ہم صحرا ہیں اور جل تھل ہیں، ہیں دریا اور پایاب ہیں ہم


غزل
خاکسار کی ایک طرحی غزل

ہم اپنی حقیقت کس سے کہیں، ہیں پیاسے کہ سیراب ہیں ہم
ہم صحرا ہیں اور جل تھل ہیں، ہیں دریا اور پایاب ہیں ہم

اب غم کوئی، نہ سرشاری، بس چلنے کی ہے تیاری
اب دھوپ ہے پھیلی آنگن میں، اور کچی نیند کے خواب ہیں ہم

ہاں شمعِ تمنّا بجھ بھی گئی، اب دل تِیرہ، تاریک بہت
اب حدّتِ غم، نہ جوشِ جنوں، اے دشتِ طلب! برفاب ہیں ہم

یہ تنہائی، یہ خاموشی، تارا بھی نہیں اِس شام کوئی
کچھ داغ سمیٹے سینے میں، تنہا تنہا مہتاب ہیں ہم

ہم جس میں ڈوب کے اُبھرے ہیں، وہ دریا کیسا دریا تھا؟
یہ کیسا اُفق ہے جس کی اتھاہ گہرائی میں غرقاب ہیں ہم

ہم مثلِ شرر ہیں ، جگنو ہیں، ہم تِیرہ شب کے آنسو ہیں
ہم نجمِ سحر، ہم رشکِ قمر، ہاں ہر صورت شب تاب ہیں ہم

اک حزن و ملال کا سیلِ بلا، سب خواب بہا کر لے بھی گیا
پھر پھول کھلے من آنگن میں، پھر دیکھ ہمیں شاداب ہیں ہم

لاکھوں ہم جیسے ملتے ہیں،  نایاب نہیں ہیں ہم احمدؔ
ہاں اُن کے لئے، جو دل سے ملے، وہ جانتے ہیں، کمیاب ہیں ہم

محمد احمدؔ

6 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

گمنام کہا...

از احمر

لیکن کیا "سے کہیں، ہیں" اور "ہیں، ہیں" کی تکرار "عیب تنافر" نہیں؟

"دل تِیرہ، تاریک" کیا تیرہ اور تاریک ہم معنی نہیں ؟ جب "دل تیرہ" کہ دیا تو "دل تیرہ، تاریک بہت" کہنے کے کیا معنی کہ دونوں ہم معنی ہیں-


یہ اعتراض نہیں سوالات ہیں، اس کے علاوہ سب کچھ بہترین ہے-

نیرنگ خیال کہا...

ہاں شمعِ تمنّا بجھ بھی گئی، اب دل تِیرہ، تاریک بہت
اب حدّتِ غم، نہ جوشِ جنوں، اے دشتِ طلب! برفاب ہیں ہم

ہم مثلِ شرر ہیں ، جگنو ہیں، ہم تِیرہ شب کے آنسو ہیں
ہم نجمِ سحر، ہم رشکِ قمر، ہاں ہر صورت شب تاب ہیں ہم

بہت اعلی احمد بھائی۔ بہت سی داد قبول کریں۔

Huma Anwar کہا...

ہم مثلِ شرر ہیں ، جگنو ہیں، ہم تِیرہ شب کے آنسو ہیں
ہم نجمِ سحر، ہم رشکِ قمر، ہاں ہر صورت شب تاب ہیں ہم
- wahh

sarwataj کہا...

خوبصورت کلام

Muhammad Ahmed کہا...

احمر صاحب ، توجہ اور تبصرے کے لئے ممنون ہوں۔

تنافر دراصل صوتی اعتبار سے دیکھا جاتا ہے۔ یعنی کہ دو ایک سے حرف اس طرح سے مصرعے میں آنا کہ اُنہیں ملا کر پڑھنے سے کراہت کا تاثر ملے۔

غالب کا ایک شعر دیکھیے:

کوئی میرے دل سے پوچھے، ترے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی ، جو جگر کے پاس ہوتا

اس شعر میں "جو جگر" کے جو دو الفاظ ہیں اُن میں ضرورتِ شعری کے تحت واؤ نہیں پڑھا جائے گا اور پڑھنے میں "ججگر" آئے گا۔ حروف کا اس طرح اکھٹا ہو جانا کہ پڑھنے میں برا لگے تنافر لفظی یا تنافرِ صوتی کہلاتا ہے۔

چونکہ اس غزل کے اکثر مصرعے بشمول اس مصرعے کے کہ جس کی بابت آپ نے استفسار کیا ہے دو حصوں میں تقسیم ہیں سو تنافرِ صوتی کا احتمال یہاں نہیں ہے۔

تنافرِ صوتی کے بارے میں مزید معلومات کے لئے یہ صفحہ بھی دیکھ سکتے ہیں آپ۔

http://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81-%D8%AA%D9%88-%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D9%84%DB%8C%DA%A9%D9%86-%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%9F.53601/

رہی بات آپ کے دوسرے سوال کی تو اکثر اوقات بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے ایک ہی معنی کے ایک سے زیادہ الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ جیسے بچوں کی کہانیوں میں ہوتا ہےکہ جن کالا سیاہ تھا۔ اب بات تو کالا کہہ کر بھی ہوجاتی لیکن قاری کے ذہن میں کالے جن کی قریب ترین تصویر کاری کے لئے "کالا سیاہ" کی اصطلاح استعمال کی گئی ۔ اسی طرح آپ نے میٹھا شہد، کڑوا زہر اور اسی قسم کے مرکبات سُن اور پڑھ رکھے ہوں گے۔

ارشد صدیقی کا یہ شعر دیکھیے:

فضا ہے تیرہ و تاریک اور اس کا خیال
نہ جانے کون سی دنیا میں جا کے سویا ہے

محسن نقوی کا یہ شعر:

اب یہ ہے کہ دنیا ہے مِری تیرہ و تاریک
سایہ غمِ دوراں کا محیطِ دل و جاں ہے

اور بھی بہت سی مثالیں آپ کو مل جائیں گی۔

شکرگزار ہوں آپ کی توجہ اور تبصرے کے لئے۔

Muhammad Ahmed کہا...

نیرنگ خیال، ہما انور اور Sarwataj، بہت شکریہ آپ سب کی پسند آوری کا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک