ مجھے ہر حال میں 25 تاریخ تک احمر کی فیس جمع کروانی ہے اور تنخواہ میں سے اتنی بڑی رقم نکالنا ممکن نہیں ہے۔ میں نے احمر کو ایک بہت ہائی اسٹینڈرڈ کے اسکول میں داخل کروایا ہے یہ شہر کی معروف اسکول چین ہے اور کیمبرج سسٹم سے وابستہ ہے۔ گو کہ اس کی فیس اور دیگر اخراجات میری آمدنی سے لگّا نہیں کھاتے لیکن بچوں کے مستقبل پر تو سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ۔ میں اپنے بیٹے کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہوں اور گلی محلے میں بنے دو دو ٹکے کے اسکول میں پڑھ کر تو یہ ممکن نہیں ہے۔ 

کلیم کو ہی دیکھ لو ، سالے نے مر کھپ کے انجینیرنگ کی ڈگری لی ۔ اس کا باپ اس کی فیس دے دے کر مر گیا ۔ اب وہی حرکت یہ بے وقوف بھی کر رہا ہے ۔ یعنی وہی تھرڈ کلاس نوکری اوپر سے ایمانداری کا بخار ۔مزے کی بات یہ ہے کہ اب اس کے بچے دو کمرے کے اسکول میں پڑھ رہے ہیں ۔ اِن لوگوں کی نسلیں ایسے ہی ذلیل ہوتی رہیں گی لیکن عقل نہیں آئے گی۔ 

*****​

بہرحال حل تو ہر مسئلے کا موجود ہوتا ہے۔ بس تلاش کرنے والا ہونا چاہیے۔ سو میں نے کچھ ہمت کی اور حل نکل ہی آیا ۔
میرا پلان سادہ سا تھا۔ آج صبح میں گاڑی کے بجائے بائیک لے کر نکلا۔ دفتر آنے کے لئے میں گاڑی استعمال کرتا ہوں لیکن گھر کے چھوٹے موٹے کاموں کے لئے بائیک استعمال کرتا ہوں۔ لیکن آج چونکہ 'اسپیشل ڈے' تھا سو آج بائیک پر آنا ضروری تھا ۔ ہاں البتہ کچھ جلدی نکلنا پڑا کہ 'شکار' پر جانے کے لئے جلدی ہی نکلنا ہی پڑتا ہے۔ 

سیاہ شیشے والے سُرخ ہیلمیٹ میں میری شناخت صرف ایک بائیکر کی حیثیت سے ہی ہو سکتی تھی۔ میرا وقت کا اندازہ بھی ٹھیک ہی نکلا۔ بامشکل دو چار منٹ انتظار کرنے پر مجھے وہ گھر سے نکلتا نظر آ یا ۔ اُس نے سفید قمیض پہنی ہوئی تھی اور اُس کا نیلا ہیلمیٹ بائیک کی ٹنکی پر رکھا ہوا تھا ۔ اندھا کیا چاہے ، دو آنکھیں۔ دو گلیاں کراس کرنے کے بعد ہم مین روڈ پر آگئے یہاں ٹریفک کی رفتار نسبتاً زیادہ تھی۔ میں اُس کی بائیک کے پیچھے تھا۔ موقع مناسب دیکھ کر میں نے ایکسیلریٹر پر دباؤ بڑھایا اور تیزی سے اُس کی بائیک کے عین پیچھے پہنچ کر اپنا اگلا وہیل اُس کے پچھلے وہیل پر ٹچ کرتے ہوئے بائیں طرف ہلکا سا جھٹکا دے دیا۔ 

وہ نہ جانے کن خیالوں میں کھویا ہوا تھا کہ میرا ہلکا سا اشارہ بھی اُس کے لئے کافی رہا۔ اُس کی گاڑی جھولتی ہوئی آگے چلتے چھوٹے ٹرک سے ٹکرائی اور اُس کا سر ٹرک کے دیسی ساختہ ڈھالے سے ٹکرا گیا۔ تاہم 'اس کام ' میں 'ناتجربے کاری ' کے باعث میں بھی سڑک پر گر گیا۔ یہ اچھا ہوا کہ میرا ہیلمیٹ نہیں اُترا۔ چونکہ میں باقاعدہ زخمی نہیں ہوا تھا سو آنے والے ہمدردوں اور تماش بینوں کی ساری توجہ 'اُس' کی طرف ہی تھی اور یہ موقع میرے لئے غنیمت تھا۔ میں لنگڑاتا ہوا اُٹھا اور کپڑے جھاڑنے کے بجائے بائیک پر بیٹھ کر تقریباً اُڑنے کی رفتار سے نکل گیا۔ شاید کچھ لوگ مجھے آواز دے رہے تھے لیکن میں نے مُڑ کر نہیں دیکھا۔ یوں ہمارے ہاں اس صورتحال میں یہ سب کوئی نئی بات نہیں تھی۔ کسے پتہ تھا کہ یہ ایکسیڈینٹ اتفاقی نہیں تھا۔ میری بائیک کی چھوٹی سی نمبر پلیٹ پر لتھڑی مٹی بھی کسی کے لئے نئی بات نہیں ہوگی کہ موٹر سائیکل کا نمبر پڑھ لینا کبھی آسان نہیں ہوتا۔ 

باقی 'سیٹنگ' مشکل نہیں ہے۔ کلیم کی غیر موجودگی میں الطاف صاحب کسی نہ کسی طرح ایڈیشنل چارج لے ہی لیں گے اور پھر امداد حسین سمیت ہم سب کا ہی بیڑہ پار لگ جائے گا کہ اصل کانٹا تو نکل ہی گیا ہے۔ 

*****​

آپ سوچتے ہوں گے کہ میں بھی کیسا سفاک ہوں، کتنا ظالم ہوں۔ لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ میں اتنا بُرا بھی نہیں ہوں۔ اگر کلیم اتنی ہٹ دھرمی نہیں دکھاتا تو نوبت یہاں تک نہیں پہنچتی۔ کلیم کے ساتھ جو بھی ہوا اُس کا دکھ مجھے بھی تھا تاہم اس میں قصور سراسر کلیم ہی کا تھا۔ ایکسیڈینٹ کے دوسرے دن اپنا فرض سمجھتے ہوئے میں نے اُس کے لئے ایک قیمتی اور حسین پھولوں کا گلدستہ بنوایا اور کلیم سے ملنے ہسپتال پہنچا ۔ آخر کو وہ میرا دفتری ساتھی تھا ۔ 

میں پہنچا تو کلیم دواؤں کے زیرِ اثر سویا ہوا تھا۔ یہ اچھا ہی ہوا کہ شاید اُس وقت کلیم سے آنکھیں ملانا اور بات کرنا میرے لئے اتنا آسان نہیں ہوتا۔ میں نے کلیم کی اہلیہ سے اُس کی خیریت پوچھی۔ اُس کے صرف سر پر ہی چوٹ لگی تھی اور کچھ ٹانکے وغیرہ آئے تھے ۔ باقی جسم متاثر نہیں ہوا تھا۔ 

رسمی کلمات کے بعد میں نے اجازت چاہی اور چلتے وقت ایک معقول رقم کا لفافہ اُس کی اہلیہ کے ہاتھ میں تھما دیا کہ کلیم کے علاج معالجے میں خرچ کر لیں اور اُسے کچھ کہنے کی مہلت دیے بغیر نیچے اُتر آیا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ایسے وقت پر مالی سہارا بڑا اہم ہوتا ہے۔ یہ بات البتہ دگر ہے کہ مجھے بھی یہ کام کرکے کافی سہارا ملا اور اگر مجھے کوئی پچھتاوا تھا بھی تو وہ رفع ہو گیا۔ 

ہسپتال کے مین گیٹ سے نکل کر میں باہر آیا تو امداد حسین گاڑی میں میرا منتظر تھا۔ امداد حسین کو تو یہ تک نہیں پتہ تھا کہ کلیم کے اس حال پر پہنچنے کی ایک وجہ وہ بھی ہے۔ تاہم کلیم کے ایکسیڈینٹ کا سُن کر امداد حسین نے پیشگی ہی وہ پیسے دے دیے تھے، جو اگر کلیم کو دیے جاتے تو وہ کبھی نہ لیتا۔ بے وقوف جو ہوا۔ 

ویسے میں سوچتا ہوں کہ کلیم خوش قسمت ہی تھا ورنہ ایکسیڈینٹ میں تو لوگ جان سے بھی چلے جاتے ہیں۔

*****​

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک