کچھ خانماں برباد تو سائے میں کھڑے ہیں ۔ رسا چغتائی

غزل

کچھ خانماں برباد تو سائے میں کھڑے ہیں
اس دور کے انساں سے تو یہ پیڑ بھلے ہیں

چیونٹی کی طرح رینگتے لمحوں کو نہ دیکھو
اے ہمسفرو! رات ہے اور کوس کڑے ہیں

پتھر ہیں تو رستےسے ہٹا کیوں نہیں دیتے
رہرو ہیں تو کیوں صورتِ دیوار کھڑے ہیں

میں، ہیچ سخن، ہیچ مداں، ہیچ عبارت
کہتا یوں تو کہتے ہیں کہ الفاظ بڑے ہیں

تاریخ بتائے گی کہ ہم اہلِ قلم ہی
آزادئ انساں کے لیے جنگ لڑے ہیں

رسا چغتائی

2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

نیرنگ خیال کہا...

واہ۔ کیا ہی عمدہ اور برمحل انتخاب ہے۔ شاندار

Muhammad Ahmed کہا...

بہت شکریہ نیرنگ خیال بھائی ۔۔۔۔!

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک