فرار


کبھی کبھی دل چاہتا ہے اس دنیا سے کہیں بھاگ جاؤں یا کم از کم ایسی جگہ جہاں کوئی جاننے والا نہیں ہو کہ جاننے والے سب کچھ جان کر بھی کچھ نہیں جانتے۔ اجنبی اس لئے اچھے نہیں ہوتے کہ وہ اجنبی ہوتے ہیں بلکہ وہ صرف اس لئے اچھے ہوتے ہیں کہ اُنہیں آپ سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ لیکن دل کا کیا کہیے صاحب، دل تو دل ہے اسے کون سمجھا سکتا ہے، اسے تڑپتے رہنے دینا چاہیے تاکہ اسے بھی کچھ سکون ملے اور آپ کو بھی۔

8 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ajnabihope@yahoo.com کہا...

لگتا ہے ۔ کہ آپ پہ کوئی داردات بیت گئی ہے۔اور یہ اچھی علامت نہیں ۔
کیا اجنبی کو بھی اس واردات کا علم ہےـ؟

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یہ کیا نام کے خانے میں ای۔میل ۔۔ شاید مجھ سے کوئی وگئی ہے ۔

کلیم کہا...

گہرائییوں کا اندازہ نہیں ہو پارہا - شاید یہ بہت سوں کی آواز ہو-بہرحال دل کو بہلانے کو کچھ تو ہونا چاہئیےئے- یوں ہی سہی!

محمد احمد کہا...

بھیا ضروری نہیں ہے کہ ہر بات کسی واردات کا ہی نتیجہ ہو، کچھ چیزیں کیفیات سے متعلق بھی ہوتی ہیں، اور بہت سی کیفیات ایسی بھی ہوتی ہیں کہ جن کے پیچھے کوئی وجہ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔

محمد احمد کہا...

ٹھیک کہا کلیم صاحب آپ نے۔

دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

محمد احمد کہا...

ویسے اس تحریر کے تبصرے دیکھ کر صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کا یہ شعر یاد آگیا

یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقفِ اضطراب
یہ کیا کہ ایک دل کو شکیبا نہ کر سکو

محمد احمد کہا...

جاوید صاحب اگر آپ کہیں تو آپ کے ای میل والا تبصرہ ڈیلیٹ کردوں؟

جاوید گوندل۔ بآرسیلونا ۔ اسپین کہا...

محمد احمد بھائی!
ای میل کے ساتھ میرے رائے کے بارے جو مناسب سمجھیں کر لیں۔ حذف کردیں یا رہنے دیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ میرے بلاگ اور شاعری پیج پہ بھی یہی ای -میل ایڈ ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک