غزل ۔ تعلق رکھ لیا باقی، تیّقن توڑ آیا ہوں

غزل

تعلق رکھ لیا باقی، تیّقن توڑ آیا ہوں
کسی کا ساتھ دینا تھا، کسی کو چھوڑ آیا ہوں

تمھارے ساتھ جینے کی قسم کھانے سے کچھ پہلے
میں کچھ وعدے، کئی قسمیں، کہیں پر توڑ آیا ہوں

محبت کانچ کا زنداں تھی یوں سنگِ گراں کب تھی
جہاں سر پھوڑ سکتا تھا، وہیں سر پھوڑ آیا ہوں

پلٹ کر آگیا لیکن، یوں لگتا ہے کہ اپنا آپ
جہاں تم مجھ سے بچھڑے تھے، وہیں رکھ چھوڑ آیا ہوں

اُسے جانے کی جلدی تھی، سومیں آنکھوں ہی آنکھوں میں
جہاں تک چھوڑ سکتا تھا، وہاں تک چھوڑ آیا ہوں

کہاں تک میں لئے پھرتا محبت کا یہ اِکتارا
سو اب جو سانس ٹوٹی، گیت آدھا چھوڑ آیا ہوں

کہاں تک رم کیا جائے، غزالِ دشت کی صورت
سو احمدؔ دشتِ وحشت سے یکایک دوڑ آیا ہوں

محمد احمدؔ

4 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

علی کہا...

بہت اعلیٰ

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بہت عمدہ۔۔۔۔
غزل نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک پوری داستان ہے۔

محمد وارث کہا...

کیا کہنے احمد صاحب، بہت اچھی غزل ہے، لاجواب

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ تمام احباب کے تبصرے اور پسندیدگی کا۔

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک