میں کسی طور سُخن سازِ مثالی نہ بنا ۔ محسن احسان

غزل


میں کسی طور سُخن سازِ مثالی نہ بنا
میرؔ و غالبؔ تو کُجا مومنؔ و  حالیؔ نہ بنا

آسمانوں کے مکیں میری زمینوں کو سجا
عرشِ بے مایہ پر فردوسِ خیالی نہ بنا

پُر ہوا جام سے کچھ پہلے مرا کاسہ ٔ عمر
اے خدا شُکر ہے میں ترا سوالی نہ بنا

سیلِ گریہ سے نہ رُک پائے گا خاشاکِ مژہ
بند مضبوط ہوں دریاؤں پہ جالی نہ بنا

محسن احسان ہے درویش طبیعت انساں
اُس کا در ، در ہی سمجھ، درگہہِ  عالی نہ بنا

محسن  احسان

1 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

گمنام کہا...

بہت ہی خوب غزل ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک