حسرت موہانی کی دو خوبصورت غزلیں

حسرت موہانی کی دو خوبصورت غزلیں

ستم ہو جائے تمہید کرم ایسا بھی ہوتا ہے
محبت میں بتا اے ضبط غم ایسا بھی ہوتا ہے

بھلا دیتی ہیں سب رنج و الم حیرانیاں میری
تری تمکین بے حد کی قسم ایسا بھی ہوتا ہے

جفائے یار کے شکوے نہ کر اے رنج ناکامی
امید و یاس دونوں ہوں بہم ایسا بھی ہوتا ہے

مرے پاس وفا کی بدگمانی ہے بجا تم سے
کہیں بے وجہ اظہار کرم ایسا بھی ہوتا ہے

تری دل داریوں سے صورت بیگانگی نکلی
خوشی ایسی بھی ہوتی ہے الم ایسا بھی ہوتا ہے

وقار صبر کھویا گریہ ہائے بے قراری نے
کہیں اے اعتبار چشم نم ایسا بھی ہوتا ہے

بدعوائے وفا کیوں شکوہ سنج جور ہے حسرتؔ
دیار شوق میں اے محو غم ایسا بھی ہوتا ہے

*******

ہر حال میں رہا جو ترا آسرا مجھے
مایوس کر سکا نہ ہجوم بلا مجھے

ہر نغمے نے انہیں کی طلب کا دیا پیام
ہر ساز نے انہیں کی سنائی صدا مجھے

ہر بات میں انہیں کی خوشی کا رہا خیال
ہر کام سے غرض ہے انہیں کی رضا مجھے

رہتا ہوں غرق ان کے تصور میں روز و شب
مستی کا پڑ گیا ہے کچھ ایسا مزا مجھے

رکھیے نہ مجھ پہ ترک محبت کی تہمتیں
جس کا خیال تک بھی نہیں ہے روا مجھے

کافی ہے ان کے پائے حنابستہ کا خیال
ہاتھ آئی خوب سوز جگر کی دوا مجھے

کیا کہتے ہو کہ اور لگا لو کسی سے دل
تم سا نظر بھی آئے کوئی دوسرا مجھے

بیگانۂ ادب کیے دیتی ہے کیا کروں
اس محو ناز کی نگۂ آشنا مجھے

اس بے نشاں کے ملنے کی حسرتؔ ہوئی امید
آبِ بقا سے بڑھ کے ہے زہر فنا مجھے

مولانا حسرت موہانی

مولانا حسرت موہانی اور سودیشی تحریک



انگریز برِ صغیر کو دولت کی کان اور کبھی نہ ختم ہونے والا خزانہ سمجھتے تھے اور یہاں کی دولت سے خوب فائدہ اُٹھاتے تھے۔ یہاں سے سستے داموں کپاس خریدتے ۔ یہ کپاس انگلستان جاتی ۔ وہاں اُس سے طرح طرح کے کپڑے تیار ہوتے ۔ پھر یہ کپڑے برصغیر آتے، مہنگے داموں فروخت ہوتے اور انگریز اس کاروبار سے مالی منفعت حاصل کرتے۔ ایک تو یہ کہ اُن کے کارخانے چلتے، ہزاروں لوگوں کو روزگار ملتا ۔ دوسرے یہ کہ کپڑے کی فروخت سے بھی خوب فائدہ ہوتا۔

ایک کپاس ہی کیا، برصغیر کی ساری قدرتی پیداوار انگلستان جاتی ۔ وہاں سے بدلی ہوئی شکل میں واپس آ کر انگریزوں کی دولت بڑھاتی۔ اس زمانے میں برصغیر میں کارخانے بھی کم تھے ۔ جو تھے وہ بھی انگریزی کارخانوں سے مقابلہ نہ کر پاتے۔

برِ صغیر کے رہنماؤں نے انگریزوں کی اس زبردستی کو ختم کرنے کےلئے سودیشی تحریک شروع کی۔ سود یشی کا مطلب ہے دیس سے تعلق رکھنے والی ۔ سودیشی تحریک کے تحت ہر شخص سے کہا گیا کہ اپنے ملک کی بنی ہوئی چیزیں خریدے اور استعمال کرے۔ برصغیر کی معیشت کو پہنچنے والے بھاری نقصان کے اعتبار سے یہ بہت اچھی تحریک تھی۔

دنیا کی تمام ترقی کرنے والی قومیں اسی اصول پر عمل کرتی ہیں۔ انگریز اپنے ملک کی بنی ہوئی چیزیں خریدتے ہیں اور اُس پر فخر کرتے ہیں۔ امریکی فرانسیسی، چینی، جاپانی سب اپنے ملکوں کی مصنوعات پسند کرتے ہیں۔ یہ خاصیت ہم میں ہی ہے کہ اپنے ملک کی بنی ہوئی چیزیں چھوڑ کر پرائے دیس کی چیزیں خریدتے ہیں۔ انہیں استعمال کرتے اور خوشی خوشی ہر ایک کو دکھاتے ہیں کہ یہ باہر کا کپڑا ہے۔یہ باہر کا جوتا ہے۔ حالاں کہ اس سے قومی صنعتوں اور قومی ترقی کو بڑا نقصان ہوتا ہے۔ افسوس کہ آج بھی ہمارا یہی حال ہے۔

سودیشی تحریک کو لوگوں نے کامیاب بنانے کی کوشش کی اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے سارے ملک میں پھیل گئی۔ مولانا حسرت کو بھی سودیشی تحریک بہت پسند آئی۔ انہوں نے سب سے پہلے تو یہ عہد کیا کہ میں اب کوئی غیر ملکی چیز استعمال نہیں کروں گا۔ یہ بڑا مشکل عہد ہے۔ آسان بات نہیں مگر مولانا دُھن کے پکّے تھے۔ جب تک جیے اس عہد کو نباہتے رہیے۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ سخت سردی کا زمانہ تھا ۔ شام کے وقت مولانا لکھنؤ میں ایک معروف عالم سیّد سلیمان ندوی سے ملنے گئے۔ باتوں میں بڑی دیر ہو گئی ۔ سید صاحب نے اصرار کیا۔ کہنے لگے۔ "اب کہاں جائیے گا۔ رات بہت ہو گئی ہے۔ سردی بھی بہت ہے رات یہیں گزار لیجے، صبح کو چلے جائیے گا۔" مولانا سید صاحب کے اصرار پر وہیں ٹھہر گئے۔ رات کو اتفاقاً سید صاحب کی آنکھ کھلی تو خیال آیا ، مولانا حسرت مہمان ہیں۔ ذرا دیکھ لو آرام سے ہیں ۔ کوئی تکلیف تو نہیں۔ یہ سوچ کر سیّد صاحب اس کمرے میں گئے جہاں مولانا سو رہے تھے ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ مولانا گُڑی مُڑی بنے، سُکڑے سِمٹے لیٹے ہیں اور اونی کمبل پائنتی پر پڑا ہے ۔ ہوا یہ کہ مولانا کے پائنتی کمبل رکھ دیا گیا تھا کہ رات کو اوڑھ کر سو جائیں۔ کمبل تھا ولایتی۔ مولانا نے ولایتی کمبل دیکھا تو اپنے عہد کے مطابق اُسے نہیں اوڑھا۔ کمبل پائنتی پڑا رہا ۔ مولانا رات بھر سردی میں سُکڑتے رہے مگر ولایتی کمبل اوڑھنا گوارا نہ ہوا۔ عہد پر قائم رہنے والے سچے لوگ ایسے ہوتے ہیں۔

اگر سب لوگ اپنے عہد کا پاس کرنے لگیں تو کوئی بڑے سے بڑا قومی کام بھی ناممکن نہ رہے۔

یہ مضمون ڈاکٹر اسلم فرخی کے کتابچے "مولانا حسرت موہانی" کے اقتباسات پر مبنی ہے۔

مولانا حسرت موہانی اور اردوئے معلیٰ


بہ یک وقت 'رئیس الاحرار' اور 'رئیس المتغزلین' کا لقب پانے والے سید فضل الحسن کو دنیا مولانا حسرت موہانی کے نام سے جانتی ہے۔ مولانا حسرت موہانی اودھ کے علاقے موہان کے رہنے والے تھے۔ اور موہان کی نسبت اپنے تخلص کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔ موہان سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے مولانا علی گڑھ کالج آ گئے۔ طالبِ علمی کے زمانے میں ہی کالج میں مولانا حسرت کی شہرت ہو گئی تھی۔ وہ کالج یونین کے جلسوں میں تقریریں کرتے اور مباحثوں میں بھی حصہ لیتےتھے۔ اس کے ساتھ ساتھ حسرت مشاعروں میں غزلیں بھی پڑھتے تھے۔ مولانا نے علی گڑھ کالج میں ایک ادبی انجمن ادوئے معلیٰ بھی بنائی تھی ۔ مولانا حسرت موہانی نوجوانی ہی میں بڑے بااصول اور بات کے دھنی تھے ۔اپنی بات پر قائم رہتے اور غلط بات گوارا نہیں کرتے تھے ۔ اُنہیں غلامی سے نفرت تھی اس وجہ سے انگریز حکومت کو سخت ناپسند کرتے تھے اور آزادی کی جد و جہد کرنے والوں کے ساتھ تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ کالج کے سرکار پرست لوگ مولانا سے دوستانہ رویّہ نہیں رکھتے تھے۔

بی اے کے سالِ آخر میں مولانا نے کالج میں ایک مشاعرہ بڑی دھوم دھام سے منعقد کیا تو جہاں اس مشاعرے کا لوگوں میں چرچا ہوا وہیں ایسے لوگ بھی تھے کہ جنہیں مولانا کی شُہرت پسند نہیں تھی ۔ ان لوگوں نے کالج کے پرنسپل سے مولانا کی شکایت کی کہ مشاعرے میں ایسے اشعار پڑھے گئے کہ جن سے طالبِ علموں کے اخلاق بگڑنے کا خدشہ ہے۔ پرنسپل نے آگ بگولہ ہو کر مولانا کو بُلایا اور ان کا موقف سُنے بغیر اُنہیں خوب ڈانٹا اور کالج سے نکالنے کا حکم سُنایا۔گو کہ پرنسپل کو سمجھانے والا کوئی نہیں تھا تاہم مولانا بھی کوئی عام طالبِ علم نہیں تھے اس لئے آخری فیصلہ یہ ہو ا کہ اُنہیں کالج سے تو نکال دیا جائے لیکن امتحان سے نہ روکا جائے۔ اس حکم کے بعد مولانا نے کالج کا ہوسٹل خالی کر دیا اور علی گڑھ شہر میں مکان کرائے پر لے کے رہنے لگے۔

امتحان دینے کے فوراً بعد ہی مولانا نے "اردوئے معلیٰ" کے نام سے ایک رسالے کا اجرا کیا اور اپنے لئے انگریز کی نوکری کے بجائے اخبار نویسی کے آزاد پیشے کا انتخاب کیا ۔ رسالہ نکلتا رہا اور مولانا آزادی کی تحریکوں میں شامل رہے ۔ جلد ہی مولانا اپنی ہمت، جذبے اور آزادی کی لگن کی وجہ سے مشہور ہو گئے۔ لوگ ان کی عزت کرتے تھے اور اُن کو پسند بھی کرتے تھے۔

اردوئے معلیٰ میں دیگر مضامین کے ساتھ ساتھ سیاسی مضامین بھی چھپتے جن میں زیادہ تر کے محرکات آزادی کی تحریک سے ہی میسر آتے۔ ایک دفعہ ایک مضمون "مصر میں انگریزوں کی پالیسی" بھی اردوئے معلیٰ میں شائع ہوا۔ یہ مضمون کافی تنقید ی نوعیت کا تھا سو انگریز سرکار نے مولانا کو عدالت میں طلب کیا اور مصنف کی بابت استفسار کیا ۔ تاہم مولانا نے کہا کہ یہ رسالہ میرا ہے سو مضمون بھی میرا ہے اور مصنف کا نام نہیں بتایا۔ انگریز سرکار نے اس مضمون کی اشاعت پر مولانا کو دو سال کی سزا اور پانچ سو روپے کا جرمانہ کیا۔ جرمانے میں ان کا کتب خانہ جس میں بڑی قیمتی کتابیں تھیں کوڑیوں کے مول نیلا م ہو گیا۔ جس کا مولانا کو بہت دُکھ ہوا۔ مگر چونکہ انگریز حاکموں کو اُن سے دشمنی تھی اس لئے کتب خانہ جان بوجھ کر نیلام کر دیا گیا۔

قید میں بھی مولانا کو سخت مشقت میں رکھا گیا ۔ اندھیری کوٹھری میں رہنا ، دوسرے قیدیوں کے ساتھ مل کر دن بھر چکی پیسنا۔ نہ اخبار نہ رسالہ، نہ لکھنے پڑھنے کی اجازت۔ بات بات پر دھمکیاں اور سختیاں۔ مولانا کی نظر کمزور تھی ۔ عینک لگاتے تھے مگر جیل میں عینک بھی چھین لی گئی۔ کھانا اتنا خراب کہ زبان پر نہ رکھا جائے۔

بہر کیف مولانا حسرت اصول پرست انسان تھے اُنہوں نے لاکھ سختیاں اُٹھائی لیکن اپنے موقف سے کبھی سرِ مو انحراف نہیں کیا۔

************

یہ مضمون ڈاکٹر اسلم فرخی کے کتابچے "مولانا حسرت موہانی" کے اقتباسات پر مبنی ہے۔

اشک ہو، آنکھیں بھگونا ہو تو پھر

غزل 

اشک ہو، آنکھیں بھگونا ہو تو پھر
آنکھ میں سپنا سلونا ہو تو پھر

کب تلک بخیہ گری کا شوق بھی
عمر بھر سینا پرونا ہو تو پھر

دوست! انٹرنیٹ پر؟ اچھا، چلو 
اور گلے جو لگ کےرونا ہو تو پھر

وہ مری دلجوئی کو حاضر مگر
اُس کا ہونا بھی نہ ہونا ہو تو پھر

اُس کو پانے کی طلب!پر سوچ لو
اُس کو پا نا ، اُس کوکھونا ہو تو پھر؟

نازُکی تو سیکھی اُس نے پھو ل سے
تتلیوں کا بوجھ ڈھونا ہو تو پھر؟

یوں جو خوش ہو اُس کو ہنستا دیکھ کر
اُس کا ہنسنا ،اُس کا رونا ہو تو پھر؟

یوں تو گجروں سے کلائی سج گئی
چاہ اُس کی چاندی سونا ہو تو پھر؟

لوگ کہتے ہیں کہ دُنیا گول ہے
مفلسی کونہ بہ کونہ ہو تو پھر

احمدؔ اپنے دل کو خوش کرنے چلے
اور غم دل کا کھلونا ہو تو پھر؟

محمد احمدؔ​

افسانہ : مفت ہوئے بدنام

مفت ہوئے بدنام
محمد احمد​


پہلی بار جب یہ بات میڈیا پر نشر ہوئی تو میں بھی دہل کر رہ گیا کہ اب نہ جانے کیا ہوگا ۔ مجھے تو یہ بھی خوف ہو گیا تھا کہ طفیل صاحب سارا معاملہ میرے ہی سر نہ تھوپ دیں ۔ اُن سے بعید بھی نہیں تھی بعد میں شاید وہ مجھ سے اکیلے میں معافی مانگ لیتے لیکن تب تک ہونی ہو چکی ہوتی۔

طفیل صاحب ٹیکنیکل بورڈ میں اسسٹنٹ کنٹرولر ایگزیمینیشن ہیں اور میری بد قسمتی دیکھیے کہ میں اُن کا بھی اسسٹنٹ ہوں۔ تین سال قبل جب میں اس پوسٹ پر تعینات ہو ا تو ان دنوں طفیل صاحب بھی اس عہدے پر نئے نئے ہی تھے۔ کچھ عرصہ کام سمجھنے میں لگا پھر اُس کے بھی کافی بعد یہ سمجھ آیا کہ اصل کام یہ نہیں ہے۔

مجھے نہیں معلوم کہ کنٹرولر صاحب کو یہ بات پتہ تھی یا نہیں لیکن میں اور طفیل صاحب یہ بات اچھی طرح جان گئے تھے کہ بہت کم بچے محنت کرکے پاس ہوتے ہیں۔ باقی بچے یا تو فیل ہو جاتے ہیں یا پھر اُن کا پاس ہونا دوسروں کی محنت کے مرہونِ منت ہوتا ہے۔ میں اور طفیل صاحب یہی محنت کرتے تھے بلکہ یوں کہیے کہ اس محنت میں طفیل صاحب کا کردار مستری اور میرا مزدور والا تھا۔اُجرت کا حساب بھی اسی طرح تھا یعنی مستری کم محنت کرکے زیادہ اُجرت لیتا تھا اور مزدور گدھے کی طرح محنت کرکے بھی مستری کی اُجرت کا ایک تہائی بھی نہیں سمیٹ پاتا تھا۔ بہرکیف بڑی مچھلیوں کے پیٹ بھی بڑے ہوتے ہیں اس لئے مجھے زیادہ شکایت نہیں تھی۔

یوں تو ہم مختلف 'پیکیجز آفر' کرتے تھے کہ جس میں امتحانی کمرے میں حل شدہ مواد بھجوانے سے لے کر امتحانی کاپی میں موجود سپلیوں کی رد و بدل تک شامل تھی تاہم چونکہ روشنی کا فائدہ بھی آنکھ والے ہی اُٹھا سکتے ہیں سو کچھ لوگوں کے حق میں حل شدہ پرچہ جات بھی بے کار جاتے تھے۔ اُن کے لئے اسپیشل پیکیج تھا اور وہی ہماری صنعت کی کیش کاؤ تھی۔ ہم اپنے "ماہرین" سے اپنی نگرانی میں پرچے حل کرواتے اور اپنے "کسٹمرز" کے پرچے کی جگہ ماہرین کی تیار کردہ کاپی لگا دیتے۔ یہ کام کرنے کی اجرت اتنی معقول تھی کہ اس اُجرت سے پلے توانا بدن کے لئے نحیف و نزار ضمیر سے لڑنا مشکل نہیں رہتا۔

مجھے تو یہ ضمیر نام کی چیز یاد بھی نہیں رہتی لیکن بیڑہ غرق ہو خلیق بھائی کا کہ وہ ہر ملاقات پر نہ جانے کون کون سی دلیلیں گھڑ کر لے آتے اور جس دن خلیق بھائی سے ملاقات ہوتی اُس رات نیند کی رانی کے نخرے بڑھ جاتے ۔ خلیق بھائی کا بیڑہ غرق ہونے کی بات میں اکثر کہا کرتا تھا بلکہ ایک آدھ بار تو میں نے اُن کے منہ پر بھی یہ بات کہدی ۔ اُن کے چہرے پر ایک رنگ سا آ کر گزر گیا لیکن پھر وہ مُسکرانے لگے اور میں دوسری طرف دیکھنے لگا۔ ویسے میں دلی طور پر مطمئن تھا کہ خلیق بھائی کا تو سمندری سفر سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے سو اُن کا بیڑہ کیا غرق ہونا ہے ہاں میرے دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے اس طرح۔ خلیق بھائی میرے دوست نہیں تھے لیکن دوستوں کی طرح ہی تھے۔ جس زمانے میں میں ناظم آباد میں رہا کرتا تھا یہ میرے فلیٹ کے اوپر والے فلیٹ میں رہتے تھے۔ اُن دنوں ایک دو بار اُن سے اتفاقی ملاقات ہو گئی تو ہم دونوں ساتھ اُٹھنے بیٹھنے لگے کہ میرا بھی اُس علاقے میں کوئی جان پہچان والا نہیں تھا اور وہ بھی تقریباً ایسے ہی تھے لیکن تب وہ اتنے سنجیدہ مزاج نہیں تھے ورنہ اُن سے ربط و ضبط شاید ہی استوار ہوتا۔ اب بھی ہم اچھے دنوں کی دوستی ہی نبھا رہے تھے ورنہ اب تو اکثر ہماری ملاقاتوں میں بدمزگی ہو جاتی ہے۔ خلیق بھائی ضرورت سے زیادہ اصول پسند واقع ہوئے ہیں اور میں اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنا چاہتا ہوں۔

جس طرح خلیق بھائی میری ذاتی معاملات میں دخل اندازی کرتے ہیں اُسی طرح وہ میری اس کہانی میں بھی گُھس آئے۔ بہرحال ہوا کچھ یوں کہ ایک دن، رات کے وقت طفیل صاحب کی کال آئی مجھے اُن کا نمبر دیکھ کر ہی پریشانی سی ہوئی کیونکہ دفتری اوقات کے بعد وہ مجھے انتہائی ضروری کام کے لئے ہی فون کرتے تھے۔

ذرا "اطلاع" تو لگاؤ ۔ طفیل صاحب نے بڑی عجلت اور گھبراہٹ میں بس اتنا کہا اور فون بند کردیا۔
"اطلاع" ایک نیوز چینل تھا جو سنسی خیز خبروں کے لئے مشہور تھا۔ اسے حسنِ اتفاق کہیے کہ اُس روز بجلی بھی موجود تھی۔ میں نے ٹی وی کھول کر مذکورہ چینل لگایا تو وہاں نیوز اینکر بڑی ہیجانی آواز میں کچھ کہہ رہا تھا اور ٹی وی اسکرین پر مارک شیٹ قسم کا کوئی ڈاکیومنٹ دکھایا جا رہا تھا جس میں ہائی لائیٹر سے مختلف سطور کو جگہ جگہ سے رنگین کیا ہوا تھا۔ وقفےوقفے سے مختلف دستاویزات دکھا کر نیوز اینکر پوری شد و مد سے رواں تبصرہ پیش کر ہا تھا۔ جیسے جیسے بات سمجھ آ رہی تھی میرا رنگ فق ہوتا جا رہا تھا۔ نیوز اینکر ایک ہی بات کو کم از کم پچیس تیس بار دہرا رہا تھا ۔

"یہ ڈاکیومنٹ ان تک کیسے پہنچے ؟" میں نے خود کلامی کی کیفیت میں خود سے ہی سوال جواب شروع کر دیے۔ ٹی وی پر دکھائے جانے والے کچھ ڈاکیومنٹ واقعی اس بات کا ثبوت تھےکہ بڑے پیمانے پر گڑبڑ ہوئی ہے لیکن بہت سے بے ضرر ڈاکیومنٹس بھی اس طرح لال پیلے کرکے دکھائے جا رہے تھے کہ جیسے وہ چارج شیٹ کا اہم ترین حصہ ہو۔

چار چھ منٹ اس خبر کے چھ آٹھ فقروں کو یکے بعد دیگرے دہرانے کے بعد نیوز اینکر نے وعید سُنائی کہ دس بجے کے بلیٹن میں اس سلسلے میں خصوصی رپورٹ پیش کی جائے گی اس کے بعد دوسری خبریں شروع ہو گئیں۔ میں اس اچانک آنے والی اُفتاد سے پریشان تھا کہ یہ سب اس قدر اچانک کس طرح سے ہو گیا اور اتنے اہم دستاویزات نیوز چینل کے ہاتھ کیسے لگ گئے۔ اسی اُدھیڑ بُن میں مجھے خیال آیا کہ طفیل صاحب سے بات کی جائے۔ لیکن طفیل صاحب کا نمبر مستقل مصروف مل رہا تھا۔ میں اندازہ کر سکتا تھا کہ اُن کا نمبر اس وقت کیوں مصروف ہے۔

صدمے اور خوف کی ملی جلی کیفیات لئے میں آگے کے خدشات کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ نہ جانے اس سب معاملے کا کیا نتیجہ نکلے ۔ لیکن فی الحال کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا تھا۔ انہی سوچوں میں دس بھی بج گئے۔ نیوز چینل والوں نے وہی خبر کچھ بہتر انداز میں رپورٹ کی شکل میں پیش کر دی۔ رپورٹ میں کوئی نئی بات نہیں تھی۔

اگلے چار چھ دن بہت پریشانی میں گزرے۔ دوسرے دن ہی میں طفیل صاحب کے ساتھ کنٹرولر ایگزیمنیشن کے روم میں بیٹھا ہوا تھا یہ وہی روم تھا جہاں کبھی سالوں برسوں میں ایک آدھ منٹ کے لئے جانا ہوتا تھا۔ کنٹرولر صاحب کا کمرہ تجدیدِ آرائش کے باعث جگمگا رہا تھا لیکن میرا ذہن اس قابل نہیں تھا کہ نئی آرائش کو سراہ سکوں۔ کم بولنے والے کنٹرولر صاحب اس ملاقات میں سب سے زیادہ بول رہے تھے یہ البتہ شکر ہے کہ اُن کا روئے سُخن میرے بجائے طفیل صاحب کی طرف تھا۔ طفیل صاحب اپنی کچھ باتوں کی تائید کے لئے گاہے گاہے مجھ سے بھی مخاطب ہو رہے تھے اور میں ذہن پر زور دیے بغیر طفیل صاحب کی تائید میں ہی بہتری سمجھ رہا تھا۔ پھر یہ میٹنگز صبح شام ہوئیں اور نہ جانے کون کون سے افسران کنٹرولر صاحب سے ملاقات کے لئے آ تے رہے۔ یہ البتہ شکر ہے کہ پہلی بار کے بعد مجھے ان میٹنگز میں نہیں بُلایا گیا۔

چھٹے دن اُسی ٹی وی چینل سے اطلاع ملی کہ ٹیکنیکل بورڈ کی انتظامیہ نے اس معاملے کی مکمل تحقیق تک محکمے کے دو افراد کو معطل کر دیا ہے ۔ چشمِ تخیل کے زور پر میں دیکھ سکتا تھا کہ ان دو افراد کے سانچوں میں سے پھنسا ہوا ایک سر میرا ہی تھا اور تنگ سانچے سے بامشکل گردن گھما کر دیکھنے پر دوسرے سانچے میں طفیل صاحب کی گردن بھی نظر آ رہی تھی۔ میرے چہرہ فق ہو گیا تھا اور میں صدمے کی کیفیت میں اُس دن کو کوس رہا تھا جب میں نے طفیل صاحب کے ساتھ مل کر اس کام کا آغاز کیا تھا۔

سوچتے سوچتے مجھے خیال آیا کہ اگر مجھے معطل کیا گیا ہے تو مجھ تک اطلاع کیوں نہیں پہنچی ابھی تک۔
" شاید کل تک سسپنشن لیٹر کل تک مل جائے" میں نے سوچا ۔

آج بھی طفیل صاحب کا نمبر مستقل مصروف مل رہا تھا ۔ چار چھ دفعہ کوشش کرکے میں نے فون ایک طرف پٹخ دیا۔

ٹی وی پر کرکٹ میچ میں کامیابی پر ماہرین کھلاڑیوں کوقومی ہیرو قرار دے رہے تھے ۔ یہ وہی ہیروز تھے کہ پچھلی سیریز میں شکست کے بعد ماہرین کا خیال تھا کہ ان کی تو ٹیم میں جگہ ہی نہیں بنتی۔ پھر اچا نک ٹی وی اسکرین سُرخ ہو گئی اور بریکنگ نیوز کی وعید سُنائی جا رہی تھی۔
"ٹیکنیکل بورڈ واقعے کے ذمہ داران کی معطلی کے خط کی نقل "اطلاع" کو موصول ہو گئی ہے" نیوز اینکر گلا پھاڑ پھاڑ کر یہ بات دُہرائے جا رہا تھا ۔ اور اسکرین پر جھماکوں کے درمیان دھندلا دھندلا اسکین ہوا خط دکھایا جا رہا تھا۔
میری آنکھیں پلکیں جھپکنا بھول گئی تھیں اور میں بے جا اینی میشن میں لپٹی بریکنگ نیوز کے چوکھٹے میں اپنا نام پڑھنے کی کوشش کر نے لگا۔ کافی کوشش کے باوجود وہ نام تو مجھ سے نہیں پڑھے گئے لیکن اتنا اندازہ ضرور ہو گیا کہ ان دونوں ناموں میں میرا نام کہیں نہیں تھا بلکہ طفیل صاحب کا بھی کہیں ذکر نہیں تھا۔ خوشی کے ساتھ ساتھ مجھے حیرت بھی ہو رہی تھی۔ عارضی ہی سہی دل کو کچھ قرار آ ہی گیا تھا۔ طفیل صاحب سے آج بھی بات نہیں ہو سکی ۔ میں نے بھی زیادہ کوشش نہیں کی۔ اگلے دن پتہ چل ہی جانا تھا کہ کیا معاملہ ہے۔

ابھی میں اس کیفیت سے باہر نہیں آیا تھا کہ دروازے کی گھنٹی بجنے کی آواز آئی اور چند ہی لمحوں کے بعد بچوں نے بتایا کہ خلیق انکل آئے ہیں۔ میری خوشی ایک دم ہی جیسے ہرن ہو گئی ۔ میں ان دنوں خلیق بھائی سے نہیں ملنا چاہ رہا تھا ۔ دو دن پہلے میں اُن کے محلے میں گیا بھی تو اُن سے نہیں ملا بلکہ آج صبح اُن کی فون کال بھی میں نے جانتے بوجھتے موصول نہیں کی۔

لیکن شاید یہی تو وقت تھا کہ جب خلیق بھائی مجھ سے ملنے کو بے چین ہوں گے تاکہ وہ مجھے بتا سکیں کہ وہ ٹھیک تھے اور میں غلط تھا۔ وہ مجھے سمجھاتے تھے اور میں مانتا نہیں تھا۔ شاید وہ مجھے یہی جتانے آئے ہوں کہ میری بات نہیں مانی تو اب بھگتو۔ مجھے اُس لمحے پر ایک بار پھر افسوس ہوا جب پہلی بار میں نے اُن کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا۔

چونکہ بچے بتا چکے تھے کہ میں گھر پر موجود ہوں سو اب اُن سے نہ ملنا انتہائی بے مروتی کی بات ہوتی ۔ سو برسوں پرانی دوستی کا پاس ایک بار پھر مجھے مجبور کر گیا اور میں چار و ناچار ڈرائنگ روم میں پہنچا۔

خلیق بھائی مجھے دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔
"ارے بھائی کہاں غائب ہو؟ فون بھی ریسیو نہیں کر رہے؟" وہ مسکراتے ہوئے بولے۔
"کہیں نہیں! آپ کی مس کال بعد میں دیکھی" میں نے کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے جھوٹ بولا اور مسکرانے کی کوشش بھی کی۔
خیر خیریت کے بعد خلیق بھائی نے اِ دھر اُدھر کی باتیں شروع کر دیں۔
میں اسی اُدھیڑ بُن میں تھا کہ نہ جانے کب وہ اپنا پینترا بدلیں اور اگلے پچھلے تمام بدلے نکالنا شروع کر دیں۔
لیکن توقع کے برخلاف وہ کافی اچھے موڈ میں نظر آ رہے تھے ۔
"آج تو اپنے کھلاڑیوں نے کمال ہی کردیا ۔ خوب اچھی کارکردگی دکھائی ۔ حد تو یہ ہے کہ اوپنرز نے بھی کافی اچھا کھیلا۔" خلیق بھائی مسکراتے ہوئے کہہ رہے تھے ۔
"خوشی ہوئی کہ کوئی نہ کوئی تو ملک کا نام روشن کر رہا ہے۔"
آج وہ الگ ہی جون میں نظر آ رہے تھے ورنہ کرکٹ سے ان کی دلچسپی واجبی سی ہی تھی۔
"تو کیا آج کل آپ بھی ٹی وی دیکھ رہے ہیں؟" میں نے ایک اچانک خیال آنے پر پوچھا۔
"نہیں ! نہیں تو! " خلیق بھائی نہ جانے کیوں گڑ بڑا سے گئے۔ "بس کرکٹ کی اپڈیٹس دیکھی تھی"۔ مسکرا وہ اب بھی رہے تھے لیکن اب کی بار مسکراہٹ کافی پھیکی ہو چلی تھی۔
خلیق بھائی باقی سب چیزوں کی طرح ٹی وی میں بھی کیڑے نکالنے کے پرانے عادی تھے، اُنہیں ہر پروگرام میں کوئی نہ کوئی قابلِ اعتراض نکتہ مل ہی جاتا ۔ سو اُنہوں نے ٹی وی دیکھنا ہی تقریباً ختم کر دیا تھا۔
"یار کافی پلواؤ ! اچھی سی" خلیق بھائی نے ایک دم ہی فرمائش کردی حالانکہ ابھی چائے کے کپ بھی میز پر ہی رکھے تھے۔ لیکن چونکہ وہ شاذ ہی کبھی کوئی فرمائش کرتے تھے سو میں کافی کا کہنے اندر چلا گیا۔
کافی کا کہہ کر میں واپس آیا تو خلیق بھائی اپنے بیگ میں کچھ ٹٹول رہے تھے۔ پھر اُنہوں نے ایک کتاب میری طرف بڑھائی۔
"بہت عرصے بعد مشتاق احمد یوسفی کی نئی کتاب آئی ہے۔ ہمت کرکے لے ہی لی میں نے ۔ " اُنہوں نے مسکرا کر کہا۔
مشتاق احمد یوسفی کو میں بھی شوق سے پڑھتا تھا اور یہ بات خلیق بھائی اچھی طرح جانتے تھے۔
"آپ نے پڑھ لی؟" میں نے کتاب کو اُلٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے پوچھا۔

"ہاں میں نے کافی پڑھ لی ہے لیکن آج کل زیادہ وقت نہیں مل رہا سو تمھارے پاس لے آیا۔ "
کچھ دیر بعد وہ اس کتاب میں سے اپنی پسندیدہ حصے پڑھ کر سنانے لگے ۔ کافی ، مشتاق احمد یوسفی اور خلیق بھائی کی خوش مزاجی تینوں چیزوں نے مل کر ایسا خوشگوار ماحول بنا دیا کہ میں اپنی تمام تر فکر اور شرمندگی بھول گیا۔
اُس رات خلیق بھائی ساڑھے بارہ بجے تک بیٹھے رہے اور جاتے ہوئے یوسفی صاحب کی کتاب چھوڑ گئے۔
میں تقریباً دو بجے تک کتاب ادھر اُدھر سے پڑھتا رہا اور پھر سو گیا۔ آج تقریباً ایک ہفتے کے بعد مجھے ایسی پرسکون نیند آئی تھی۔

دوسرے دن دفتر پہنچنے پر پتہ چلا کہ جن دو لوگوں کو معطّل کیا گیا ہے وہ ہمارے ہی ڈپارٹمنٹ میں تھے لیکن صرف تنخواہ وغیرہ لینے آتے تھے اور اُن کی نوکری تعلقات اور کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر چل رہی تھی۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ ہمارے ہاں ایسے لوگ بھی ہیں اور اِس حساب سے دیکھا جائے تو ہم تو ان سے لاکھ درجے بہتر ہیں۔ کم از کم محنت تو کرتے ہیں اور اپنی تنخواہ حرام تو نہیں کرتے۔

دو چار دن مزید افرا تفری رہی لیکن پھر آہستہ آہستہ دفتر کے معاملات معمول پر آگئے۔ میں بھی کافی 'ریلیکس' ہو گیا۔ خلیق بھائی دو چار دن بعد چلے آتے اور بہت اچھا وقت گزرتا۔ پھر شاید اُن کی مصروفیات بڑھ گئیں تو ملاقاتوں کا درمیانی وقفہ بڑھ گیا۔

اسی طرح کرتے کرتے چھ آٹھ ماہ بیت گئے۔ ایک دن طفیل صاحب چھٹی کے بعد میرے پاس آئے اور کہنے لگے
"بھئی عاطف میاں اب کمر کس لو کام شروع ہونے والا ہے۔ " وہ مسکرا تے ہوئے میری میز کے سامنے رکھی کُرسی پر بیٹھ گئے۔
"کون سا کام؟" میں نے اُن کی طرف حیرت سے دیکھا ۔
"ارے بھئی اپنا کام ، اور کونسا کام۔ اس بار کافی زیادہ 'کسٹمرز' آ رہے ہیں بس اب تم تیار ہو جاؤ۔" وہ بدستور مسکرا رہے تھے۔
"نہ جانے میڈیا والوں نے کس نیت سے یہ سب کیا لیکن اس سب کاروائی سے یہ ہوا کہ ہماری مارکیٹنگ اچھی ہوگئی ۔ ورنہ تو بے چارے لوگ ڈر ڈر کر پوچھتے پھاچھتے بڑی مشکل سے ہم تک پہنچتے تھے"۔ اُن کی مسکراہٹ گہری ہو چلی تھی۔
طفیل صاحب کی بات کچھ کچھ میری سمجھ آ رہی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ اب کی بار کچھ اس ترتیب و انتظام سے کام کیا جائے کہ بعد میں 'مشکل' نہ ہو۔ آخر کو یہ ایک اہم کام تھا اور اس سے بچوں کا مستقبل وابستہ تھا۔قریب قریب طفیل صاحب جیسی مسکراہٹ میرے ہونٹوں پر بھی آ چلی تھی۔


******

رعنائی خیال پر پہلی نثری نظم



شعر و ادب  کی  دیگر نو دریافت  اصناف کی طرح نثری نظم  بھی اب کافی مشہور ہو گئی ہے۔ مقبول اس لئے نہیں کہوں گا کہ شعراء اور اساتذہ کی ایک کثیر تعداد اسے شاعری تسلیم ہی نہیں کرتی۔  میرا خیال ہے کہ یہ بات   ٹھیک  ہی  کہ جس شاعری میں آہنگ نہ ہو، نغمگی نہ ہو اُسے شاعری کیوں کر کہا جائے۔  معنوی اعتبار سے بہت سی  نثری نظمیں بہت اعلیٰ بھی ہوتی ہیں لیکن پھر وہی بات ہے کہ  ہوتی تو وہ "نثری" نظم  ہی ہیں۔  سو بھلا وہ کیسی نظم ہے کہ جسے اپنے  نظم ہونے کے لئے "نثری" کے سابقے کی احتیاج ہے۔ 

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ  اگر کسی نثری نظم کے تمام تر "قاطعِ سطور"  یعنی لائن بریکس ختم کر دیئے جائیں تو یہ کیسے پتہ چلے گا کہ یہ نثر ہے نثری نظم ۔ کیونکہ پابند نظم کو تو بحر کے اُتار چڑھاؤ کی مدد سے ٹکڑوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے لیکن نثری نظم میں یہ بات مکمل طور پر 'شاعر' کی صوابدید پر ہی منحصر ہوتی ہے۔ 

بہر کیف یہ تو  ادبی حلقوں کی  دیرینہ بحث ہے اور آئندہ بھی نثری نظم  کے حامیوں اور مخالفین کے باہم دست و گریباں رہنے کے امکانات روشن ہیں۔   سو اس بحث سے قطع نظر  آج پہلی بار  بلاگ پر ایک نثری نظم قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی نذر کر رہا ہوں ۔ یہ نظم ہندوستان سے شائع ہونے والے ادبی جریدے "شب خون"  کے ایک پرانے شمارے سے لی گئی ہے اور لائقِ صد ستائش ہے۔ 

دشمن
نثری نظم

گواہوں کے بیانات سے 
ثابت ہو چکا ہے 
کہ  ملزم مذہبی کتابیں پڑھتا ہے
اور خدا پر اعتقاد رکھتا ہے
مائی لارڈ ! 
عام آدمی کی طرح نظر آنے والا
یہ شخص 
ایک عادی مجرم ہے
ایمانداری کے کئی معاملوں میں 
رنگے ہاتھوں پکڑا جا چکا ہے
کئی بار 
سچ  بولنے کی  سزا بھی پا چکا ہے
دراصل یہ ایک خطرناک مجرم ہے
جسے چسکا لگ گیا ہے
شریف اور باعزت لوگوں کی 
مخالفت کرنے 
اور حق کے لئے لڑنے کا

صادق

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک