وا میرے وطن ۔۔۔ ترجمہ ۔۔۔۔ از فیض احمد فیض

وا  میرے وطن 

ترجمہ از فیض احمد فیض


او میرے وطن! او میرے وطن! او میرے وطن!
مرے سر پر وہ ٹوپی نہ رہی 
جو تیرے دیس سے لایا تھا
پاؤں میں وہ اب جوتے بھی نہیں
واقف تھے جو تری راہوں سے
مرا آخری کُرتا چاک ہُوا 
ترے شہر میں جو سلوایا تھا
اب تیری جھلک 
بس اُڑتی ہوئی رنگت ہے میرے بالوں کی
یا جُھریّاں مرے ماتھے پر 
یا میرا ٹوٹا ہُوا دل ہے 
وا میرے وطن ! وا میرے وطن ! وا میرے وطن

شامِ شہرِ یاراں سے انتخاب

2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

نیرنگ خیال کہا...

یا جُھریّاں مرے ماتھے پر
یا میرا ٹوٹا ہُوا دل ہے

بہت خوب

Muhammad Ahmed کہا...

شکریہ بھائی

آپ کی توجہ اور تبصرے کا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک