یہی چمن ہے تو ایسے چمن سے دور چلیں ۔ شکیل بدایونی


غزل 

برائے نام جہاں دورِ بے سرور چلیں
شکیل کیوں نہ ہم اُس میکدے سے دور چلیں

نہ سمتِ وادئ  ایمن، نہ سوئے طُور چلیں
نگاہ دل پر جمائیں، ترے حُضور چلیں

اس انجمن میں ریاکاریاں ہیں شاملِ عجز
چلو یہاں سے بصد نخوت و غرور چلیں

نسیمِ صبح میں نکہت نہ پھول میں خوشبو
یہی چمن ہے تو ایسے چمن سے دور چلیں

ہمارے سایہ پہ بھی رشک تھا شکیلؔ جنہیں
خدا کی شان! وہ اب ہم سے دُور دُور چلیں

شکیل بدایونی

2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

اس انجمن میں ریاکاریاں ہیں شاملِ عجز
چلو یہاں سے بصد نخوت و غرور چلیں

اتنی اچھی غزل شیئر کرنے کا بہت بہت شکریہ

کوثر بیگ کہا...

بہت شکریہ میرے پسندیدہ شاعر کے کلام شیئر کرنے کے لئے۔۔۔۔

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک