تیز رَو ہے زندگی ، رفتار آہستہ کرو

غزل

ذہن و دل کو رُوح سے کچھ دیر وابستہ کرو
تیز رَو ہے زندگی ، رفتار آہستہ کرو

سامنے ہوگی جواباً خود گلابوں کی ہنسی
غم کے لہجے کو ذرا کچھ اور شائستہ کرو

مانگتی ہے زندگی باہوش رہنے کا ثبوت
گاہ چونکو، گاہ لغزش کوئی دانستہ کرو

قول و اقرارِ محبت کا کہاں اب وقت ہے
کتنے ہنگامے کھڑے ہیں بات آہستہ کرو

رقص و عکس و رنگ ہو، کوئی تماشا تو بنے
آئینے کو پھر کسی اِک رُخ سے وابستہ کرو

ذکاءالدین شایاں


0 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک