مِٹ گیا خواب آنکھ ملتے ہی - منیر نیازی

غزل 

آگئی یاد شام ڈھلتے ہی
بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی

کُھل گئے شہرِ غم کے دروازے
اک ذرا سی ہوا کے چلتے ہی

کون تھا تُو کہ پھر نہ دیکھا تُجھے
مِٹ گیا خواب آنکھ ملتے ہی

خوف آتا ہے اپنے ہی گھر سے
ماہِ شب تاب کے نکلتے ہی

تُو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے
عکسِ دیوار کے بدلتے ہی

خون سا لگ گیا ہے ہاتھوں میں
چڑھ گیا زہر گل مسلتے ہی

منیر نیازی

ماہِ منیر سے انتخاب

2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

نیرنگ خیال کہا...

واہ۔۔۔ عمدہ انتخاب۔۔۔ چرا رہا ہوں اس کو۔۔۔۔ :)

Muhammad Ahmed کہا...

شکریہ @نیرنگ خیال

یہ آپ کے لئے ہی تو پوسٹ کیا ہے۔ :)

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک