[ہفتہ ٴ غزل] ۔ تعارف

ہفتہ ٴ غزل

ہمیں نہیں معلوم کہ ہمیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہونی چاہیے کہ نہیں تاہم امرِ واقعہ یہ ہے کہ ہم رعنائیِ خیال پر ایک عدد ہفتہ، غزل کے نام کرنا چاہتے ہیں۔ ایک ہفتہ خالصتاً اردو غزل کے نام۔

اس ہفتہ ٴ غزل میں ہم ایک ہفتے تک یعنی یکم جنوری سے سات جنوری تک روزانہ منتخب کلام پیش کریں گے اور ساتھ میں کچھ ہلکے پھلکے مضامین بھی۔ چند منتخب غزلیات کے ساتھ روز ایک معروف غزل بھی پیش کی جائے گی۔ یوں تو معروف غزل کی تعریف ممکن نہیں ہے تاہم ہم نے زیادہ تر وہ غزلیں چنی ہیں کہ جنہیں گایا بھی گیا ہے اور اُنہیں عوام و خواص میں قبولِ عام نصیب ہوا ہے۔

انتخاب:

ہفتہ ٴ غزل میں پیش کی جانے والی غزلیات ہمارا اپنا انتخاب ہیں یعنی جو غزلیات ہمیں اچھی لگی ہم نے اُنہیں چن لیا۔ پہلے ہماری زیادہ تر کوشش یہ تھی کہ یہاں ایسا کلام پیش کیا جائے جو انٹرنیٹ کی دنیا میں موجود نہ ہو اور اسی لئے زیادہ تر کلام ہم نے خود ٹائپ کیا۔ تاہم ہم نے اس کام میں اتنا وقت لگا دیا کہ اس میں سے بھی بہت سا کلام اب انٹرنیٹ پر شامل ہو چکا ہے۔ بہرکیف چونکہ ہم نے یہ کلام ہفتہ ٴ غزل کے لئے منتخب کیا ہے سو ہم نے کچھ چیزیں ایسی بھی شامل کر دی ہیں جو انٹرنیٹ پر موجود تو ہیں لیکن کونوں کھدروں میں پڑی ہیں۔

زمانہ:

اگر زمانے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پیش کی جانے والی غزلیات نہ تو بالکل جدید ہیں اور نہ ہی قدیم یعنی یوں سمجھیے کہ روزِ حاضر سے دس پندرہ سال ادھر اُدھر کا زمان ہوگا جہاں سے یہ غزلیات اخذ کی گئی ہیں اور کچھ شاید اس کلیے سے بھی ماورا ء ہوں۔

ترتیب:

ہفتہ ٴ غزل میں غزلیات نہ تو حروفِ تہجی کے اعتبار سے پیش کی جائیں گی اور نہ ہی شعراء میں تقدیم و تاخیر کا خیال رکھا جائے گا بلکہ ہماری خواہش ہے کہ مختلف رنگوں کے پھولوں سے ایک گلدستہ سا بنا کر روز پیش کیا جائے کہ جس میں رنگ ہا رنگ گلوں کی موجودگی ایک حسین امتزاج کی مانند محسوس ہو۔ اور ہر طرح کے شائقین ِ غزل کے تشفی کا سامان ہو سکے۔

رسائی :

اگر آپ اس ہفتہ ٴ غزل میں دلچسپی رکھتے ہیں تو اپڈیٹ رہنے کے لئے یا تو آپ کو گاہے گاہے رعنائیِ خیال کا دورہ کرنا ہوگا یا پھر آپ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ سائیڈ بار کے آخر میں دیے گئے"سبسکرپشن بذریعہ ای میل" کے خانے میں اپنی ای میل درج کر دیجے۔ نئی پوسٹس کی اطلاع آپ تک بذریعہ ای میل پہنچ جائے گی۔

آپ کی آراء:

اگر آپ ہفتہ ٴ غزل پر یا اس میں شامل کردہ کلام یا مضامین پر اپنی اچھی یا بری رائے دیں گے تو ہمیں خوشی ہوگی۔ آپ چاہیں تو اپنا تبصرہ ہر پوسٹ کے آخر میں درج کر سکتے ہیں ۔ مزید براں اگر آپ کسی اور ذریعے سے اپنا تبصرہ ہم تک پہنچانا جانتے ہیں تو یہ آپ کی صوابدید پر ہے۔

اغراض و مقاصد:

اس ہفتہ ٴ غزل سے ہمیں کوئی مالی منفعت ہر گز درکار نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس سے کسی اور قسم کے فوائد اُٹھانے کے خواہاں ہیں تاہم اپنی اور باذوق قارئین کے ذوق کی تسکین اگر ایک پوسٹ سے بھی ہوتی ہے تو یہ ہمارے لئے باعثِ مسرت ہوگا۔

خیر اندیش

محمد احمدؔ

ستارے مُڑ کے بہت دیکھتے ہیں، کیا ہوا تھا

غزل 

ستارے مُڑ کے بہت دیکھتے ہیں، کیا ہوا تھا
کہ دل، یہ پھول ہمیشہ سے کب کِھلا ہوا تھا

کسی غزال کا نام و نشان پوچھنا ہے
تو پوچھیے، میں اُسی دشت میں بڑا ہوا تھا

کمال ہے کہ مِرے ساتھ ساتھ رہتے ہوئے
وہ شخص جیسے کہیں اور بھی گیا ہوا تھا

ہنسی خوشی سبھی رہنے لگے، مگر کب تک
میں پوچھتا ہوں کہانی کے بعد کیا ہوا تھا

پھر ایک دن مجھے اپنی کتاب یاد آئی 
تو وہ چراغ وہیں تھا، مگر بجھا ہوا تھا

خوشی سے اُس کو سہارا نہیں دیا میں نے
مگر وہ سب سے اکیلا تھا، ڈوبتا ہوا تھا

کہ جیسے آنکھ جہانِ دگر میں وا ہوگی
بتا رہے ہیں کہ میں اِس قدر تھکا ہوا تھا

ادریس بابر

بشکریہ : فلک شیربھائی

مژگاں تو کھول

مژگاں تو کھول
محمد احمدؔ​

اگر آپ تاریخ سے دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ نے کئی ایک جگہ سنا اور پڑھا ہوگا کہ سنہ سترہ سو فلاں فلاں میں فلاں صاحب کی ولولہ انگیز تقریر سے قوم میں بیداری کے لہر دوڑ گئی ۔ اور پھر 60 سال بعد فلاں فلاں واقعے کے ظہور پذیر ہونے سے ملت جاگ اُٹھی ۔ اور پھر 90 سال بعد فلاں سانحے یا جنگ وغیرہ سے قوم کے جوان بیدار ہوگئے۔ اگر دیکھا جائے تو ہر سو پچاس سال بعد اُٹھنے والی یہ بیداری کی لہریں بتاتی ہیں کہ بیچ کے عرصے میں قوم سوتی رہی ہے اور اُسے جگانے کے لئے درونِ خانہ کوئی بندوبست نہ تھا سو بیرونی بیداری کی لہریں ادھر اُدھر سے تشریف لائیں اور قوم کو خوابِ غفلت سے اس بُری طرح جگایا کہ قوم بھونچکا رہ گئی۔ اور اس نو بیدار قوم کی حالت دیکھ کر شاعر نے کہا کہ: 

ہر کہ اُو بیدار تر، پُر درد تر​

مزے کی بات یہ ہے کہ کچھ منفی ذہنیت کے لوگوں نے قوم کی میٹھی نیند میں دخل اندازی کرنے والے ان عناصر کو ہیرو بنا کر پیش کیا اور نیند سے نئی نئی جاگی قوم صورتحال کو کماحقہ سمجھ نہ پائی۔ نتیجتاً یہ عناصر آج تک ہیرو لکھے اور پُکارے جاتے ہیں۔ یہ تو شکر ہے کہ اُس زمانے میں قوم کا کوئی نیریٹو یعنی بیانیہ نہیں ہوا کرتا تھا ورنہ ہر سو پچاس سال بعد یہ بیانیہ بیداری کی لہر کی بھینٹ چڑھ جاتا۔ 

ہمارے ہاں خوابِ غفلت اورنام نہاد بیداری کا کھیل اس تسلسل سے کھیلا جا رہا ہے کہ اگر کچھ عرصے بیداری کی لہر نہ اُٹھے تو اکثر لوگوں کے پیٹ میں مروڑ اُٹھنے لگتے ہیں تاہم عقلمندی کا تقاضہ یہ ہےکہ اگر آپ کو اس قسم کی کوئی تکلیف ہو بھی تو ادب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے اور ناصر کاظمی کی طرز پر شکایت کو ادب کا جامہ پہنایا جائے۔ یعنی طبیب سے کہا جائے کہ "دل میں اِک لہر سی اُٹھی ہے ابھی!" اور جب طبیب مکرر استفسار کرے کہ "دل میں؟" تو کہیں "تھوڑا سا نیچے" ۔ ویسے ہمارا خیال ہے کہ ناصر کاظمی کے ہاں اتنی لہریں نہیں اُٹھیں تھیں جتنی غلام علی صاحب کے بطن سے اُٹھیں ۔ تاہم جن لوگوں نے غلام علی کو نہیں سُنا اُن کے ہاں تو محض سردی اور گرمی کی لہریں ہی رہ جاتی ہیں جو میڈیا والے خبروں کی قلت کے دنوں میں اٹھایا کرتے ہیں۔ 

آپ کہہ رہے ہوں گے کہ ہم پٹری سے اُتر رہے ہیں اور ہم سوچ رہے ہیں کہ ہم کسی طرح پٹری پر چڑھ جائیں تاکہ زندگی کی گاڑی کو کسی سکون والے اسٹیشن پر کھڑی کرکے باقی ماندہ نیند پوری کر سکیں۔ 

بہرکیف بات ہو رہی تھی لمحاتی بیداری کی اور خوابِ غفلت کی ہمیشگی کی۔ ہمارے ہاں بیداری کی تحریکیں مختلف ادوار میں مختلف انداز میں اُٹھتی رہی ہیں۔ ہر مصلح نے اپنے تئیں قوم کو جگانے کی کوشش کی اور کچھ بے چارے کچی نیند کے مارے اُن کی چکنی چپڑی باتوں میں آ بھی گئے جو آگے چل کر خود بھی مصلح کہلائے۔ باقی قوم ہنوز خوابِ خر میں مبتلا رہی اور داعیانِ بیداری کی جانب گوش ِ ناشنوائی کو ڈھال بنائے رکھا۔ 

کسی ایسے موڑ پر جب قوم کو بیدار کرنے کے دشوار گزار کام میں مسلسل ناکامی سے مصلحین عاجز آئے ہوئے تھے ، اُن کی مڈبھیڑ سیانوں سے ہو گئی جیسا کہ سیانے ہر موقع پر کچھ نہ کچھ کہتے ہیں اُنہوں نے اس موقع کو بھی خالی نہیں جانے دیا اور مصلحین کو سمجھایا کہ جب بھی کوئی عظیم کام درپیش ہو تو اُسے ایک دم سے انجام دے دینا ممکن نہیں ہوتا ۔ سو بڑے کام کو ہمیشہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ لیں، درجہ بہ درجہ کام آسانی سے نمٹ جائے گا۔ 

کچھ سمجھتے ہوئے اور کچھ نہ سمجھتے ہوئے مصلحین نے اس کارِ عظیم کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا اور پھر سے اپنے محاذ پر جُت گئے ۔ اب اُنہوں نے پوری قوم کو ایک ساتھ جگانے کے بجائے اُنہیں ٹکڑوں میں بانٹ کر جگانے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں تاریخ میں مختلف قسم کے بیداری کے نعرے ملتے ہیں جن کی ٹارگیٹ آڈینس الگ الگ تھی۔ 

اب کبھی وہ جا گ مہاجر جاگ کا نعرہ لگاتے تو کبھی جاگ پنجابی جاگ ۔ باقی زبانوں میں بھی یقیناً لوگوں کو جگانے کا کام کیا جاتا رہا ہو گا تاہم زبان سے ناآشنائی کے باعث ہم قیاس آرائی سے احتراز برتتے ہیں۔ پھر جب لسانی بنیادوں پر لوگ اُن کی نہ سنتے تو مسلکی اور مذہبی بنیادوں پر جاگ ۔۔۔۔۔ جاگ کا نعرہ لگاتے اور بیچ میں اپنے مخاطب کو اٹکا دیتے۔ 

مجھے یاد ہے بچپن میں کچھ ایسے پمفلٹ دیکھنے کو ملتے کہ جن میں ماؤں بہنوں سے خطاب کیا جاتا اور ان پمفلٹس سے پتہ چلتا کہ فلانی قوم آپ کی قوم کو تباہ برباد کرنے کے درپے ہے اور آپ اب بھی نہ جاگے تو تاریخ میں آپ کا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔ یقیناً فلانی قوم کو بھی اسی قسم کے دھمکی آمیز پیغام ملتے رہتے ہوں گے۔ یہاں بھی وہ لوگ جو پہلے سے بے خوابی کا شکار ہوا کرتے تھے ان مصلحین کے ساتھ مل جاتے اور خوفِ فساد خلق سے بیگانہ ہو کر نہ جانے کیا کیا کہتے پھرتے۔ 

شعرائے کرام کسی بھی تحریک کی روحِ رواں ہو ا کرتے ہیں سو اُنہوں نے گاہے بہ گاہے اُٹھنے والی بیداری کی لہروں میں بھی اپنی شاعری سے مزید ارتعاش پیدا کیا جن سے بیش تر سونے والوں کے کان جھنّا کر رہ گئے لیکن تب بھی آفرین ہے، شعراء کو نہیں! بلکہ سونے والوں کو کہ اُنہوں نے شعراء کی چارہ سازی کا کوئی بندوبست نہ کیا یعنی اُنہیں گھاس نہیں ڈھالی۔ اس نعمت بہ رنگِ زحمت کے باعث شعراء کرام کا "بے چارہ" طبقہ گھاس کھائے جانے کے الزام سے بچ گیا۔ 

یوں تو اگر اردو شاعری سے بیداری کے لئے لکھی جانے والی شاعری کی تلاش شروع کی جائے تو ڈھیر لگ جائے لیکن یہاں ہم فقط دو چار مثالیں پیش کر رہے ہیں۔ 

مثلاً یہ شعر دیکھیے:

اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہو گا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا​

اُٹھو اور دوڑو! ارے بھئی اُٹھنے اور دوڑنے کے بیچ میں اگر ناشتہ تیار ہے کی صدا بھی لگا دی جاتی تو شاید کچھ پوستی مارے ناشتہ کرنے کے لئے ہی اُٹھ جاتے ۔ لیکن شاعر نے زورِ بیان پر دھیان دیا اور سونے والوں کی فطرت سے غفلت برتی ۔ نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ 

یہ شعر بھی دیکھیے:

اے آنکھ!اب تو خواب کی دُنیا سے لوٹ آ
مژگاں تو کھول!شہر کو سیلاب لے گیا!​

یہاں بھی مصلحین نے سیانوں والی تکنیک آزمائی یعنی پورے بندے کو جگانے کے بجائے صرف آنکھ پر قسمت آزمائی کی۔ سونے والوں نے یہ تو سنا کہ کوئی اُنہیں کچھ کہہ رہا ہے تاہم نیند میں یہ نہ سمجھ پائے کہ مژگاں کھولنے سے مراد پلکیں اُٹھانا ہے ورنہ وہ اتنے بھی سست نہ تھے کہ پلکیں بھی نہ اُٹھا پاتے۔ 

لیکن جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی اور جس طرح سارے پوستی ایک جیسے نہیں ہوتے اُسی طرح سب شاعر بھی ایک سے نہیں ہوتے اور کچھ ہماری طرح کے بھی ہوتے ہیں جو خود غافلین میں شمار ہوتے ہیں اور کیا خوب شمار ہوتے ہیں۔ ایسے ہی کسی شاعر کا شعر دیکھیے:

ڈالی ہے اس خوش فہمی نے مجھ کو سونے کی عادت 
نکلے گا جب سورج تو خود مجھ کو آن جگائے گا
جب اس مسئلےپر ہم نے غور کیا تو ہمیں ایک ہی بات سمجھ آئی اور وہ یہ کہ اگر بچپن سے ہی لوگوں میں بیداری کی عادت ڈالی جائے تو وہ بعد میں بھی سوتے رہنے کی کیفیت سے نکل کر سونے جاگنے کی کیفیت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ دیکھا جائے تو بچوں میں بیداری کی لہریں بڑوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ قوی ہوتی ہیں۔ تاہم بچوں کی یہ بیداری کی لہریں اکثر بڑوں کی نیند کے اوقات سے متصادم ہوا کرتی ہیں اور بڑے جو مصلحین کو بھی کسی گنتی میں نہیں لاتے بچوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ نتیجتاً ہمارے ہاں مائیں اکثر بچوں کو مار مار کر سُلاتی نظر آتی ہیں کہ "کمبخت سوجا۔ کیا تو نے جینا حرام کیا ہوا ہے میرا"۔ اور سوتے بچوں کو مار مار کر اُٹھایا جاتا ہےکہ"کمبخت اس وقت سو رہا ہے اور جب سونے کا وقت ہو گا تو اُٹھ بیٹھے گا"۔ اس شدید تشدد کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچوں میں اُٹھنے والی بیداری کی لہریں پسپا ہو جاتی ہیں اور وہ ماں باپ کے ساتھ ساتھ سونے اُٹھنے لگتے ہیں اور کبھی خدانخواستہ بچوں کی آنکھ کھل جائے اور ماں باپ سو رہے ہوں تو بیچارے سہم کر پھر سے سو جاتے ہیں۔ 

نونہالوں میں بیداری کی لہر کا گر کسی نے اہتمام کیا تو وہ ہمارے عزیز ترین مصلح جناب حکیم محمد سعید صاحب تھے کہ جو بچوں کا رسالہ "نونہال" نکالا کرتے تھے اور اُس کا پہلا مضمون ہی "جاگو جگاؤ" ہوا کرتا تھا۔ اس مضمون میں بیدار مغز لوگوں کی باتیں ہوا کرتی تھیں اور جو بچوں کو عملی زندگی میں غافلین میں شامل ہونے سے روکتی تھیں۔ 

اس جاگو جگاؤ تحریک کا توڑ لوگوں نے یہ نکالا کہ نونہالوں میں بچوں کے رسالے پڑھنے کا ماحول ہی ختم کر دیا ۔ اب مزے کی بات یہ ہے کہ جو بچے بچوں کے رسائل پڑھے بغیر پروان چڑھے وہ بڑے ہو کر بھی یہ طفلانہ رسائل نہیں پڑھ سکتے۔ جان بچی سو لاکھوں پائے۔ 



آج کے دور میں بیداری کی سب سے بڑی تحریک کا عَلم موبائل فون کے الارمز نے اُٹھایا ہوا ہے اور اُن کے مقابل وہ ناقابلِ شکست ہاتھ ہیں کہ جن کا عزمِ مصمّم ہر بار الارم بجنے پر اسنوز کی ناب دبانے کا فریضہ جی جان سے انجام دیتے ہیں اور کبھی کبھی اسنوز پر ہی بس نہیں کرتے بلکہ الارم ہی ڈِس مِس کر دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر اسکول یا دفتر سے چھٹی ہو جائے تو خود کو بیمار سمجھتے ہیں اور ڈاکٹر سے سفارش کرتے ہیں کہ وہ اُن کے لئے آرام کی سفارش کرے ۔ اگر ڈاکٹر ایسا ہی کرے تو ٹھیک ورنہ وہ ڈاکٹر کے لئے آرام تجویز کرتے ہیں اور دوسرے ڈاکٹر کے ہو جاتے ہیں۔ آخر ڈاکٹر کو اتنا بیدار مغز تو ہونا ہی چاہیے کہ سمجھ سکے کہ مریض کو کس طرح آرام آئے گا۔ 

٭٭٭٭٭​

موسمی شاعری کا دسمبری میلہ

شاعر نے تو بہت پہلے ہی کہہ دیا تھا

آخری چند دن دسمبر کے 
ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں

لیکن ہم سادہ لوح تھے سمجھ نہیں پائے اور باقی نظم پڑھنے بیٹھ گئے۔  شاعر کے لئے دسمبر کیوں بھاری ہو ا کرتا تھا وہ تو شاید شاعر ہی جانتا ہوگا ، غالباً محبوب کا فراق یا  وصال اُس کے لئے سوہانِ روح بن گیا ہو۔ تاہم اردو کمیونٹی کے لئے دسمبر ، موسمی شاعری کا ایسا تکلیف دہ موسم بن کر رہ گیا ہے کہ اب اس دکھ کا مداوا ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ دیکھا گیا ہے کہ مجذوب صفت شعراء دسمبر میں شاعری کے سالانہ عرس پر جوق در جوق جمع ہوتے ہیں اور پھر دسمبر کے نام پر وہ دھمال ڈالتے ہیں کہ عرش تو کیا فرش بھی ہلا دیتے ہیں۔  اتنا تو ہم بھی جانتے ہیں کہ بے یقین بے مراد رہتا ہے اور یقین والوں کو ہی ملتا ہے جو ملتا ہے تاہم اس نامراد دسمبری اور موسمی شاعری سے کسبِ فیض کرنے سے بہتر ہے کہ انسان نامراد ہی رہے بلکہ نامراد ہی مر جائے تو بھی کوئی ایسا حرج نہیں ہے۔ 

اس دسمبری شاعری کو دیکھ کر اور پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ ماہِ دسمبر کسی سرکاری دفتر میں رکھا شکایت کا صندوق ہے۔ جسے لوگوں نے  اپنے اپنے رونے رو کر کھچا کھچ بھر دیا  ہے اور کوئی ان فریادوں کا سننے والا روئے ارض پر موجود نہیں ہے۔ 

دسمبر کے نام پر تخلیق کیا جانے والا اولین کلام چونکہ اصل تھا اور اس میں موسمی بہاؤ اور نقالی کے اثرات نہیں تھے سو وہ واقعتاً قابلِ اعتناء تھا۔ ایسے ہی کسی اصلی شاعر نے کہا ہوگا کہ:

میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھُل گیا 
بلبلیں سُن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں

تاہم زیادہ مسئلہ جب پیدا ہوا کہ بلبلوں کے ساتھ ساتھ باقی پرندے بھی غزلخواں ہو گئے یعنی بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگے۔ اس  دسمبری بھیڑ چال شاعری نے دسمبر ، شاعری اور خوش ذوق قارئین سے یکساں انتقام لیا  اور اکثر کو ایسا متنفر کر دیا کہ لوگ دسمبر کا نام دیکھ کر ہی کلام کی بساط لپیٹ دیا کرتے ہیں۔ 

ہم نے مانا کہ " فریاد کی کوئی لے نہیں ہے" لیکن شاعری شتر بے مہار اچھی نہیں لگتی بلکہ شتر خود بھی بے مہار اچھا نہیں لگتا۔ 

اقبال نے کہا تھا کہ :

رلاتی ہے مجھے راتوں کو خاموشی ستاروں کی
نرالا عشق ہے میرا، نرالے میرے نالے ہیں

اگر خدانخواستہ اقبال آج حیات ہوتے تو اُنہیں ستاروں کی خاموشی سنائی ہی نہیں دیتی اور وہ دسمبری شاعری پڑھ پڑھ کر ہی اپنے آنسو خشک کر بیٹھتے۔ 

گو کہ ہم نے بھی ایک بار دسمبری شاعری اپنے بلاگ پر جمع کی تھی تاہم یہ اُن دنوں کی بات تھی کہ آتش ابھی نوجوان ہی تھا اور ابھی دسمبری شاعری کا مجموعہ خیال لخت لخت نہیں ہوا تھا اور نہ ہی اس کے ورق لالے، گُل اور نرگس کو اُٹھانے کی مہلت ملی تھی۔

آخری بات جسے آپ وضاحتی بیان سمجھ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم شاعری اور شعر میں اپنے جذبات اور احساسات کے بیان کے خلاف نہیں ہیں (ہم ہو بھی کیسے سکتے ہیں) لیکن جب آپ اپنے جذبات اور احساسات بیان کرتے ہیں تو انداز بھی اپنا ہونا چاہیے۔ تخلیق خونِ جگر مانگتی ہے سو نایاب ہوتی ہے ۔ سو اصل تخلیق کا مقابلہ کسی بھی طرح نقالی سے نہیں کیا جا سکتا۔

غزل : وہ تشنگی کا دشت جب سراب رکھ کے سو گیا

غزل 

وہ تشنگی کا دشت جب سراب رکھ کے سو گیا
تو میں بھی اپنی پیاس پر سحاب رکھ کے سو گیا

میں تشنہ تھا سو خواب میں سراب دیکھتا رہا
جو تھک گیا تو سر تلے حباب رکھ کے سو گیا

فسانہ پڑھتے پڑھتے اپنے آپ سے اُلجھ گیا
عجیب کشمکش تھی میں کتاب رکھ کے سو گیا

جو میرے گرد و پیش میں عجیب وحشتیں رہیں
میں اپنی چشمِ خواب میں عذاب رکھ کے سو گیا

بھٹک رہا ہوں کُو بہ کُو ، نہ رُک سکوں ،نہ بڑھ سکوں
وہ میرے دشت میں کئ سراب رکھ کے سو گیا

رہا حسابِ دوستاں، سو وہ تو دل میں تھا نہاں
معاف کی جفائیں سب! حساب رکھ کے سو گیا

پھر ایک دن سُخن پری، رُکی! نہ اپنے گھر گئی
تھکا ہوا میں درمیاں حجاب رکھ کے سو گیا

سوال ہی سوال تھے لبوں پہ زندگی ترے
دمِ فنا لبوں پہ میں جواب رکھ کے سو گیا

اُسے کبھی نہ کہہ سکا میں احمد ؔ اپنا حالِ دل
سو آج پھر کتاب میں گُلاب رکھ کے سو گیا

محمد احمدؔ​

غزل : اب کس سے کہیں کہ کیا ہوا تھا

غزل 

اب کس سے کہیں کہ کیا ہوا تھا
اِک حشر یہاں بپا رہا تھا

دستار ، کہ پاؤں میں پڑی تھی
سردار کسی پہ ہنس رہا تھا

وہ شام گزر گئی تھی آ کے
رنجور اُداس میں کھڑا تھا

دہلیز جکڑ رہی تھی پاؤں
پندار مگر اَڑا ہوا تھا

صد شکر گھڑا ہوا تھا قصّہ
کم بخت! یقین آ گیا تھا

اِک بار ہی آزما تو لیتے
در بند نہ تھا ، بِھڑا ہوا تھا

شب خون میں روشنی بہت تھی
تھا کون جو دیکھتا رہا تھا

جزدان میں آیتیں چُھپی تھیں
گلدان میں پھول کھل رہا تھا

اِک شخص کہ تھا وفا کا پیکر
وہ شخص بھی مائلِ جفاتھا

دستور وہی تھا حسبِ دستور
انصاف کا قتل ہو رہا تھا

کچھ پھول کھلے ہوئے تھے گھر میں
کچھ یاد سے دل مہک رہاتھا

کچھ اشک گرے ہوئے تھے خط پر
اک لفظ تھا جو مٹا ہوا تھا

اُس شام تھا دل بہت اکیلا
میں ہنستے ہنستے رو پڑا تھا

تھی بات بہت ذرا سی احمدؔ
اس دل کو نہ جانے کیا ہوا تھا

محمد احمدؔ​

بجھے اگر بدن کے کچھ چراغ تیرے ہجر میں

غزل 

بجھے اگر بدن کے کچھ چراغ تیرے ہجر میں
جلا لیے سخن کے کچھ چراغ تیرے ہجر میں

چمن خزاں خزاں ہو جب، بجھا بجھا ہوا ہو دل
کریں بھی کیا چمن کے کچھ چراغ تیرے ہجر میں

شبِ فراق پر ہوا، شبِ وصال کا گماں
مہک اُٹھے ملن کے کچھ چراغ تیرے ہجر میں

اُداسیوں کے حبس میں جو تیری یاد آگئی
تو جل اُٹھے پوَن کے کچھ چراغ تیرے ہجر میں

سو کیوں نہ دل کے داغ گن کے کاٹ لیجے آج شب 
گِنے تھے کل گگن کے کچھ چراغ تیرے ہجر میں

محمد احمدؔ​

غزل۔ اشک کیا ڈھلکا ترے رُخسار سے

غزل


اس طرح بیٹھے ہو کیوں بیزار سے
بھر گیا دل راحتِ دیدار سے؟

اشک کیا ڈھلکا ترے رُخسار سے
گِر پڑا ہوں جیسے میں کُہسار سے

در کُھلا تو میری ہی جانب کُھلا
سر پٹختا رہ گیا دیوار سے

ایک دن خاموش ہو کر دیکھیے
لُطف گر اُٹھنے لگے تکرار سے

دیکھ لو یہ زرد آنکھیں، خشک ہونٹ
پوچھتے ہو حال کیا بیمار سے

قدر کیجے فیض جس جس سے ملے
سایہ ٴ دیوار ہے، دیوار سے

کل یہاں ویرانیاں نہ ہوں مقیم
ڈر رہا ہوں گرمیِ بازار سے

جھوٹ چلتا ہے مگر اِک آدھ بار
اے قصیدہ خواں حذر! تکرار سے

بِک رہی ہے زندگی کے مول ، موت
جائیے! لے آئیے بازار سے

مانگتے ہیں ووٹ، اُس پر طنطنہ
پیچ و خم نکلے نہیں دستار سے

بند کر ٹی وی کی خبریں، بے خبر!
چل کوئی کالم سنا اخبار سے

دوستی کی محفلیں قائم رہیں
یہ دعا ہے اپنی پالن ہار سے

تجھ میں احمدؔ عیب ہیں لاکھوں مگر
واسطہ ہے تیرا کِس ستّار سے

محمد احمدؔ​

جائے گا دل کہاں، ہوگا یہیں کہیں

غزل


جائے گا دل کہاں، ہوگا یہیں کہیں
جب دل کا ہم نشیں ملتا نہیں کہیں

یوں اُس کی یاد ہے دل میں بسی ہوئی
جیسے خزانہ ہو زیرِ زمیں کہیں

ہم نے تمھارا غم دل میں چھپایا ہے
دیکھا بھی ہے کبھی ایسا امیں کہیں

میری دراز میں، ہے اُس کا خط دھرا
اٹکا ہوا نہ ہو، دل بھی وہیں کہیں

ہے اُس کا خط تو بس سیدھا سپاٹ سا
ہاں دل لگی بھی ہے اس میں کہیں کہیں

جتنا وہ دل رُبا ، اُتنا ہی بے وفا
دل کو ملا ہی کیوں ایسا حسیں کہیں

احمدؔ یہ دل مِرا ،کیوں ہے بجھا بجھا
دل سے خفا نہ ہو، دل کا مکیں کہیں

محمد احمدؔ​

شاعروں کا ڈوپ ٹیسٹ

شاعروں کا ڈوپ ٹیسٹ
از محمد احمد
کھیلوں کی دنیا سے وابستہ لوگ جانتے ہیں کہ بہت سے کھلاڑی /ایتھلیٹس کارکردگی کو بڑھانے کے لئے دوائیں استعمال کرتے ہیں تاہم ان دواؤں کا استعمال کھیل کی روح کے منافی سمجھا جاتا ہے ۔ اور اس عمل کی روک تھام کے لئے کھلاڑیوں کی جانچ بذریعہ ڈوپ ٹیسٹ کی جاتی ہے۔ ٹیسٹ میں مثبت رپورٹ آنے پر کھلاڑیوں کے خلاف تادیبی کاروائی بھی کی جاتی ہے اور اُن کی کارکردگی کو انصاف کے اصولوں کے منافی بھی سمجھا جاتا ہے۔ 

ہم سمجھتے ہیں کہ بعینہ یہی بات ایسے شعراء پر بھی صادق آتی ہے کہ جو اپنی کاکردگی بڑھانے کے لئے مے نوشی کا سہارا لیتے ہیں اور پی پلا کر ایسی ایسی شاعری کرتے ہیں کہ پڑھنے سننے والے دنگ رہ جائیں۔ 

اگر آپ کا اردو شاعری سے تھوڑا بہت بھی علاقہ رہا ہے تو آپ بخوبی جانتے ہوں گے کہ ہمارے شعراء ہر دوسری غزل اور چوتھے شعر میں شراب کا ذکر کرتے ہیں تاہم یہ کوئی قاعدہ نہیں ہے کبھی زیادہ موڈ ہو تو یہ لوگ شراب کو ردیف میں شامل کر لیتے ہیں اور ہر شعر میں جام کے جام لنڈھانے سے دریغ نہیں کرتے۔ 

جہاں تک شاعری میں شراب کے ذکر کی بات ہے تو ہمیں اُس پر کوئی اعتراض نہیں ہے چاہے وہ استعاراتی معنوں میں ہو یا حقیقی معنوں میں۔ ہم تو بات کر رہے ہیں اُن شعراء کی جو شراب پی کر شاعری کرتے ہیں یا شراب پی جانے کی وجہ سے شاعری کرنے لگتے ہیں ۔ 

ہمارے ہاں یہ تاثر بڑا عام ہے کہ جو شعراء دخترِ رز سے آشنائی رکھتے ہیں اُن کی شاعری میں ایک الگ ہی جذب اور گہرائی ملتی ہے۔ اُن کے مضامین طاق ہوا کرتے ہیں اور تخیّل اوج پر ہوتا ہے۔ یہ بات بڑی حد تک صحیح بھی ہے کہ ہمارے ہاں بے شمار نامی گرامی شعراء ایسے ہیں اور ماضی میں بھی رہے ہیں کہ جو مے نوشی سے نسبت رکھتے ہیں اور بہت اچھی شاعری اُن کا خاصہ ہوا کرتی ہے۔ نام ہم اس لئے نہیں لے رہے کہ نام بہت سارے ہیں اور نام لکھنے سے یہ مضمون مقالہ معلوم ہونے لگے گا۔ مزید براں بہت سے شعراء اس بات پر معترض ہوں گے کہ مے نوشوں میں اُن کا نام کیوں لکھا اور بہت سے اس بات پر کہ مے نوشوں میں اُن کا نام کیوں نہ لکھا۔ سو نام رہنے دیتے ہیں۔ ویسے بارہ پندرہ نام تو آپ کے ذہن میں بھی آ ہی گئے ہوں گے۔ 

اس تمام پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ نشہ اور خمار انسان کے ذہن کو فکرِ سخن کے لئے یکسوئی اور ایسا شاعرانہ نظم فراہم کرتا ہے کہ انسان دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور یوں شاعری کے لئے ایک ایسی فضا ہموار ہو جاتی ہے کہ ہوش وحواس میں رہتے ہوئے جس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ 

بقول غالب :
مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو 
اک گو نہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے​

گو کہ غالب نے اپنے تئیں اپنی صفائی پیش کی ہے کہ ہمیں شراب سے کچھ لینا دینا نہیں ہے لیکن اسی شعر سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ غالب کو شراب کی ضرورت اس لئے رہی کہ وہ ایک مستقل بے خودی کی کیفیت خود پر طاری رکھنا چاہتے تھے ۔ اور اس کیفیت کے زیرِ اثر فکرِ سخن کے علاوہ بھلا کیا کام ہو سکتا تھا۔ بے خودی میں قدم اُٹھانے کے متمنی تو غالب بھی نہیں ہوں گے۔ 

بعد میں غالب نے اسی شعر کو اُلٹا کرکے بھی پیش کیا۔ 

بے خود ی بے سبب نہیں غالبؔ
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے​

حالانکہ پردہ داری کی چنداں ضرورت نہیں تھی اور لوگ جانتے تھے کہ غالب پر کس شے کے باعث بے خودی طاری رہا کرتی تھی۔ 

سو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ ہمارا مدعا یہ ہے کہ جو شاعر اپنی کارکردگی بڑھانے کے لئے دوا دارو کا استعمال کرتے ہیں اُن کا ڈوپ ٹیسٹ ہونا چاہیے اور ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر ان کی شاعری کو شاعری کی روح کے منافی قرار دیتے ہوئے اُن پر چھ آٹھ ماہ کی پابندی لگا دینا چاہیے۔ تاحیات پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے لیکن ہم ایسی سخت دلی کی سفارش نہیں کرتے۔ 

اس طرح اُن لوگوں کو تشفی ہوگی جو بن پیے لہراتے ہیں یعنی شاعری کرتے ہیں۔ سچ پوچھیے تو ہم اُن لوگوں کو سراہنا چاہتے ہیں جو بن پیے شاعری کیا کرتے ہیں کہ یہ بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔ 

آپ فکرِ سخن میں ہیں کہ بیگم کہتی ہے دہی لا دیں۔ آپ دہی لانے کے لئے اُٹھنا نہیں چاہتے اور چاہتے ہیں کہ فکرِ سخن کے علاوہ کوئی اور فکر لاحق نہ ہو لیکن بیگم آپ کے دماغ کی دہی بناتی رہتی ہے اور آپ دماغ کی لسی بننے کے خوف سے چار و ناچار دہی لینے کے لیے چلے جاتے ہیں اور غزل اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔ 

تاہم اگر آپ پیے ہوئے بیٹھے ہیں تو دہی لانے کی فرمائش ہو سکتا ہے کہ آپ کے کان تک ہی نہ پہنچے ۔ اور اگر پہنچ بھی جائے تو آپ کو اوجِ ثریا سے اُتار کر دہی کی دوکان تک لے جانے والی کرین ابھی ایجاد نہیں ہوئی ہے۔ سو چار و ناچار بیگم آپ پر تین حرف بھیجے گی اور پڑوسی کے بچے کو دہی لینے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ ہوش میں آنے تک دو چار غزلیں تیار ہوں گی۔ اور بیگم کی فرمائش پر دہی لانے والا شاعر دوسرے دن مشاعرے میں آپ کی غزلوں پر سر دھن رہا ہوگا اور کھٹی ڈکاریں لے رہا ہوگا۔ 

اس طرح کے بہت سے منظر ہم آپ کو دکھا سکتے ہیں کہ کس طرح صہبا اور صراحی کے ہم نشین، دہی اور کونڈے کے خاک نشین سے آگے نکل جاتے ہیں تاہم تھوڑے کہے کو بہت سمجھتے ہوئے یہیں پر بس کرتے ہیں اور مزید مناظر آپ کی تخیلانہ صلاحیتوں پر چھوڑ دیتے ہیں۔ 

ایک بات اور بھی ہے اور وہ یہ کہ اچھی اور معیاری شاعری کے لئے جس ذہنی بالیدگی کی ضرورت ہوتی ہے وہ اب چیدہ چیدہ لوگوں کے پاس ہی رہ گئی ہے۔ اب یہ چیدہ چیدہ لوگ اگر مے نوشی کر لیں تو ساری سنجیدگی اور بردباری یک بہ یک روانہ ہو جاتی ہے اور یہ لوگ وہ وہ حرکتیں کرنے لگتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔۔۔! 

اس کے برخلاف غیر سنجیدہ حضرات پر مے نوشی کا اُلٹا اثر ہوتا ہے۔ بقول حضرتِ فراق:

آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراق
جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہوگئے 
اب ایسی سنجیدگی کے ساتھ جب سنجیدہ شاعری کی جاتی ہے تو وہ ہاتھوں ہاتھ لی جاتی ہے اور اس ناہنجار شے کے باعث غیر سنجیدہ لوگ معتبر ٹھہرتے ہیں اور معتبر لوگ غیر سنجیدہ۔ 

اس سب قضیے کے باوجود شاعر اپنے شراب پینے کو جائز قرار دیتا ہے اور چِلا چِلا کر کہتا ہے:

ہنگامہ ہے کیوں برپا ، تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا، چوری تو نہیں کی ہے​

تو ہم شاعرِ موصوف کو کہتے ہیں کہ بھائی آپ نے ڈاکہ تو واقعی نہیں ڈالا لیکن اُس بے چارے شاعر کا کیا قصور جس نے کٹھن حالات میں دو شعر کہے اور باقی غزل دہی اور دلیے کی نظر ہو گئی۔ 

سو ہماری پر زور اپیل ہے کہ شعراء کے لئے بھی اینٹی ڈوپنگ ادارہ قائم کیا جائے اور ایسے شعراء کے ٹیسٹ سب سے پہلے کیے جائیں جن کے شاعری شراب اور بے خودی کے گرد گھومتی ہے اور وہ خود صراحی اور پیمانے کے گرد۔ 

ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہماری اس جسارت پر بہت سے شائقینِ مے ناب ہمیں کھری کھری سنائیں گے اور بہت سے تلملا کر یہ تک کہہ دیں گے :

؎ ہائے کم بخت تو پی ہی نہیں

تاہم ہم اس دیرینہ طعنے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا وضاحتی بیان جار ی کریں گے کہ جناب ہمیں آپ کی مے نوشی پر اعتراض نہیں ہے بلکہ ہمیں تو رخشِ مے نوشی پر سوار ہو کر سخنوری کرنے پر اعتراض ہے۔ جناب آپ دل کھول کر پیئں اور جب دل چاہے پیئں لیکن کبھی بغیر پیے بھی دو چار غزلیں لکھنے کی کوشش کریں تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ غزل کس طرح ہوتی ہے۔ 

نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں
اس رنگ کو کیا جانے، پوچھو تو کبھی پی ہے؟
اگر آپ اس طرح کا کوئی شعر یاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو رہنے دیجے ہم نے یاد دلا دیا ہے اور بھی بہت سے ہیں جو یاد کرنے پر سلسلہ وار یاد آتے چلے جائیں گے۔ لیکن ہم پھر یہی کہیں گے کہ جناب ہماری اس چھوٹی سی گزارش کو دعوتِ مبارزت نہ سمجھیے بلکہ ہوش کے ناخن لیجے اور اُن سے اپنے نادیدہ زخم کرید کر دیدہ و دانستہ باقائمی ہوش و حواش فکرِ سخن کیجے تاکہ آپ بھی کہہ سکیں کہ جناب یہ ہوتی ہے اسپورٹس میں اسپرٹ۔ :)

اپنا تو بس کام یہی ہے سب کے غم اپناتے رہنا ۔ مرتضیٰ برلاس

غزل

اپنا تو بس کام یہی ہے سب کے غم اپناتے رہنا 
اپنے ناخن زخمی کرنا اور گتھی سلجھاتے رہنا

لوگ جو تم کو بادل سمجھیں، بارش کی اُمید کریں 
اور تمھارا کام ہمیشہ  پتّھر ہی برساتے رہنا

ہم ہیں وہ آواز جو گُھٹ کے ساری فضا میں گونج رہے ہیں
بعد ہمارے، آوازوں کو زنجیریں پہناتے رہنا

آج یہ جن دیواروں کے تم روزن بند کیے جاتے ہو
کل کو ان دیواروں سے پھر اپنا سر ٹکراتے رہنا

ہم تو چراغِ اوّلِ شب ہیں، اوّل  بجھ جائیں گے ہم
تم ہی یارو! آخرِ شب تک دیپ سے دیپ جلاتے رہنا


مرتضیٰ برلاس

اَک برہمن نے کہا ہے ۔ صابر دت


اک برہمن نے کہا ہے۔۔۔

اِک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

ظلم کی رات بہت جلد ڈھلے گی اب تو
آگ چولہوں میں ہر اِک روز جلے گی اب تو

بھوک کے مارے کوئی بچہ نہیں روئے گا
چین کی نیند ہر اِک شخص یہاں سوئے گا

آندھی نفرت کی چلے گی نہ کہیں اب کے برس 
پیار کی فصل اُگائے گی زمیں اب کے برس

ہے یقیں اب نہ کوئی شور شرابا ہوگا
ظُلم ہوگا نہ کہیں خون خراب ہوگا

اوس اور دھوپ کے صدمے نہ سہے گا کوئی
اب میرے دیس میں بے گھر نہ رہے گا کوئی

نئے وعدوں کا جو ڈالا ہے وہ جال اچھا ہے
رہنماؤں نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

صابر دتؔ


غزل ۔ بن کر جو کوئی سامنے آتا ہے آئینہ ۔ محمد احمدؔ

غزل

بن کر جو کوئی سامنے آتا ہے آئینہ
خیمے میں دل کے آکے لگاتا ہے آئینہ

وہ کون ہے یہ مجھ سے کبھی پوچھتا نہیں
میں کون ہوں یہ مجھ کو بتاتا ہے آئینہ

اس عکس کے برعکس کوئی عکس ہے کہیں
کیوں عکس کو برعکس دکھاتا ہے آئینہ

خود کو سجائے جاتے ہیں وہ آئینے کو دیکھ
جلووں سے اُن کے خود کو سجاتا ہے آئینہ

خود آئینے پہ اُن کی ٹھہرتی نہیں نظر
کیسے پھر اُن سے آنکھ ملاتا ہے آئینہ


یہ میرا عکس ہے تو مگر اجنبی سا ہے
کیوں کر مجھے مجھی سی چُھپاتا ہے آئینہ

کب دل کے آئینے میں کھلا کرتے ہیں گُلاب
کب آئینے میں پھول کھلاتا ہے آئینہ

آویزہ دیکھتے ہیں وہ جُھک کر قریب سے
یا اُن کو کوئی راز بتاتا ہے آئینہ

جب میرا عکس مجھ سے مماثل نہیں رہا
کیوں میرا عکس مجھ کو دکھاتا ہے آئینہ

اس آئینے میں عکس کسی کا ہے رات دن
احمدؔ یہ عشق دل کو بناتا ہے آئینہ
محمد احمدؔ

ایک 'جُوں' کا کھلا خط (اردو دان طبقے کے نام ​)

ایک 'جُوں' کا کھلا خط
اردو دان طبقے کے نام ​

اس کھلے خط کی وساطت سے میں مسمات "جُوں" بقائمی ہوش و حواس اردو دان طبقے کے آگے چند حقائق رکھنا چاہتی ہوں تاکہ میرے متعلق ایک گمراہ کن محاورے اور کچھ دیگر قبیح غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکے اور آئندگان کی اصلاح کا بندوبست بھی۔

دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ اپنے مخالفین کی بے حسی کا ذکر کرتے ہوئے اُ ن کے کانوں پر جوں کےرینگنے یا نہ رینگنے کا ذکر کرتے ہیں اور اس طرح پوائنٹ اسکورنگ کرکے اپنے نمبر بڑھانے اور دوسروں کے نمبر گھٹانے کا قومی فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہےکہ جوں رینگنے کا محاورہ زیادہ تر اُن لوگوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے کہ جن کے سر پر بال ہی نہیں ہوتے یا ہوتے بھی ہیں تو اتنے سرسری کہ جوؤں کی رہائش تو کجا خیمہ گاہ کا کام بھی نہیں کر سکتے۔ اب ان بے انصاف لوگوں سے کوئی یہ پوچھے کہ جب سر میں ہی جوؤں کے معقول قیام و طعام کا بندوبست نہ ہو تو وہ کانوں پر کیونکر رینگنے لگی۔ پھر یہ بھی ہے کہ جوئیں کسی سیاست دان کی فرزندِ ارجمند تو ہیں نہیں کہ جنہیں براہِ راست ہیلی کاپٹر کے ذریعے کان پر لانچ کر دیا جائے کہ جناب رینگیے ۔


چلیے فرض کرلیا کہ مذکورہ بے حس شخص کے سر پر بال بھی ہیں اور اُس میں کسی حد تک جوؤں کی رہائش کا انتظام بھی ہے تب بھی جوؤں کو کیا پڑی کہ وہ اتنے بڑے سر کو چھوڑ کر کانوں پر آ کر رینگنا شروع کردیں۔ جو ناعاقبت اندیش اس قسم کی لغو باتیں کرتے ہیں اُنہیں شاید کانوں کی بناوٹ ، بے قرینہ اُتار چڑھاؤ اور دُشوار گزار گھاٹیوں کا اندازہ ہی نہیں ہے ۔ کیا جوئیں بے چاری جو پہلے ہی نہ جانے کیسے عسرت میں گزارا کر رہی ہوتی ہیں اس بات کی متحمل ہوسکتی ہیں کہ کان جیسی ناگفتہ بہ جگہ پر اسکیٹ بورڈنگ اور آئس سلائڈنگ قسم کے غیر سود مند کھیل کھیلیں اور اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بے حسوں کو گوش کے بل گوشہء احساس میں داخل کرنے کی سعی ِ لاحاصل کریں۔

پھر رینگنے کی ہی کیا تُک ہے۔ جوں بے چاری چل بھی سکتی ہے اور بوقتِ ضرورت دوڑ بھی سکتی ہے۔ آپ نے کبھی وہ منظر دیکھا ہے کہ جب کوئی حسینہ اپنے بالوں میں کیٹر پلر کی دہشتناک مشنری ٹائپ چیز یعنی کنگھی گھماتی ہے۔ اُس وقت دیکھنے کی ہوتی ہے جوؤں کی برق رفتاری۔ لیکن افسوس کے وہاں دیکھنے والی بھی صرف جوئیں ہی ہوتی ہیں اور اُنہیں اس وقت دیکھنے کی فرصت نہیں ہوتی ۔ سو یہ رینگنے والی بات پر سوچیں اور محاورے کو تازہ کریں۔ کان پر جوں رینگنے کے بجائے چلنا ہی کردیں۔ اور کان ہی کیوں ناک پر بھی جوں رینگ سکتی ہے۔ اب آپ کہیں گے کہ مو صوف تو ناک پر مکھی بھی نہیں بیٹھنے دیتے تو ٹھیک ہے ۔ مکھی کو کان پربٹھا دیں اور جوں کو ناک پر رینگوادیں۔ آپ کے کون سے پیسے لگیں گے۔ دو نئے اور تازہ محاورے ہاتھ آ جائیں گے۔

بہرکیف ، میری تمام متعلقین سے درخواست ہے کہ تھوڑے کہے کو بہت جانیں اور فوراً سے پیشتر اِس سلسلے میں معقول اقدامات کیے جائیں۔ آپ لوگ خود بھی اپنی حرکتیں ٹھیک کریں اور بے حسی کو صرف دوسروں کی جاگیر نہ قرار دیں اور اپنے دل میں بھی درد مندی کا احساس پیدا کریں۔ مزید یہ کہ بے حسوں کے کانوں پر جوں رینگوانے کے بجائے اُن کے کان کے نیچے محبت نامے بھی رسید کیے جا سکتے ہیں ، یہ کافی ساری بیماریوں کے لئے شافی نسخہ ہے۔ ورنہ یہ نہ ہو کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

والسلام

خیر اندیش

آپ کی 'اپنی'
جُوں

عشق اک دشت ہائے وحشت تھا

غزل

عشق اک دشت ہائے وحشت تھا
دل بنَا ہی برائے وحشت تھا

بے قراری سکوں کی زیریں تہہ
اور سکوں بر بِنائے وحشت تھا

اشک قطرہ نہ تھا، سمندر تھا
غمِ دل آبنائے وحشت تھا

تھی ازل سے ہی بے قرار ہوا
اس کی فطرت میں پائے وحشت تھا

اک تڑپ بانسری کی لے میں تھی
ساز گویا صدائے وحشت تھا

کیا اُسے حالِ دل سناتے ہم
نغمہء دل نوائے وحشت تھا​

محمد احمدؔ

پکسل پرفیکٹ پاکستان

پکسل پرفیکٹ پاکستان​

جب بھی ہم کسی ملک کی بات کرتے ہیں تو دراصل اُس کے لوگوں کی بات کرتے ہیں۔ اُس ملک کی خوبیاں اُس کے لوگوں کی خوبیاں ہوتی ہیں اور اُس کے عیب اُس کے لوگوں کے معائب ہوتے ہیں۔ 

اگر پاکستان ایک تصویر ہے تو ہم پاکستانی اُس کے پکسلز* ہیں۔ اگر ہر پکسل خود کو اُجلا اور روشن بنا لے تو پاکستان کا چہرہ سنور جائے اور اس تصویر کا تصور تک تابناک ہو جائے۔ 

جتنی پاکستان کی آبادی ہے اُس اعتبار سے دیکھا جائے تو اتنی اچھی ریزولوشن کی تصویر ہر خطے کی قسمت میں کہاں۔ بہت سی تصویریں تو اتنی مبہم ہیں کہ صحیح طرح خط و خال بھی واضح نہیں ہو پاتے۔ بس ضرورت اس بات کہ ہے کہ ہر پاکستانی اپنی خامیاں کوتاہیاں دور کرنے کی کوشش کرے اور خوبیوں کو فزوں تر کرنے کی۔ 

اقبال نے کہا تھا :

افراد کے ہاتھوں میں اقوام کی تقدیر 
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
اگر ہم سب پاکستانی خود کو بہتر بنانے کی کوشش کریں تو پاکستان کا مجموعی تاثر بہتر ہو جائے گا۔ اگر پاکستان کی تصویر کا ہر پکسل اپنی جگہ پرفیکٹ ہو جائے تو پھر ہمارا پاکستان "پکسل پرفیکٹ پاکستان" بن سکتا ہے۔ 

تمام دوستوں ، ساتھیوں اور احباب کو یومِ آزادی پاکستان مبارک۔ ​



 پکسل، ایسے نقظوں کو کہتے ہیں کہ جن کی مدد سے ڈجیٹل تصویر مکمل ہوتی ہے۔ *

غزل ۔ اب جو خوابِ گراں سے جاگے ہیں

غزل

اب جو خوابِ گراں سے جاگے ہیں
پاؤں سر پر رکھے ہیں، بھاگے ہیں

خارِ حسرت بھرے ہیں آنکھوں میں
پاؤں میں خواہشوں کے تاگے ہیں

خوف ہے، وسوسے ہیں لیکن شُکر
عزم و ہمت جو اپنے آگے ہیں

رخت اُمید ہے سفر کی جاں
ساز و ساماں تو کچے دھاگے ہیں

تم سے ملنا تو اک بہانہ ہے
ہم تو دراصل خود سے بھاگے ہیں

لاگ لاگے نہیں لگی احمدؔ
ہم جو سوئے تو بھاگ جاگے ہیں

محمد احمدؔ​

نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے زندگی اے دوست

غزل

نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے زندگی اے دوست
بڑی طویل کہانی ہے، پھر کبھی اے دوست

کوئی زمانے میں رہتا نہیں خوشی سے اُداس
بس اور کیا کہوں وجہِ فسردگی اے دوست

سمجھتے ناز کہاں تک ترے تغافل کو
خطا معاف کہ ہم بھی ہیں آدمی اے دوست

سیہ نصیب نہ مجھ سا بھی ہو زمانے میں
ترے بغیر گزرتی ہے چاندنی اے دوست

نہ جانے کیوں تری قربت کے بھی حسیں لمحات
گراں گزر گئے دل پر کبھی کبھی اے دوست

صادق القادری صادق

بات پھر ان کہی رہ گئی

خاکسار کی ایک پرانی غزل
قارئینِ بلاگ کے نام

غزل

اور کیا زندگی رہ گئی
اک مسلسل کمی رہ گئی

وقت پھر درمیاں آگیا
بات پھر ان کہی رہ گئی

پاس جنگل کوئی جل گیا
راکھ ہر سو جمی رہ گئی

زر کا ایندھن بنی فکرِ نو
شاعری ادھ مری رہ گئی

میں نہ رویا نہ کھل کر ہنسا
ہر نفس تشنگی رہ گئی

تم نہ آئے مری زندگی
راہ تکتی ہوئی رہ گئی

پاسِ دریا دلی رکھ لیا
لاکھ تشنہ لبی رہ گئی

پھر فنا کا پیام آگیا
ایک اُمید تھی، رہ گئی

آپ احمدؔ کہاں رہ گئے
اور کہاں زندگی رہ گئی

محمد احمدؔ​

افسانہ : عجیب بادشاہ ۔ اشفاق احمد

عجیب بادشاہ
اشفاق احمد

دور جدید کے تیکھے افسانہ نگار اشفاق احمد سے جب پوچھا گیا کہ آپ کی نظر میں آپ کا بہترین افسانہ کون سا ہے تو انہوں نے جوابا لکھا۔ "اپنے افسانوں کے بارے میں کسی ایک کے متعلق یہ فیصلہ کرنا کہ یہ مجھے سب سے زیادہ پسند ہے، ایک بہت ہی مشکل بات ہے۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اپنی ساری تحریریں لایعنی سی نظر آنے لگتی ہیں کہ وہ ایک ایک کر کے ماضی کے متعلق ہو چکی ہوتی ہیں اور ان کا ورود "حال" پر نہیں ہوتا بلکہ ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔ عجیب بادشاہ" ایک اچھا افسانہ ہے اور میری آرزو ہے کہ جس طرح اپنے زمانے میں ہم نے اسے پڑھ کر لطف لیا تھا آج کے قاری بھی اس سے لطف حاصل کریں۔ یہ میرے اس زمانے کے اچھے افسانوں میں شمار ہوتا تھا۔ آج کی بابت کچھ کہہ نہیں سکتا۔


کراچی کافی ہاوس کی سیڑھیاں اتر کر جب میں اپنی کرائے کی سائیکل کا تالا کھولنے لگا تو کسی نے پیچھے سے آ کر میری آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ سیدھے کھڑے ہو کر میں اس ہاتھ پر ہاتھ پھیرتا رہا لیکن پتا نہ چلا کہ کون ہے۔ لمبی لمبی مضبوط انگلیاں، پشتِ دست پر سخت بال، بڑھے ہوئے ناخن، سخت گرفت کی وجہ سے کلائی پر ابھری ہوئی نسیں اور سرسوں کے تیل کی سگریٹ میں ملی جلی خوشبو۔ "معظم؟" میں نے کہا مگر کوئی جواب نہ ملا۔ "قمر؟" لیکن اس مرتبہ بھی کوئی نہ بولا۔ "ممتاز؟" اب بھی ہاتھ میری آنکھوں پر ہی رہا۔
ایک ایک کر کے میں نے اپنے تمام زندہ اور مردہ دوستوں کے نام گنوائے مگر میری آنکھوں سے وہ ہاتھ نہ ہٹھا پھر میں نے اپنا نام لے کر کہا۔ "اب چھوڑئیے صاحب! کہیں غلط فہمی میں تو میری آنکھیں بند نہیں کر رکھیں؟"
اس پر وہ ذرا سا ہنسا اور ہاتھ ہٹآ لیا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا۔ زماں میلی سی نیلے رنگ کی اچکن پہنے مسکرا رہا تھا۔ میں اپنی فائل زمین پر پھینک کر اس سے لپٹ گیا۔ پورے بارہ سال ایک دوسرے سے جدا رہنے کی مکافات ہم نے یوں کی کہ دیر تک ایک دوسرے سے لپٹے رہے اور پڑیوں پر چلنے والے راہ گیر پیچھے مڑ مڑ کر دور تک ہمیں دیکھتے رہے۔ میں نے ٹھوڑی اس کے کندھے پر رگڑتے ہوئے پوچھا۔ "اتنا عرصہ کہاں رہے ظالم؟"
اس نے ہاتھ ڈھیلے چھوڑ کر کہا۔ "آبادان"
"آبادان؟" میں نے ہٹ کر پوچھا۔
"ہوں۔" زماں نے اپنی اچکن کی جیبوں میں ہاتھ ڈال لئے اور بولا۔ "تم سے جدا ہو کر چند مہینے تو بمبئی میں گزارے۔ اس کے بعد اینگلو ایرانین آئل کمپنی میں ملازم ہو کر آبادان چلا گیا اور اتنا عرصہ وہیں رہا مجھے وہاں سے لوٹے ابھی پورا ایک مہینہ بھی نہیں ہوا۔"
"مگر تم نے آج تک مجھے کوئی خط کیوں نہ لکھا؟" میں نے پوچھا۔
"خط!" اس نے مسکرانے کی کوشش کی۔ یار میں نے لکھا ہی نہیں، کسی کو بھی نہیں لکھا۔ تمہیں معلوم ہے یار! مجھے خط لکھنے کی عادت ہی نہیں۔"
میں نے کہا۔ "یہ کوئی بات نہیں۔ عادت نہیں تو نہ سہی مجھے تو لکھا ہوتا۔"
اس پر وہ مسکرانے لگا اور بولا۔ "اب جو مل گئے ہو تو سارے خط زبانی سنا دوں گا لیکن اس وقت مجھے دیر ہو رہی ہے مجھے اسٹرپٹومائی سین کا پرمٹ لینا ہے اور دفتر ابھی بند ہو جائیں گے۔"
"اسٹرپٹو مائی سین کا پرمٹ؟" میں نے حیرت سے کہا۔
"ہاں!" وہ آہستہ سے بولا ۔ "ڈاکٹر نے یہی دوا تجویز کی ہے۔ اور یار! اچھا بھئی مجھے دیر ہو رہی ہے مجھے اپنا پتہ بتا دو۔"
میں نے ڈائری سے ایک ورق پھاڑ کر اس پر اپنا پتہ لکھ دیا اور اس کے دوسری طرف ایک چھوٹا سا نقشہ بنا کر بھی اسے سمجھا دیا کہ صدر ٹرم جنکشن کے سامنے جو کھلی سڑک ہے اس کے پہلے بائیں موڑ پر ایک مسجد ہے۔ مسجد کے ساتھ ایک لائبریری ہے اور لائبریری سے چند قدم کے فاصلے پر دائیں ہاتھ کو بنجارا ہوٹل ہے۔ میں اس کے آٹھویں کمرے میں رہتا ہوں۔ زماں چلنے لگا تو میں نے کہا۔ "یار تمہارے چلے جانے کے بعد سیما بھی اچانک غائب ہو گئی اور آج تک اس کا پتہ نہیں چل سکا۔"
"اچھا۔" اس نے بےپروائی سے کہا اور بولا۔ یار یہ لڑکیاں بھی عجیب بادشاہ ہوتی ہیں کہ وقتے یہ سلامے برنجز گاہے بدشنامے خلعت و ہند، لیکن یار! اب مجھے دیر ہو رہی ہے۔ میں شام کو آؤں گا۔ پانچ چھ بجے میرا انتظار کرنا۔"
وہ چلا گیا میں نے سائیکل کا تالا کھولتے ہوئے سوچا۔ اسٹرپٹومائی سین، بادشاہ، لڑکیاں، یہ کیا بات ہوئی؟
زماں اور میں تین سال تک اکٹھے ایک ہی کالج اور ہوسٹل کے ایک ہی کمرے میں رہے تھے۔ تین سال کی اس چھوٹی سی مدت میں اس نے مجھے کس کس طرح تنک کیا میں بیان نہیں کر سکتا۔ ظالم کا ذہن اچھا تھا امتحان کے قریب آ کر چند دن پڑھائی کرتا تھا اور پاس ہو جاتا تھا۔ مجھے شروع سے رٹنے کی عادت تھی۔ لنگر لنگوٹے کس کے آدھی آدھی رات تک رٹا لگایا کرتا۔ وہ اپنے بستر میں لیٹے لیٹے سگریٹ پیتے ہوئے مجھے اس طرح جاپ کرتے دیکھ کر بہت ہنستا اور اونچے اونچے پشتو کے شعر گانے لگتا۔ بے حد ضدی اور سرپھرا قسم کا آدمی واقع ہوا تھا۔ جو بات جی میں آتی بےسوچے سمجھے کہہ دیتا۔ تمیز کے نام سے بہت چڑتا تھا۔ مانگنا اس کے مذہب میں حرام تھا۔ کسی بات پر منہ سے نہ نکل گئی تو اس کا ہاں میں تبدیل ہونا ممکنات میں سے نہیں تھا تاش کبھی شرط بدے بغیر نہیں کھیلتا تھا اور اگر ہارنے والے کے پاس پیسے نہ ہوئے تو یا تو اس کی کتابیں ضبط ہیں یا پتلون۔ اپنے پاس رقم نہیں تو کھیل میں شریک ہی نہیں ہوتا تھا۔ سگریٹ سلگانے کو ماچس نہیں تو مجھ سے کبھی نہیں مانگی۔ منہ میں سگریٹ دبائے چوس رہا ہے اور سر ہلا رہا ہے میں نے چائے کی دو پیالیاں بنا کر کہا۔ "زماں بھائی! چائے پیو۔"
اس نے آئینے میں اپنا مہاسا بلیڈ سے چھیلتے ہوئے کہا۔ "نہیں۔"
میں نے کہا۔ "تھوڑی سی۔"
اس نے جواب دیا۔ "بھئی نہیں۔"
میں نے پوچھا۔ "بھئی نہیں کا کیا مطلب؟"
جھلا کر بولا۔ "بھئی نہیں کا مطلب یہ کہ نہیں۔"
میں نے پوچھا۔ "وجہ؟"
بولا۔ "نہیں۔"
میں نے پوچھا۔ "نہیں کیا؟"
کہنے لگا۔ "نہیں ہوتی ہے کہ بس نہیں۔"
ایسے آدمی کے ساتھ تین سال گزارنے جہنم ہیں کہ نہیں؟ باکسنگ میں یونیورسٹی چیمئین شپ کا انعام ملا تو اس بات پر اڑ گیا کہ انعام دینے والے سے ہاتھ نہیں ملاؤں گا۔ اپنی ہمت سے کپ لیا ہے، ہاتھ کیوں ملاؤں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا۔"
انعام لے کر ہاتھ ملائے بغیر واپس آ گیا۔ ڈاکیے نے ایک بیرنگ خط لا کر کہا۔ "دو آنے دیجیے۔"
اس نے لفافہ دیکھے بغیر جواب دیا۔ "خط واپس کر دو میں نہیں لیتا۔" میں نے پوچھا تو بولا دو آنے نہیں ہیں۔"
میں نے کہا۔ "یار مجھ سے لے لو، پھر لوٹا دینا۔"
پوچھنے لگا ۔ "کیوں لوں؟"
میں نے کہا۔ "اس لئے کہ خط لے سکو۔"
بولا۔ "نہیں میں نہیں لیتا۔"
میں نے نہیں کا لفظ سن کر کہا۔ "ٹھیک ہے شیروں کے پسر شیر ہی ہوتے ہیں جہاں میں۔ بھلا قبلہ گاہی کی طبیعت بھی ایسی ہی ہے؟ اس پر وہ ہنسنے لگا تو میں نے شیر ہو کر کہا۔ "بلاؤں ڈاکئے کو؟" اس نے نفی میں سر ہلایا اور تاش پھینٹنے لگا۔"
کالج میں جب فیس جمع کرانے کا دن آتا دفتر میں ہنگامہ بپا ہو جاتا۔ لڑکیاں اس دھکم پیل میں فیس دینے سے گھبراتی تھیں۔ ان کی فیس لڑکے جا کر داخل کرواتے تھے۔ اس طح ایک مہینے بعد ان کے کھل کر گفتگو کرنے کا اچھا خاصا موقع مل جاتا تھا۔ وہ اپنے پرس سے روپے نکالتیں اور گن کر کسی کلاس فیلو کو دیتیں۔ وہ انہیں گنتا اور یہ ضرور کہتا کہ ایک روپیہ کم ہے۔ اس طرح لڑکی اور لڑکے کے چہرے پر ایک ساتھ ایک سی دو مسکراہٹیں پھیل جاتیں فیس ادا کر کے پھر انہیں حساب دیا جاتا۔ ایک آدھ آنہ یہ کہہ کر رکھ لیا جاتا کہ یہ ہماری سگریٹ کے لئے ہے۔ پھر وہ اکنی کئی دنوں تک اس لڑکی کے سفید چھلے کی طرح دکھائی دیتی رہتی۔ ہاسٹل میں کئی ایسے بامذاق لڑکے بھی تھے جس کے پاس بہت سی ایسی انگوٹھیاں جمع ہو گئیں تھیں۔ ہماری کلاس میں ہر ایک کی یہی خواہش ہوتی کہ اس مرتبہ سیما اسے فیس لے جانے کے لئے منتخب کرے مگر وہ صرف سلیم کے ہاتھ اپنی فیس دفتر بھجواتی۔ ایک مرتبہ سلیم نہیں تھا تو سیما نے زماں کو ستر روپے دے کر کہا۔ میری فیس داخل کروا دیجئے۔ زماں کچھ کہے بغیر روپے لئے اور سیدھا ہوسٹل چلا آیا۔ سیما برآمدے میں گھنٹے بھر تک رسید کا انتظار کرتی رہی مگر رسید لانے والا تو اپنے کمرے میں گہری نیند سو رہا تھا۔ دوسرے دن زماں نے اکہتر روپے سیما کے ہاتھ پر رکھ کر کہا۔ کل مجھے نیند آ گئی اور میں فیس داخل نہ کروا سکا۔ آپ اپنے روپے لیجیے اور ایک روپیہ فیس کا جرمانہ ہے۔ سیما نے کھینچ کر روپیہ دیوار سے دے مارا۔ زماں نے کہا۔ ایسے تو نہیں ٹوٹے گا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
کالج میں پروفیسر راج سے اس کی جان جاتی تھی یہ پرانی وضع کے معمر پروفیسر تھے۔ چست پاجامہ اچکن پہنے ململ کی پگڑی باندھ کر کالج آتے ایک ہاتھ میں بورڈ صاف کرنے کا ڈسٹر ہوتا اور دوسرے میں چاکوں کا ڈبا۔ دونوں ہاتھ چاک کی سفیدی سے بھرے ہوتے اور اچکن پر بھی جگہ جگہ ان ہاتھوں کے نشان ہوتے۔ زماں کو وہ ہینگ والا کہا کرتے تھے اور یہ انہیں بجائے پروفیسر صاحب کے باباجی کہا کرتا۔ باباجی کے سامنے اس نے کبھی سگریٹ نہیں پیا، اونچے نہیں بولا، ضد نہیں کی اور کسی بات سے انکار نہیں کیا۔
ڈائی نمیکس کی کاپیاں دیکھتے ہوئے وہ زماں کو بلاتے اور اس کا کان پکڑ کر آہستہ آہستہ مسلتے جاتے اور کہتے جاتے۔ "یہ کیا کیا ہینگ والے! یہ کیا کیا۔" زماں کے منہ میں گھنگھنیاں بھری ہیں، آنکھیں نیچی ہیں، جواب دینے کی سکت نہیں۔ اسی طرح کمان بنا کھڑا ہے۔ اگلا صفحہ پلٹ کر باباجی اس کا کان چھوڑ کر پیٹھ ٹھونکتے اور خوش ہو کر کہتے۔ "میرا ہینگ والا ہے لائق، لیکن پاپی پڑھتا نہیں مکے بازی پر جان دیتا ہے۔" پھر اس کی کاپی بند کر کے کہتے۔ "جا میرے لئے ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس لا۔" اور زماں فخر سے سر اونچا کر کے دروازے کی طرف یوں بڑھتا جیسے کسی نے دوجہان کی دولت اسے بخش دی ہو۔
ایک مرتبہ سیما اور ساوتری پتہ نہیں کون سی کتاب لائبریری سے لینے گئیں تو لائبریرین نے انہیں بتایا کہ وہ کتاب تو دیر سے زماں صاحب کے پاس ہے۔ وہ سیدھی ہاسٹل پہنچیں میں رٹا لگانے میں مصروف تھا اور زماں حسبِ معمول رضائی چوڑائی کے رخ اوڑھے یوں ہی آنکھیں بند کئے لیٹا تھا۔ سیما نے اندر آ کر کہا۔ "زماں صاحب! وہ کتاب آپ کے پاس ہے؟"
زماں نے آنکھیں کھول کر جواب دیا۔ "اس میز پر پڑی ہے۔" اور پھر کروٹ بدل کر دیوار کی طرف منہ کر لیا۔ میں اپنی چارپائی سے اٹھ کر ان کے ساتھ کتاب تلاش کرنے لگا لیکن وہ نہ ملی۔ سیما نے پھر کہا۔ "مسٹر زماں! کتاب تو یہاں نہیں ہے؟"
زماں نے اسی طرح لیٹے لیٹے جواب دیا۔ "یہیں کہیں ہو گی۔ پرسوں تواسی میز پر پڑی تھی۔" سیما اور ساوتری نے اس بدتمیزی پر احتجاجا تلاش بند کر دی اور منہ پھلائے چلی گئیں۔
میں نے کہا۔ "یار عجیب احمق ہو۔"
اس نے کہا۔ "ہوں۔" اور پھر سو گیا۔
ایک مرتبہ جب کالج میں ڈرامے کی ریہرسل ہو رہی تھی تو زماں بھی وہاں پہنچ گیا۔ سیما پانی کے جگ کے پاس کھڑی تھی سلیم اپنا مکالمہ بول کر پانی سے حلق تر کرنے آیا تو سیما نے گلاس پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ "اوں ہوں، باہر نل پر جا کر پانی پیجئے، پتہ نہیں کیسے کیسے لوگ ایک ہی گلاس میں پانی پیتے گئے ہیں۔" سلیم اس کی ہمدردی سے بے حد مرعوب ہوا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں شکریہ ادا کر کے باہر نکل گیا۔
زماں نے کہا۔ "مجھے بھی پیاس لگی ہے۔ سیما نے پھر گلاس پر ہاتھ رکھ کر یہی کہا۔ زماں نے گلاس اس کے ہاتھ سے کھینچ کر جگ سے پانی انڈیلا اور غٹ غٹ پی گیا۔ سیما نے کہا۔ "ضدی کہیں کا۔"
زماں نے کہا۔ "وہمی کہیں کی۔" اور ایک مصنوعی ڈکار لے کر ہال سے باہر آ گیا۔ وائی ایم سی اے میں باکسنگ کا مقابلہ ہوا۔ ہمارے کالج کے علاوہ دوسرے کالجوں کے طلبہ بھی یہ مقابلہ دیکھنے آئے۔ زماں کا مقابلہ پنجاب رجمنٹ کے ایک کپتان سے ہوا۔ زماں ہار گیا رنگ سے باہر نکل کر اس نے سیما اور سلیم کو آپس میں باتیں کرتے دیکھا۔ ان کے قریب جا کر زماں نے سیما سے پوچھا۔ "مقابلہ پسند آیا؟"
"بہت!" سیما نے مسکرا کر کہا۔ "مان ٹوٹا! میں کوئی ہارا ہوں؟" اس نے اپنے خون آلود منہ اور چہرے پر پڑے ہوئے نیلوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ "یہ تمغے کامیابی کے بغیر تو نہیں ملتے نا سلیم صاحب!" سلیم صاحب کو یہ بات بہت ناگوار گزری۔ وہ سیما کو لے کر جلدی جلدی سیڑھیاں اتر گیا۔
سردیوں کی ایک تیرہ و تاہ رات کو بارہ بجے کے قریب وہ کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے سر اور بازو پر پٹیاں بندھی تھیں اور ان سے خون رس رہا تھا۔ بتی جلنے سے میں جاگ اٹھا اور اسے اس حالت میں دیکھ کر حیران رہ گیا۔ "کیا ہوا؟" میں نے رضائی پرے پھینک کر پوچھا۔
"کچھ نہیں یار!" اس نے جیب سے سگریٹ نکال کر منہ میں دبائی اور ماچس میز پر پہلو کے بل کھڑی کر کے دائیں ہاتھ سے اس پر دیا سلائی رگڑنے لگا۔
میں نے کہا۔ "میں جلائے دیتا ہوں۔"
اس نے جھلا کر کہا۔ "آخر کیوں؟ کیا میں اپنی سگریٹ بھی خود نہیں سلگا سکتا؟"
میں نے پھر پوچھا۔ "تم زخمی کیسے ہو گئے؟"
اس نے ہنس کر کہا۔ "جیسے ہوا کرتے ہیں۔ میں حملے کے جواب کے لئے تیار نہیں تھا۔ وہ مجھ پر ایک دم پل پڑا اور چاقو سے کھچاک کھچاک کئی زخم لگا دئیے۔ پھر میں پٹی کروانے اسپتال چلا گیا۔ اسی لئے تو مجھے دیر ہو گئی اور یار! آج دیر سے آنے پر جواب طلبی بھی ہو گی اور جرمانہ بھی۔"
میں نے پوچھا۔ "مگر وہ تھا کون؟"
"مجھے کیا خبر۔" اس نے بستر پر لیٹتے ہوئے کہا۔ "ایسی تاریک رات میں کہیں شکل پہچانی جاتی ہے۔"
"وہ کچھ بولا نہیں؟" میں نے پوچھا۔
"بولا تھا۔"
"کیا کہتا تھا؟"
"میں نہیں بتاتا۔"
میں نے گالی دے کر کہا۔ "تو جا جہنم میں، تجھ سے پوچھتا ہی کون ہے۔"
اس پر وہ ہنسنے لگا اور تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد دیر تک ہنستا رہا۔ بتی بجھا کر اور اپنے بستر میں منہ سر لپیٹ کر میں جی ہی جی میں اسے گالیاں دیتا رہا۔ پھر میں نے رضائی سے منہ نکال کر پوچھا۔ "یار! تم نے اس کی آواز نہیں پہچانی؟"
اس نے جھلا کر کہا۔ "چاچا! میں نے پہلے کبھی اس کی آواز سنی ہوتی تو پہچانتا۔" پھر ہم میں سے کوئی نہ بولا۔
جب دوسرے دن کالج میں ہر ایک نے بار بار اس سے رات کے حادثہ کے متعلق پوچھنا شروع کیا تو اس نے تنگ آ کر ایک نوٹس لگا دیا کہ "پچھلی رات کسی شخص نے مجھے گھائل کیا۔ میں مقابلے کے لئے تیار نہیں تھا اس لئے گہرے زخم آئے پٹی اسی وقت کرائی گئی، اب روبصحت ہوں۔ براہِ کرم کوئی صاحب میری روداد نہ پوچھیں۔ میں اپنی داستان سنا سنا کر تھک گیا ہوں۔" اس کے نیچے اس نے موٹے حروف میں زماں خاں بقلم خود لکھ دیا۔
اس شام میں اسے سائیکل پر بٹھا کر پٹی کروانے اسپتال لے جا رہا تھا کہ راستے میں سیما مل گئی۔ اس نے ہمیں روک لیا اور زماں سے کہنے لگی۔ "مسٹر زماں! میں نے آج آپ کو پٹی بندھے دیکھا تھا لیکن اس کے متعلق پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔ کالج سے گھر لوٹتے ہوئے آپ کا اعلان پڑھا تو میرا جی بھی آپ کو تھکا دینے کو چاہا۔ بتائیے کیا ہوا تھا؟"
زماں نے سائیکل کی گدی پر ٹیک لگا کر کہا۔ "کوئی گیارہ بجے کے قریب جب میں اپنے کالج کے پچھواڑے آموں والی سڑک پر جا رہا تھا تو کسی نے میرا نام لے کر پکارا۔ میں رک گیا اور پیچھے مڑ کر دیکھا۔ متوسط قد کا ایک آدمی کمبل پہنے میرے پاس آیا۔ ذرا سی دیر رکا اور پھر ایک دم خنجر سے مجھ پر وار کیا جو میرے بائیں کندھے میں لگا۔ میں نے اس کی ٹھوڑی کو ہٹ کیا مگر چونکہ میرا کندھا زخمی ہو گیا تھا۔ اس لئے ضرب ٹھیک سے نہیں لگی۔ اس نے مجھے نیچے گرا لیا اور پوچھا۔ کیا تم سیما سے محبت کرتے ہو؟ میں نے کہا۔ "ہاں۔"
سیما نے تنک کر پوچھا۔ "آپ نے یہ کیوں کہا؟"
"وہ اس لئے" زماں نے گھنٹی پر انگلی بجاتے ہوئے کہا۔ "کہ اگر میں نہیں کہہ دیتا تو وہ چھوڑ دیتا اور سمجھتا کہ میں نے صرف جان بچانے کے لئے ایسا کیا ہے پھر اس نے خنجر اوپر اٹھا کر کہا۔ اس کا خیال چھوڑ دو نہیں تو تمہیں جان سے مار ڈالوں گا۔ میں نے جواب دیا کہ میں جان سے جائے بغیر اس کا خیال کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔ یہ کہتے ہی میں نے پوری طاقت سے اسے پرے دھکیلا اور وہ دور جا گرا۔ سامنے کے چوبارے کی بتی جلی اور وہ بھاگ گیا۔
سیما اس کا جواب دئیے بغیر تیز تیز آنکھوں سے اسے گھورتی ہوئی آگے چلی گئی۔
راستے میں میں نے اس سے پوچھا۔ "تم نے یہ بات مجھے کیوں نہ بتائی؟"
اس نے جواب دیا۔ "چونکہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا، اس لئے۔"
اس واقعے کے تھوڑے عرصے بعد مارچ کے مہینے میں ایک اور عجیب واقعہ رونما ہوا۔ اس وقت ہم لوگ اپنے کمروں کے دروازے کھلے چھوڑ کر اندر ہی سوتے تھے۔ آدھی رات کو کسی نے ہمارے کمرے کے دروازے سے لگ کر سوتے ہوئے زماں پر پستول کے دو فائر کئے۔ ٹیبل لیمپ کا شیڈ ٹوٹ گیا اور میز پر پڑی آکسفورڈ کی ڈکشنری کے بہت سے اوراق گولی چاٹ کر نکل گئی۔
چند دن بعد زماں ہوسٹل سے چلا گیا۔ پھر اس نے کالج آنا بند کر دیا اور مجھے اکیلا چھوڑ کر پتہ نہیں کہاں چلا گیا آج پورے بارہ سال اسی زماں نے کافی ہاؤس کی سیڑھیوں کے نیچے میری آنکھیں ہاتھ سے ڈھانپ کر گویا پوچھا تھا۔ "میں کون ہوں؟"
میں بنجارہ ہوٹل میں دیر تک اس کا انتظار کرتا رہا۔ سات بج گئے مگر وہ نہ آیا۔ میں اپنے کمرے سے باہر نکل کر برآمدے میں ٹہلنے لگا ہوٹل کے پھاٹک پر زماں ایک بیرے سے میرا پتہ پوچھ رہا تھا۔ میں لپک کر اس کے پاس پہنچا اور اسے اپنے کمرے میں لے آیا۔
گھنٹی بجا کر میں نے بیرے کو بلایا اور زماں سے پوچھا۔ "چائے پیو گے؟"
"نہیں۔" اس نے منہ پھاڑ کر جواب دیا۔
"آخر کیوں؟"
"بس نہیں۔"
جب اس نے "بس نہیں۔" کہا تو میں نے بیرے سے کہا۔ "جاؤ کوئی کام نہیں۔"
میں نے زماں کے قریب کرسی کھینچ کر اسے وہی خبر سنائی کے اس کے چلے جانے کے بعد سیما بھی کہیں روپوش ہو گئی اور آج تک اس کا کوئی کھوج نہ مل سکا۔
"لیکن وہ گئی کہاں یار؟" اس نے حیرت سے پوچھا۔ "اس کے ماں باپ نے تلاش بھی نہ کی؟"
"کی بھائی! بہت کی، مگر اس کا پتہ ہی نہ چلا۔"
"کمال ہے۔" اس نے اپنے کرتے کی جیب سے ایک بیڑی نکالی اور چوسنے لگا۔ میری طرف محبت بھری نگاہوں سے دیکھ کر کہنے لگا۔ جس رات مجھ پر کسی نے گولی چلائی۔ اس سے اگلے دن سیما مجھے لائبریری میں ملی۔ اس نے مجھے کہا کہ میں شام کو اسے آرام باغ میں ملوں۔ میں نے اس سے وجہ پوچھی تو اس نے اتنا کہا کہ شام کو بتاؤں گی۔ شام کو ہم کرکٹ گراؤنڈ سے پرے درختوں کے ایک جھنڈ میں بیٹھ گئے۔ سیما نے کہا۔ "زماں! اگر میں تم سے ایک چیز مانگوں تو دو گے؟" میرے منہ سے پتا نہیں کیوں "ضرور" نکل گیا۔ اس نے روہانسی ہو کر کہا۔ مجھے اپنی زندگی دے دیجئے۔ میں نے بازو پھیلا کر جواب دیا۔ "لے لو" تو اس نے کہا۔ "میں اسے لے جا کر جہاں چاہوں رکھوں؟" میں نے کہا۔ "جو چیز تمہاری ہے اس کے رکھ رکھاؤ میں داخل والا میں کون؟" پھر اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے اور وہ ہاتھ باندھ کر بولی۔ یہاں سے چلے جائیے اپنے گاؤں یا کہیں اور وہ لوگ آپ کو مار ڈالیں گے۔۔۔۔۔۔ آپ کو۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو۔۔۔۔۔۔۔ پھر وہ سسکیاں بھر کر رونے لگی۔ میں نے کہا۔ "یہ مجھ سے نہ ہو سکے گا۔ میرے حملہ آور سمجھیں گے میں ڈر کر بھاگ گیا ہوں، میرے دوست کہیں گے میں بزدل تھا اور باکسنگ میں مجھ سے ہارے ہوئے حریف کہیں گے۔ وہ اب ہوتا تو۔۔۔۔۔۔ میں یہاں سے نہیں جاؤں گا سیما! خواہ کچھ بھی کیوں نہ ہو جائے تم مجھے اس بات پر مجبور نہ کرو۔" اس نے کہا۔ "تم نے وعدہ کیا تھا اور میں اس کی شہ پر اتنی سی چیز کی فرمائش کی ہے۔ اب تم اس چیز پر اپنا وعدہ قربان کر رہے ہو؟ میں نے تو سنا تھا کہ تمہارے وعدے کبھی نہیں ٹوٹتے۔" میں نے سیما سے وعدہ کر لیا تھا کہ اپنے گاؤں تو نہ جاؤں گا پر بمبئی چلا جاؤں گا۔ وہاں میری برادری کے چند افراد سودی روپے کا لین دین کرتے تھے۔ میں تمہیں بتائے بغیر ان کے پاس پہنچ گیا۔ دن رات مجھے ایک یہی خیال کھائے جا رہا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے کہ موت سی چیز سے ڈر کر بھاگ گیا۔ میں نے سیما کو ایک خط لکھا کہ بمبئی کی زندگی سے تنگ آ گیا چکا ہوں اور واپس آنا چاہتا ہوں۔ اب مجھے وعدے کا ذرا بھی پاس نہیں۔ اگر زندگی میں ایک وعدہ ایفا نہ ہو سکا تو کون سی قیامت آ جائے گی۔ میں تمہارے خط کا ایک ہفتے تک انتظار کروں گا اور اس کے بعد میں پھر تمہارے پاس پہنچ جاؤں گا۔ چار دن گزر گئے خط نہ آنا تھا نہ آیا۔ پانچویں دن سیما خود میرے پاس پہنچ گئی۔ اس نے مجھے کالج کی کتنی ہی دلچسپ خبریں سنائیں۔ تمہارے متعلق بتایا کہ تم نے ایک نیولا پال لیا ہے اور اسے چھپا کر کلاس میں لے آتے ہو۔ باباجی کے بارے میں بتایا کہ میرا نام لے کر بار بار کہتے ہیں کہ وہ پاپی بہت یاد آتا ہے۔ پتہ نہیں کہاں چلا گیا۔ خدا جانے ہم کو یاد بھی کرتا ہے یا نہیں۔ پھر سیما نے کہا کہ میں اس لئے آئی ہوں کہ تم اپنا وعدہ نبھا سکو۔ اب میں عمر بھر تمہارے ساتھ رہوں گی اور تمہیں اپنے قول پر قائم رکھوں گی۔"
"مجھے کسٹم میں ایک معمولی سی نوکری مل گئی اور بھنڈی بازار کی اسی گلی میں ہماری شادی ہو گئی لیکن یار وہ بجھی بجھی سی رہتی اور جب میں دفتر میں ہوتا تو روتی بھی رہتی۔ شام کو اس کی آنکھیں سوجی ہوئی ہوتیں اور وہ چہرے پر مصنوعی مسکراہٹیں پھیلا پھیلا کر مجھ سے باتیں کرتی۔ پھر ایک دن پتہ نہیں اسے کیا ہو گیا کہ میرے پیچھے پڑ گئی کہ بمبئی چھوڑ کر کہیں اور دور نکل چلو۔ یوں تو یار میں رات کو اس کے ساتھ تاش کھیل کر اس کے سارے روپے جیت لیا کرتا تھا اور کبھی واپس نہ کرتا۔ پر مجھے اس کے دل کا بڑا خیال تھا۔ اینگلو ایرانین آئل کمپنی میں مستریوں کی جگہ خالی تھی۔ میں نے عرضی دے دی۔ انتخاب ہوا اور ہم آبادان پہنچ گئے اور یار! اب آبادان کی باتیں سناؤں گا تو رات بیت جائے گی مگر کہانی ختم نہ ہو گی۔ وہاں باکسنگ اور ڈائی نمیکس نے بڑا کام دیا۔ مائیکل صاحب ہر مہینے باکسنگ کا ایک مقابلہ کراتے اور میری گیم ضرور دیکھتے۔ ایک سال کے اندر اندر میں ڈپٹی انجینئر ہو گیا۔ سیما کے بڑے ٹھاٹ تھے۔ اس نے ساری ہندوستانی اخباریں اور رسالے اپنے نام جاری کرا رکھے تھے۔ اپنے بنگلے کے باغیچے میں بید کی کرسی ڈال کر دیر تک مطالعہ کرتی رہتی۔ مستریوں اور فٹروں کی بیویاں اور بچے اس کے گرد گھیرا ڈالے اسے طرح طرح کی باتیں سنایا کرتے۔ اس دوران میں ہم نے شاید ہی کوئی فلم چھوڑی ہو۔ ہر روز سینما کا چکر ہو جاتا تھا۔ کبھی کبھار ہم ناراض بھی ہو جاتے تھے لیکن ہر بار میں ہی اسے مناتا۔ وہ اپنے ابا اور امی کو یاد کر کے بہت رویا کرتی تھی۔ مجھ سے یہ بات پتا نہیں کیوں برداشت نہ ہوتی اور یہیں سے جھگڑا شروع ہو جاتا۔ آبادان کی زندگی میں صرف ایک بار اس نے مجھے منایا وہ بھی غیر ارادی طور پر۔ تمہاری تصویر اخباروں میں چھپی تھی وہ اس کی بھی نظر پڑی۔ میں اس وقت ریفائنری کے ایک ہزار فٹ اونچے کولنگ ٹینک پر بیٹھا سرکٹ دیکھ رہا تھا، کہ سیما ٹرالی پر چڑھ کر اوپر میرے پاس پہنچ گئی۔ میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ ان دنوں روٹھی ہوئی تھی اور یہ پہلا موقع تھا کہ وہ بنگلے سے ریفائنری اور پھر فرش سے اتنی اونچی چوٹی پر چڑھ آئی تھی۔ میں سرکٹ کا معائنہ مستریوں پر چھوڑ کر اس کے ساتھ سوار ہو گیا۔ ٹرالی آہستہ آہستہ نیچے اترنے لگی۔ میں جنگلے کے ایک کنارے بیٹھ گیا تو اس نے میری آستین پکڑ کر کھینچی۔ میں کچھ بولا نہیں۔ پھر اس نے میری کلائی پکڑ لی۔ مجھے اپنی طرف کھینچا اور بولی۔ یہاں نہ بیٹھو۔ میں نے کہا۔ تم تو مجھ سے بولنا ہی نہیں چاہتیں یہاں سے کیوں اٹھاتی ہو؟ اس نے میری دونوں کلائیاں پکڑ کر اپنی طرف کھینچیں اور میرے ساتھ چمٹ کر بولی۔ تم سے نہ بولوں گی تو اور کس کے ساتھ بولوں گی۔ ٹرالی زمین پر پہنچ گئی اور سارے مستریوں اور مزدوروں سے بے خبر وہ مجھ سے اسی طرح چمٹی رہی۔
"ہماری شادی کے پورے چھ سال بعد سہیل پیدا ہوا اور سیما کا اس سے دل لگ گیا۔ اس کے بعد شاید ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔ اور یار! میں نے تم سے کہا نا کہ یہ لڑکیاں عجیب بادشاہ ہوتی ہیں۔"
میں نے پوچھا۔ "سیما اب کہاں ہے؟"
زماں نے جواب دیا۔ پچھلے دسمبر کی ایک شام سہیل اپنے کونونٹ سے ڈرامہ دیکھ کر آیا تو راستے میں اسے بڑی سردی لگی۔ گھر آ کر اس نے اپنی ممی سے کہا مجھے گرم دودھ پلاؤ تو اس نے یہ سوچ کر کہ باورچی دیر لگائے گا خود ہی ایک پیالے میں دودھ ڈال کر اسے اپنے ہیٹر پر رکھ کر پلگ جو لگایا تو اسے شدید برقی صدمہ پہنچا۔ رات تک سارے ڈاکٹر اس کے گرد جمع رہے لیکن وہ جاں بر نہ ہو سکی۔ سہیل کو اپنی ممی کی موت کا بہت صدمہ ہوا۔ وہ اسی دن سے بیمار ہے کہ سیما کی موت کے بعد مجھے اپنے معاہدے کے مطابق ایک سال اور وہیں رہنا پڑا اور اس عرصے میں سہیل کی حالت بد سے بدتر ہو گئی اور سچی بات تو یہ ہے کہ سیما کے بعد میں اس پر پوری توجہ نہ دے سکا۔ اس دوران میں خوب جی بھر کر برج کھیلی اور سیما کا جمع کیا ہوا روپیہ ہارتا رہا اور اب مجھے یہاں آئے پورا ایک مہینہ بھی نہیں ہوا۔ سہیل کی حالت اب بالکل بگڑ چکی ہے۔ ڈاکٹر نے اسٹرپٹومائی سین کے ٹیکے تجویز کئے ہیں اور آج دوپہر میں اسی کا پرمٹ لینے جا رہا تھا کہ تم مل گئے۔"
"میں نے پوچھا۔ "پرمٹ مل گیا؟"
"ہاں۔" اس نے اپنے کرتے کی بغلی جیب میں ہاتھ ڈال کر خاکی رنگ کا ایک کاغذ نکال کر دکھایا اور بولا۔ "اب تو دکانیں بند ہو گئی ہوں گی صبح ٹیکے خریدوں گا۔"
میں نے کہا۔ "الفنسٹن اسٹریٹ میں ابھی بہت سی دکانیں کھلی ہوں گی۔ ابھی چل کر کیوں نہ لے لیں۔"
زماں نے کہا۔ "اب کل ہی لوں گا۔"
"کل کیوں؟" میں نے پوچھا۔
"بس یار! آج نہیں لوں گا۔"
"نہیں کیوں؟"
"نہیں لوں گا یار! کیوں کیا؟"
"پیسے نہیں؟" میں نے پوچھا۔
"ہیں۔" اس نے خوف زدہ ہو کر کہا۔
"دکھاؤ۔"
"نہیں دکھاتا۔"
میں نے کہا۔ "اچھا تمہاری مرضٰ، یہ کوئی نئی بات تو نہیں۔ تم ہمیشہ سے ضدی اور اپنی ہٹ کے پکے رہے ہو۔ بچے کی جان کے لالے پڑے ہیں اور تم اپنی وضعداری نبھا رہے ہو۔"
اس نے اس بات کا کوئی جواب نہ دیا اور بولا۔ "اچھا اب چلتا ہوں کل تم سے ملوں گا۔ دس گیارہ بجے کے قریب۔"
وہ چلا گیا تو میں نے اپنے بٹوے سے سو روپے کا ایک نوٹ نکالا اور پڑیا بنا کر مٹھی میں چھپا لیا۔ پھر میں تیزی سے اس کے پیچھے گیا۔ وہ ہوٹل کے پھاٹک کے پاس ایک دیا سلائی خرید رہا تھا۔ میں نے کہا۔ "ظالم! اتنی لمبی رات درمیان میں ہے۔ گلے تو مل لو۔" جب وہ مجھ سے بغل گیر ہوا تو میں نے سو روپے کا نوٹ چپکے سے اس کی بغلی جیب میں ڈال دیا۔
تھوڑی دور اس کے ساتھ چل کر میں واپس اپنے ہوٹل میں آ گیا اور بیرے سے کہا کہ اگر کوئی صاحب مجھ سے ملنے آئیں تو انہیں کہہ دینا کہ میں یہ ہوٹل چھوڑ کر چلا گیا ہوں اور دیکھو صبح سات بجے ایک وکٹوریا لا کر مجھے جگا دینا میں صبح کی گاڑی سے واپس جا رہا ہوں۔" یہ کہہ کر میں اپنے کمرے میں آیا زماں کے نام ایک خط لکھا اور اسے میز میں ڈال کر سو گیا۔
صبح ساتھ بجے بیرے نے دروازہ کھٹ کھٹانا شروع کر دیا میں نے کہا۔ "جاگ گیا ہوں بھئی تم جاؤ۔"
مگر بیرے نے شاید میری آواز نہیں سنی۔ اسی طرح دروازہ پیٹے چلا گیا۔ جھلا کر میں بستر سے اٹھا اور دروازہ کھول دیا۔ سامنے زماں کھڑا بیڑی پی رہا تھا۔ اس نے ہنس کر کہا۔ "یار عجیب گھوڑے بیچ کر سوتے ہو۔ اس عمر میں ایسی نیند اچھی نہیں ہوتی۔ بھلے مانس صبح اٹھ کر اللہ کا نام لیا کرو۔"
میں نے خفت مٹاتے ہوئے کہا۔ "بھائی! رات کو دیر تک جاگتا رہا۔ اسی لئے آج دیر سے اٹھا ہوں ورنہ اب تو کالج کا وہ لونڈا نہیں رہا۔ "پھر میں نے اس کے ہاتھ سے بیڑی لے کر یوں ہی ایک دو کش لگائے اور پوچھا۔ "سہیل کیسا ہے؟"
اس نے مسکرانے کی کوشش کی اور بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔ "یار! وہ بھی اپنی ممی سے جا ملا۔" پھر اس نے اپنے کرتے کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور دامن الٹ کر کہا۔ "یار! ذرا دیکھنا۔ کل رات یہاں سے جاتے ہوئے کسی صاحب زادے نے ہماری جیب کاٹ لی جیسے ہم جیبوں میں نوٹ ہی تو ڈالے پھرتے ہیں۔ سالے کو اسٹرپٹومائی سین کے پرمٹ اور تین آنے کے سوا کیا ملا ہوگا۔" کٹی ہوئی جیب سے اس کی زرد زرد انگلیاں چھپکلیوں کے سروں کی طرح باہر جھانک رہی تھیں۔



******
ٹائپنگ:  ملک بلال بھائی - اردو محفل
بشکریہ : اردو محفل

FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک