باز آئے ہم تو ایسی بے کیف زندگی سے ۔ شکیل بدایونی

غزل

ساقی نظر سے پنہاں، شیشے تہی تہی سے
باز آئے ہم تو ایسی بے کیف زندگی سے

کس شوق، کس تمنّا، کس درجہ سادگی سے
ہم آپ کی شکایت کرتے ہیں آپ ہی سے

اے میرے ماہ کامل! پھر آشکارا ہو جا
اُکتا گئی طبیعت تاروں کی روشنی سے

نالہ کشو اُٹھا دو، آہ و فغاں کی رسمیں
دو دن کی زندگی ہے، کاٹو ہنسی خوشی سے

دامن ہے ٹکڑے ٹکڑے، ہونٹوں پہ ہے تبسّم
اک درس لے رہا ہوں پھولوں کی زندگی سے

آگے خدا ہی جانے انجامِ عشق کیا ہو
جب اے شکیلؔ اپنا یہ حال ہے ابھی سے

شکیلؔ بدایونی

1 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

عائشہ کہا...

جناب نے درست لکھا ہے شکریہ

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک