سڑکوں پر اِک سیلِ بلا تھا لوگوں کا

غزل

سڑکوں پر اِک سیلِ بلا تھا لوگوں کا
میں تنہا تھا، اِس میں کیا تھا لوگوں کا

دنیا تھی بے فیض رِفاقت کی بستی
جیون کیا تھا ،اِک صحرا تھا لوگوں کا

سود و زیاں کے مشکیزے پر لڑتے تھے
دل کا دریا سوکھ گیا تھا لوگوں کا

میں پہنچا تو میرا نام فضا میں تھا
ہنستے ہنستے رنگ اُڑا تھا لوگوں کا

نفرت کی تحریریں ہر سو لکھی تھیں
دیواروں پہ رنگ چڑھا تھا لوگوں کا

میں اُن کو، وہ مجھ کو دیکھ کے ڈرتے تھے
شہرِ ستم تھا، خوف بجا تھا لوگوں کا

کچھ لوگوں نے نفرت بوئی ،لوگوں میں
پھر سڑکوں پر خون بہا تھا لوگوں کا

ہنسنا بُھولے، ہنسی اُڑانا سیکھ لیا
پہلے کب یہ رنگ ہوا تھا لوگوں کا

اب جو کہیں تو کس کو باور آئے گا
مہر و مروّت طور رہا تھا لوگوں کا

دنیا میں تھا احمدؔ، دنیا سے عاجز
خود کو گنوا کر سوچ رہا تھا لوگوں کا

محمد احمدؔ​

چھلانگ - احمد صغیر صدیقی

چھلانگ
 احمد صغیر صدیقی

 چند نو عمر لڑکے ایک جگہ کھڑے تھے ایک لڑکے کے ہاتھ میں ایک نقشہ دبا ہوا تھا۔ یہ دنیا کا نقشہ تھا۔۔ اُن میں سے ایک لڑکے نے نقشہ چھیننے کے لئے جھپٹا مارا اور پہلے لڑکے کے ہاتھ میں دبے کاغذ کا ایک حصہ نوچتا ہوا لے اُڑا۔

پھر بقیہ لڑکوں نے بھی نقشے کے لئے اُچھال بھری کاغذ کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔
ایک لڑکے کے ہاتھ آدھا ایشیا ء اور پورا یورپ آیا۔ دوسرے کو براعظم امریکا اور آدھا ایشیاء ملا تیسرے کو افریقہ اور آسٹریلیا۔
پہلے لڑکے نے  منہ بسور کر ہاتھ میں باقی رہ جانے والے کاغذ کے ٹکڑے کو دیکھا۔ اس کے پاس کچھ نہیں رہا تھا سوائے سمندروں کے ۔ اچانک سارے لڑکوں نے اس ٹکڑے کے لئے بھی  ایک ساتھ چھلانگ لگائی  اور ۔۔۔ سب کے سب ڈوب گئے۔

بشکریہ : سہ ماہی ادبیات

غزل ۔ اک عجب ہی سلسلہ تھا، میں نہ تھا ۔ محمد احمدؔ

غزل 

اک عجب ہی سلسلہ تھا، میں نہ تھا
مجھ میں کوئی رہ رہا تھا ، میں نہ تھا 

میں کسی کا عکس ہوں مجھ پر کُھلا
آئینے کا آئینہ تھا ، میں نہ تھا

میں تمھارا مسئلہ ہرگز نہ تھا
یہ تمھارا مسئلہ تھا، میں نہ تھا

پھر کُھلا میں دونوں کے مابین ہوں
اِک ذرا سا فاصلہ تھا ، میں نہ تھا

ایک زینے پر قدم جیسے رُکیں
تری رہ کا مرحلہ تھا، میں نہ تھا

وہ جو اک گم کردہ رہ تھا دشت میں
وہ تو میرا رہنما تھا، میں نہ تھا

اونچی نیچی راہ محوِ رقص تھی
ڈگمگاتا راستہ تھا ، میں نہ تھا

تم نے جس سے سمت پوچھی دشت میں
وہ کوئی قبلہ نما تھا، میں نہ تھا

یہ کہانی تھی، مگر میری نہ تھی
وہ جو مردِ ماجرا تھا، میں نہ تھا

میں تو اپنی شاخ سے تھا متصل
پات جو وقفِ ہوا تھا، میں نہ تھا

خُود سے مل کر بُجھ گیا تھا میں تو کل
دیپ جو شب بھر جلا تھا، میں نہ تھا

"میں نہ تھا" کہتا تھا جو ہربات پر
وہ تو کوئی دوسرا تھا، میں نہ تھا

میں تو احمدؔ کب سےمحوِ یاس ہوں
کل جو محفل میں ہنسا تھا، میں نہ تھا​

محمد احمدؔ

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک