غزل ۔ اب جو خوابِ گراں سے جاگے ہیں

غزل

اب جو خوابِ گراں سے جاگے ہیں
پاؤں سر پر رکھے ہیں، بھاگے ہیں

خارِ حسرت بھرے ہیں آنکھوں میں
پاؤں میں خواہشوں کے تاگے ہیں

خوف ہے، وسوسے ہیں لیکن شُکر
عزم و ہمت جو اپنے آگے ہیں

رخت اُمید ہے سفر کی جاں
ساز و ساماں تو کچے دھاگے ہیں

تم سے ملنا تو اک بہانہ ہے
ہم تو دراصل خود سے بھاگے ہیں

لاگ لاگے نہیں لگی احمدؔ
ہم جو سوئے تو بھاگ جاگے ہیں

محمد احمدؔ​

2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

گمنام کہا...

اس خوبصورت تحفہ کا شکریہ۔۔
میں آپ کی اس کاوش کو سراہتا ہوں اور اردو کی نیٹ پہ ترقی کے لیئے ایک سنگ میل گردانتا ہوں۔۔

Muhammad Ahmed کہا...

شکریہ اے گمنام مداح! :)

آپ کی حوصلہ افزائی خاکسار کے لئے مشعلِ راہ کا کام کرے گی۔ :)

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک