یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے

غزل

یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے
کہاں لے جاؤں تجھے اے دلِ تنہا میرے

وہی محدود سا حلقہ ہے شناسائی کا
یہی احباب مرے ہیں، یہی اعدا میرے

میں تہِ کاسہ و لب تشنہ رہوں گا کب تک
تیرے ہوتے ہوئے ، اے صاحبِ دریا میرے

مجھ کو اس ابرِ بہاری سے ہے کب کی نسبت
پر مقدر میں وہی پیاس کے صحرا میرے

دیدہ و دل تو ترے ساتھ ہیں اے جانِ فراز
اپنے ہمراہ مگر خواب نہ لے جا میرے

احمد فراز

10 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ali said...

بہت عمدہ
ویسے فراز صاحب ہمیں کوئی خاص پسند نہیں پر ان کی کوئی کوئی غزل لاجواب ہے اور یہ ان میں سے ہے

محمد وارث said...

واہ کیا خوبصورت غزل ہے، بہت شکریہ احمد صاحب۔

افتخار اجمل بھوپال said...

اچھی بات اچھی ہوتی ہے خواہ بتانے والا بُرا ہو ۔ اسی طرح بُری بات بُری ہوتی ہے خواہ بتانے والا بہت اچھا ہو ۔ علی صاحب کی طرح مجھے بھی احمد فراز صاحب پسند نہيں رہے ليکن يہ اشعار اس وقت اچھے محسوس ہوئے ۔ ليکن شکر گزار آپ کا ہوں کہ آپ کی وساطت سے پڑھنے کو ملے

محمد احمد said...

علی صاحب،

انتخاب کی پسندیدگی کا شکریہ!

یوں تو پسند اپنی اپنی ہوتی ہے لیکن فراز صاحب تو ایک بڑے حلقے میں پسند کیے جاتے ہیں۔ اور مجھے تو فراز صاحب کا ہر کلام ایک سے بڑھ کر ایک لگتا ہے اور میں جب بھی پڑھتا ہوں سر دھنتا ہوں۔

محمد احمد said...

بہت شکریہ وارث بھائی۔۔۔۔!

محمد احمد said...

افتخار صاحب،

ہم تو فراز صاحب کو بھی اچھوں بلکہ بہت اچھوں میں ہی شمار کرتے ہیں۔

آپ کی توجہ کا بے حد شکریہ۔ ۔۔۔۔!

کاشفی said...

بہت خوب، بہت پیاری غزل ہے۔۔

محمد احمد said...

کاشفی بھائی،

بلاگ پر خوش آمدید،

انتخاب آپ کو پسند آیا ہمیں اور کیا چاہیے۔

خوش رہیے۔

ukashah said...

عمدہ انتخاب ۔ ویسے محمد احمد بھائی بلاگ بہت خوب صوت ہے ۔ ماشاء اللہ ۔

محمد احمد said...

@ukashah

بلاگ پر خوش آمدید ۔۔۔۔!

انتخاب کی پسندیدگی کا شکریہ۔۔۔۔!

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لئے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کراسے تبصرے کے خانے میں پیسٹ کردیں۔