وقت کی رفتار



پتہ نہیں کیوں آج کل مجھے لگ رہا ہے جیسے پچھلے کچھ دنوں سے وقت کا پہیہ بہت تیزی سے گھومنے لگا ہے۔ واقعات اتنی تیزی سے ایک کے بعد ایک رونما ہورہے ہیں کہ کچھ سمجھ نہیں آتا۔ اس تیز رفتاری کا المیہ یہ ہے کہ نہ تو ہم کسی کا غم کر پاتے ہیں نہ کوئی خوشی منا پاتے ہیں ۔ واقعات کی یلغار میں سمجھ نہیں آتا کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ یوں لگتا ہے جیسے وقت کے تیز رفتار دریا میں ہم بے یار و مدد گار بہہ رہے ہیں، کبھی کنارہ نظر آتا ہے تو مسکرانا ہی چاہتے ہیں کہ پھر سے کوئی لہر ہمیں پستیوں اور اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔ 


سعداللہ شاہ نے کیا خوب کہا ہے:

وقت صحرا ہے کہاں اس میں نشاں ملتے ہیں
اک بگولہ ہی سبھی نقش مٹا جاتا ہے


معلوم نہیں ایسا مجھے ہی لگ رہا ہے یا سب کا یہی حال ہے۔


2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

Waseem Rana کہا...

جی جناب آپ بجا ہیں مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا ہے۔۔

محمد احمد کہا...

تبصرے کا بہت بہت شکریہ وسیم صاحب

اور رعنائیِ خیال پر خوش آمدید

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک