سلیمانِ سخن تو خیر کیا ہوں ۔ انور شعور

غزل

سلیمانِ سخن تو خیر کیا ہوں
یکے از شہرِ یارانِ سبا ہوں

وہ جب کہتے ہیں، فردا ہے خوش آئند
عجب حسرت سے مُڑ کر دیکھتا ہوں

فراق اے ماں کہ میں زینہ بہ زینہ
کلی ہوں، گل ہوں، خوشبو ہوں، صبا ہوں

سحر اور دوپہر اور شام اور شب
میں ان لفظوں کے معنی سوچتا ہوں

کہاں تک کاہلی کے طعن سنتا
تھکن سے چور ہو کر گر پڑا ہوں

ترقی پر مبارک باد مت دو
رفیقو! میں اکیلا رہ گیا ہوں

کبھی روتا تھا اُس کو یاد کرکے
اب اکثر بے سبب رونے لگا ہوں

سُنے وہ اور پھر کرلے یقیں بھی
بڑی ترکیب سے سچ بولتا ہوں

انور شعورؔ​

4 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

نیرنگِ خیال Rz Nain کہا...


کہاں تک کاہلی کے طعن سنتا
تھکن سے چور ہو کر گر پڑا ہوں

کیا ہی کوچیانہ شعر ہے۔۔۔ زبردست

Muhammad Ahmed کہا...

ہاہاہاہاہا!

اب تو کوچہ میں سستی کا عالم یہ ہے کہ سستی کے کچوکے لکانے والا بھی اب کوئی نہیں رہا۔

Muhammad Ahmed کہا...

آج صبح ایک صاحب نے اپنا نام "سلیمان" بتایا تو یہ شعر یاد آگیا اور پھر یہ غزل۔

کیا اعلیٰ غزل ہے انور شعور کی۔

مزید تحقیق پر پتہ چلا کہ یہ غزل ہم نے محفل پر تو لگائی ہے لیکن بلاگ پر نہیں سو آج اسے بلاگ پر بھی لگا دیا۔

محفل پر یہ غزل جہاں موجود ہے وہاں بھی اچھی خاصی گفتگو بمعہ تفریح ہوئی ہے۔ اور تین چار صفحات بھر دیے گئے ہیں۔ :)

نیرنگِ خیال Rz Nain کہا...

لاجواب کام کیا۔۔۔ اور کوچہ۔۔۔ ہائے اسم بامسمی ہوگیا۔۔۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک