ہر گھر سے بھٹو نکلے گا


آپ نے یہ مشہورِ عوام شعر تو سنا ہی ہوگا۔ 

یہ بازی خون کی بازی ہے، یہ بازی تم ہارو گے
ہر گھر سے  بھٹو نکلے گا تم کتنے بھٹو مارو گے

یہ شعر پاکستان  پپلز پارٹی میں شاید بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد مقبول ہوا اور آج بھی گاہے گاہے سنائی دیتا ہے۔  کیا ہی اچھا ہوتا کہ واقعی اس شعر کے مصداق ہر گھر سے بھٹو جیسے قابل لیڈر نکلتے اور ان کو بلا امتیازِ رنگ و نسل پارٹی کی قیادت کا حق آئینی اور جمہوری طریقہ سے ملتا۔  لیکن ایسا ہوا نہیں ! بھٹو صاحب بلاشبہ قابل لیڈر تھے  لیکن بھٹو صاحب کسی  مقتدر خاندان کے چشم و چراغ نہیں تھے اور اُنہیں عوام نے منتخب کیا تھا۔ 

تاہم آج کی پپلز پارٹی بھٹو صاحب کے گھرانے تک محدود ہوگئی ہے اور کچھ دیگر قریب ترین لوگوں کو بھی پارٹی کا حصہ بننے کے لئے اپنے نام کے ساتھ بھٹو کا لاحقہ لگانا پڑتا ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) میں بھی اکثر نام نواز اور شہباز کے لاحقے کے ساتھ ہی نظر آتے ہیں ۔ ایسی سیاسی جماعتوں کو اگر کوئی بھی جمہوری پارٹی سمجھتا ہے تو شاید وہ جمہوریت کی روح سے واقف نہیں ہے۔ 

جمہوریت انتقام کا نام نہیں ہے۔ جمہوریت عوام کی حاکمیت کا نام ہے اور تمام لوگ جو سرکاری عہدوں پر موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے وہ حاکم نہیں عوام کے خادم ہیں  کہ  ان کے گھر کا چولہا عوام کے ٹیکسز سے جلتا ہے۔ 

خرد کا نام جنوں رکھ دیا، جنوں کاخرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے



7 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

میں تو اپنے گھر میں باقائدگی سے اسپرے کراتا ہوں اس لیے میرے گھر سے بھٹو نکلنے کا چانس نہیں ہے۔

محمد احمد کہا...

@ڈاکٹر جواد صاحب،

ہاہاہاہا

یہ بھی خوب کہا آپ نے۔

:)

افتخار اجمل بھوپال کہا...

جمہوریت یا ڈیموکریسی تو دنیا سے شاید جوان ہونے سے پہلے ہی رخصت ہو گئی تھی ۔ باقی تو اجارہ داری رہ گئی ہے جس کی لونڈی بن جائے

آوارہ فکر کہا...

عمدہ بات کہی ہے برادر

محمد ریاض شاہد کہا...

محترم
بھٹو صاحب کے بیک گراونڈ کے بارے میں میرا مشورہ ہے کہ آپ مزید تحقیق کریں ۔ ان کے والد ریاست جونا گڑھ کے وزیر اعظم تھے اور بھٹو صاحب ایوب کو ڈیڈی کہتے تھے ۔

محمد احمد کہا...

@افتخار اجمل صاحب،
جمہوریت کے نام پر پاکستانیوں کے ساتھ تو واقعی بہت ظلم ہوا ہے۔

@آوارہ فکر
بہت شکریہ محترم آپ کے تبصرے کا۔

@محمد ریاض شاہد صاحب،
حقائق سے آگاہی دینے کا شکریہ ۔ آپ کی بات سے تو لگتا ہے کہ ہمارے ہاں اجارہ داروں کی حکومت شروع سے رہی ہے اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔

انیس الرحمن کہا...

ابھی تو ایک ہی بھٹو نکلا ہے۔ بلاول بھٹو۔اتنے سارے بھٹو مرنے کے بعد صرف ایک بھٹو نکلا۔ پیپلز پارٹی کو اس نعرہ کو حذف کروا دینا چاہیے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک