دوکان رمضان ۔ تضمین از محمد احمدؔ

دوکان رمضان
(تضمین)

تحائف شو میں رمضاں کے، بلا تمہید ہی برسے
بڑھا کر ہاتھ جھپٹو، مانگ لو کچھ التجا کرکے

لیاقت کا تو کوئی کام ہی کیا شو میں عامر کے
کوئز شو ہے مگر تحفہ ملے گا رقص بھی کرکے

یہ دل میں ٹھان لو کہ لے مریں گے اک نہ اک بائک
فہد کے شو سے مل جائے، بھلے جمشید کے در سے

تلوکا ایک ڈبہ کار تک لے جا بھی سکتا ہے
اگر مکھن نہیں تو گھی لگاؤ خوب بھر بھر کے

اگر بائک نہیں تو ایک دو کُرتے ہی مل جائیں
ذرا دستِ سوال اونچا اُٹھاؤ ، دستِ بر تر سے

تقاضہ وقت کا سمجھو کہ عزت آنی جانی ہے
بچا کر عزتِ نفس اب کوئی کیوں ہر گھڑی ترسے

تجارت کی زکواۃ اب دے رہے ہیں تاجر و زرگر
رکھو پاؤں میں اینکر کے ،اُتارو پگڑیاں سر سے

میں کُڑھتا ہوں کہ میرے لوگ ایسے ہو گئے کیونکر
"حمیّت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے"

محمد احمدؔ

4 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

sarwataj کہا...

بہت خوب

Muhammad Ahmed کہا...

بہت شکریہ sarwataj صاحب

shakir iqbal کہا...

Bohoot. Khoob

Muhammad Ahmed کہا...

بہت شکریہ شاکر بھیا۔ :)

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک