ایک غزل اقبال عظیم کی



اقبال عظیم کی ایک خوبصورت غزل جو مجھے بہت پسند ہے۔

غزل

ہم نے مانا اس زمانے میں ہنسی بھی جرم ہے
لیکن اس ماحول میں افسردگی بھی جرم ہے

دشمنی تو خیر ہر صورت میں ہوتی ہے گناہ
اک معین حد سے آگے دوستی بھی جرم ہے

ہم وفائیں کر کے رکھتے ہیں وفاوُں کی امید
دوستی میں اس قدر سوداگری بھی جرم ہے

اس سے پہلے زندگی میں ایسی پابندی نہ تھی
اب تو جیسے خود وجودِ زندگی بھی جرم ہے

آدمی اس زندگی سے بچ کے جائے بھی کہاں
مے کشی بھی جرم ہے اور خودکشی بھی جرم ہے

سادگی میں جان دے بیٹھے ہزاروں کوہ کن
آدمی سوچے تو اتنی سادگی بھی جرم ہے

کتنی دیواریں کھڑی ہیں ہر قدم ہر راہ پر
اور ستم یہ ہے کہ شوریدہ سری بھی جرم ہے

ایک ساغر کے لئے جو بیچ دے اپنا ضمیر
ایسے رندوں کے لئے تشنہ لبی بھی جرم ہے

اپنی بے نوری کا ہم اقبال ماتم کیوں کریں
آج کے حالات میں دیدہ وری بھی جرم ہے

اقبال عظیم

3 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

محمد وارث کہا...

واہ بہت خوب غزل ہے۔

saadblog کہا...

بہت عمدہ شیئرنگ ہے جناب۔

محمد احمد کہا...

وارث بھائی اور سعد صاحب

انتخاب کی پسندیدگی کا شکریہ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک