نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے زندگی اے دوست

غزل

نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے زندگی اے دوست
بڑی طویل کہانی ہے، پھر کبھی اے دوست

کوئی زمانے میں رہتا نہیں خوشی سے اُداس
بس اور کیا کہوں وجہِ فسردگی اے دوست

سمجھتے ناز کہاں تک ترے تغافل کو
خطا معاف کہ ہم بھی ہیں آدمی اے دوست

سیہ نصیب نہ مجھ سا بھی ہو زمانے میں
ترے بغیر گزرتی ہے چاندنی اے دوست

نہ جانے کیوں تری قربت کے بھی حسیں لمحات
گراں گزر گئے دل پر کبھی کبھی اے دوست

صادق القادری صادق

0 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک