بے دِلی کیا یونہی دن گزر جائیں گے ۔ جون ایلیا

غزل

بے دِلی کیا یونہی دن گزر جائیں گے
صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے

رقص ہے رنگ پر رنگ ہم رقص ہیں
سب بچھڑ جائیں گے سب بکھر جائیں گے

یہ خراباتیانِ خردِ باختہ
صبح ہوتے ہی سب کام پر جائیں گے

کتنی دلکش ہو تم کتنا دل جُو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

ہے غنیمت کہ اسرار ہستی سے ہم
بے خبر آئے ہیں بے خبر جائیں گے

جونؔ ایلیا

2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

نیرنگ خیال کہا...

واہ۔۔۔ لاجواب۔۔۔ اعلیٰ انتخاب۔۔۔ سوچ رہا ہوں چرا لوں۔۔۔

erum کہا...

جون ایلییا کی شاعری سب سے جدا تھی بہت اچھی معلومات آپ نے شئیر کی ہے آپ کا انتخاب بے حد عمدہ ہے جون ایلیا کی آفیشل سائیٹ بھی آچکی ہے جس پر انکی تمام کتب اور شاعری موجود ہے انکی سائیٹ کا ایڈریس یہ ہے
jaunelia.com
یہاں بھی کافی نئی اور اچھی شاعری پڑھنے کو مل جاتی ہے ............

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک