ہر گھر سے بھٹو نکلے گا


آپ نے یہ مشہورِ عوام شعر تو سنا ہی ہوگا۔ 

یہ بازی خون کی بازی ہے، یہ بازی تم ہارو گے
ہر گھر سے  بھٹو نکلے گا تم کتنے بھٹو مارو گے

یہ شعر پاکستان  پپلز پارٹی میں شاید بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد مقبول ہوا اور آج بھی گاہے گاہے سنائی دیتا ہے۔  کیا ہی اچھا ہوتا کہ واقعی اس شعر کے مصداق ہر گھر سے بھٹو جیسے قابل لیڈر نکلتے اور ان کو بلا امتیازِ رنگ و نسل پارٹی کی قیادت کا حق آئینی اور جمہوری طریقہ سے ملتا۔  لیکن ایسا ہوا نہیں ! بھٹو صاحب بلاشبہ قابل لیڈر تھے  لیکن بھٹو صاحب کسی  مقتدر خاندان کے چشم و چراغ نہیں تھے اور اُنہیں عوام نے منتخب کیا تھا۔ 

تاہم آج کی پپلز پارٹی بھٹو صاحب کے گھرانے تک محدود ہوگئی ہے اور کچھ دیگر قریب ترین لوگوں کو بھی پارٹی کا حصہ بننے کے لئے اپنے نام کے ساتھ بھٹو کا لاحقہ لگانا پڑتا ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) میں بھی اکثر نام نواز اور شہباز کے لاحقے کے ساتھ ہی نظر آتے ہیں ۔ ایسی سیاسی جماعتوں کو اگر کوئی بھی جمہوری پارٹی سمجھتا ہے تو شاید وہ جمہوریت کی روح سے واقف نہیں ہے۔ 

جمہوریت انتقام کا نام نہیں ہے۔ جمہوریت عوام کی حاکمیت کا نام ہے اور تمام لوگ جو سرکاری عہدوں پر موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے وہ حاکم نہیں عوام کے خادم ہیں  کہ  ان کے گھر کا چولہا عوام کے ٹیکسز سے جلتا ہے۔ 

خرد کا نام جنوں رکھ دیا، جنوں کاخرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے



غزل ۔ تعلق رکھ لیا باقی، تیّقن توڑ آیا ہوں

غزل

تعلق رکھ لیا باقی، تیّقن توڑ آیا ہوں
کسی کا ساتھ دینا تھا، کسی کو چھوڑ آیا ہوں

تمھارے ساتھ جینے کی قسم کھانے سے کچھ پہلے
میں کچھ وعدے، کئی قسمیں، کہیں پر توڑ آیا ہوں

محبت کانچ کا زنداں تھی یوں سنگِ گراں کب تھی
جہاں سر پھوڑ سکتا تھا، وہیں سر پھوڑ آیا ہوں

پلٹ کر آگیا لیکن، یوں لگتا ہے کہ اپنا آپ
جہاں تم مجھ سے بچھڑے تھے، وہیں رکھ چھوڑ آیا ہوں

اُسے جانے کی جلدی تھی، سومیں آنکھوں ہی آنکھوں میں
جہاں تک چھوڑ سکتا تھا، وہاں تک چھوڑ آیا ہوں

کہاں تک میں لئے پھرتا محبت کا یہ اِکتارا
سو اب جو سانس ٹوٹی، گیت آدھا چھوڑ آیا ہوں

کہاں تک رم کیا جائے، غزالِ دشت کی صورت
سو احمدؔ دشتِ وحشت سے یکایک دوڑ آیا ہوں

محمد احمدؔ

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک