کراچی کی غزل خواں مر گئے کیا

غزل

سخن ہاے دل و جاں مر گئے کیا
کہو کچھ تو کہو ہاں مرگئے کیا

یہ کیا آٹھوں پہر چپ سی لگی ہے
وہ کچھ کہنے کے ارماں مر گئے کیا

جیے جاتے ہیں ہم اک دوسرے بن
ہمارے عہد و پیماں مر گئے کیا

یہ خاموشی تو اب رونے لگی ہے
وہ آنے والے طوفاں مرگئے کیا

یہ دل کیوں سینہ کوبی کر رہا ہے
یہ تم مجھ میں مری جاں مر گئے کیا

اسیرانِ خمِ زلفِ زمانہ
پریشاں تھے پریشاں مر گئے کیا

جو دن دھّمال کرتے آ رہے تھے
وہ رستے ہی میں رقصاں مر گئے کیا

کوئی تو دارسامانی کو آتا
گرانی میں سب ارزاں مر گئے کیا

میں ایسا کون زندہ ہوں کہ پوچھوں
کراچی کی غزل خواں مر گئے کیا

لیاقت علی عاصمؔ

5 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

اچھی شاعری اور خاص طور پر غزل ایک خاص قسم کے پس منظر اور ماحول میں پیدا ہوتی ہے جو بدقسمتی سے کراچی میں نہیں رہا۔

ali کہا...

بہت خوب
بہت خوب
کراچی کیا پورے پاکستان کا حال نا گفتہ بے ہے۔نئی نسل کو ایس ایم سے فرصت ہو تو اس طرف متوجہ ہو

محمد احمد کہا...

ٹھیک کہا ڈاکٹر صاحب آپ نے۔

دراصل ہماری معاشرت میں اب وہ باتیں اور سکون میسر ہی نہیں جو ہمیں کچھ سوچنے کی مہلت بھی مل سکے۔ جدیہ طرزِ زندگی انسان کو بہت کچھ دیتی ہے لیکن وہ ان تمام جھمیلوں میں خود سے ملنے کو ترس جاتا ہے۔ اور یہ حال کراچی سمیت پوری اردو دنیا کا ہی ہے۔

لیکن اس کے باوجود ادب اب بھی کسی نہ کسی شکل میں پنپنے کی کوشش ضرور کر رہا ہے، کراچی میں بھی ادبی حلقے اور شعر و ادب سے محبت کرنے والے بہت سے لوگ موجود ہیں۔ خود لیاقت علی عاصم کا تعلق بھی کراچی سے ہی ہے۔ ان کے علاوہ بھی کراچی دیگر بہت سے اچھے شعرا ء کرام کی پہچان ہے۔

محمد احمد کہا...

@ علی صاحب،

بجا فرمایا آپ نے۔ موبائل اور ایس ایم ایس ایک طرف نوجوانوں کے وقت کا زیاں کر رہے ہیں تو دوسری جانب ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجی جانے والی غیر معیاری شاعری نوجوانوں کے ذوق کو بلند نہیں ہونے دیتی۔

محمد وارث کہا...

کیا خوبصورت غزل ہے، لاجواب

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک