ناخداؤ! تمھیں خدا پوچھے​

غزل​

ڈوبتی ناؤ تم سے کیا پوچھے
ناخداؤ! تمھیں خدا پوچھے​

کس کے ہاتھوں میں کھیلتے ہو تم
اب کھلونوں سے کوئی کیا پوچھے​

ہم ہیں اس قافلے میں قسمت سے
رہزنوں سے جو راستہ پوچھے​

!ہے کہاں کنجِ گل ، چمن خورو
کیا بتاؤں اگر صبا پوچھے​

اٹھ گئی بزم سے یہ رسم بھی کیا
ایک چپ ہو تو دوسرا پوچھے ​

لیا قت علی عاصم​

0 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک