مفقود جہاں تھے سبھی آثارِ فضیلت

غزل

مفقود جہاں تھے سبھی آثارِ فضیلت
واں ناز سے باندھی گئی دستارِ فضیلت

میں سادہ روش بات نہ سمجھا سکا اُن کو
حائل تھی کہیں بیچ میں دیوارِ فضیلت

کردار ہی جب اُس کے موافق نہ اگر ہو
کس کام کی ہے آپ کی گفتارِ فضیلت

آؤ کہ گلی کوچوں میں بیٹھیں، کریں باتیں
دربارِ فضیلت میں ہے آزارِ فضیلت

اب صوفی و مُلا بھی ہیں بازار کی رونق
اب سجنے لگے جا بجا بازارِ فضیلت

آیا ہے عجب زہد فروشی کا زمانہ
رائج ہوئے ہیں درہم و دینارِ فضیلت

آنکھوں میں ریا، ہونٹوں پہ مسکان سجائے
ملتے ہیں کئی ایک اداکارِ فضیلت

بس علم و حلم، عجز و محبت ہو جس کے پاس
گر ہے کوئی تو وہ ہے سزاوارِ فضیلت

احمدؔ وہ اگر رمزِ سخن پا نہیں سکتے
ہوتے ہیں عبث آپ گناہگارِ فضیلت


محمد احمدؔ

6 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

Asad Habeeb کہا...

ما شا اللہ! بہت عمدہ! بہت اعلی

محمد وارث کہا...

بہت اچھی غزل ہے احمد صاحب، کیا کہنے۔ بہت داد قبول کیجیے۔

گمنام کہا...

بہت خوب

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ تمام احباب کا

کلیم کہا...

سچ بولنا آجکل مشکلات میں اضافہ کردیتا ہے- پھربھی متفق ہوں- بہت خوب!

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ کلیم صاحب،

مشکلات کو سمجھتے ہوئے بھی آپ نے اتفاق کیا۔ اس کے لئے بہت شکریہ۔

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک