دلِ سوختہ کبھی بول بھی

کبھی بول بھی (نظم)

دلِ سوختہ
کبھی بول بھی
جو اسیر کہتے تھے خود کو تیری اداؤں کے وہ کہاں گئے
جو سفیر تھے تیر ی چاہتوں کی فضاؤں کے وہ کہاں گئے
وہ جو مُبتلائے سفر تھے تیرے خیال میں
وہ جو دعویدار تھے عمر بھی کی وفاؤں کے وہ کہاں گئے
کبھی کوئی راز تو کھول بھی
کبھی بول بھی

دلِ نا خدا
کبھی بول بھی
جو تیرے سفینۂ دار و غم کے سوار تھے
جو تیرے وظیفہء چشمِ نم پہ نثار تھے
وہ جو ساحلوں پہ اُ تر گئے تو پھر اُس کے بعد پلٹ کے آئے کبھی نہیں
تیری لہر لہر پہ جن کے نقش و نگار تھے
کسی دن ترازوئے وقت پر
اُنہیں تول بھی
کبھی بول بھی

وہ جو تیرے نغمۂ زیرو بم کے امین تھے
جو ترے طفیل بلندیوں کے مکین تھے
و ہ جو معترف تھے تری نگاہِ نیاز کے
تمھیں جن پہ سو سو یقین تھے
وہ چکا گئے ترا مول بھی
کبھی بول بھی
کبھی بول بھی، دلِ سوختہ، دلِ نا خدا، دلِ بے نوا، کبھی بول بھی

فرحت عباس شاہ

سچ کہا اے صبا! صحنِ گل زار میں دل نہیں لگ رہا

 لیاقت علی عاصم کی خوبصورت غزل

******جا و ید  صبا کی نذر******


سچ کہا اے صبا! صحنِ گل زار میں دل نہیں لگ رہا
سایہٴ سبز میں صحبتِ یار میں دل نہیں لگ رہا

رُوپ کیا شہر کا، شکل کیا گاؤں کی، دھوپ اورچھاؤں کی
ایک تکرار ہے اور تکرار میں دل نہیں لگ  رہا

وہ بدن اب کہاں، پیرَھن اب کہاں، بانکپن اب کہا ں
سب بیاباں  ہُوا، تیرے  بازار میں دل نہیں لگ رہا

میرے  تو رنگ ہی اُڑ گئے جب کہا ایک تصو یر نے
اب مجھے پھینک دو، میرا دیوار میں دل نہیں لگ رہا

صر صرِ وقت آئے  بکھیرے مجھے چار اطراف میں
اب عناصر کے اس ٹھوس انبار میں دل نہیں لگ رہا

اے پرندو  چلو، اے درختو چلو، اے  ہواؤ چلو
گرد  ہی گرد  ہے، کوچہ ٴ یار میں  دل نہیں لگ رہا

کیا کتابیں مری، کیا مری شاعری، رائیگا ں رائیگاں
میر و سودا و غالب کے اشعار میں دل نہیں لگ رہا

بشکریہ : محترم سید انور جاوید ہاشمی

زخم کا اندِمال ہوتے ہوئے​

غزل​
زخم کا اندِمال ہوتے ہوئے​
میں نے دیکھا کمال ہوتے ہوئے​
ہجر کی دھوپ کیوں نہیں ڈھلتی​
جشنِ شامِ وصال ہوتے ہوئے​
دے گئی مستقل خلش دل کو​
آرزو پائمال ہوتے ہوئے​
لوگ جیتے ہیں جینا چاہتے ہیں​
زندگانی وبال ہوتے ہوئے​
کس قدر اختلاف کرتا ہے​
وہ مرا ہم خیال ہوتے ہوئے​
پئے الزام آ رُکیں مجھ پر​
ساری آنکھیں سوال ہوتے ہوئے​
آج بھی لوگ عشق کرتے ہیں​
سامنے کی مثال ہوتے ہوئے​
خود سے ہنس کر نہ مل سکے احمدؔ​
خوش سخن، خوش خصال ہوتے ہوئے​
محمد احمدؔ​

FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک