صدائے شکستِ نکہت و رنگ

غزل

دیارِ عشق کا یہ حادثہ عجیب سا تھا
رُخِ رقیب پہ بھی پرتوِ حبیب سا تھا

فراق زخم سہی، کم نہ تھی جراحتِ وصل
معانقہ مرے محبوب کا، صلیب سا تھا

ترے جمال کی سرحد سے کبریا کا مقام
بہت قریب تو کیا تھا، مگر قریب سا تھا

سنی ہے میں نے صدائے شکستِ نکہت و رنگ
خزاں کی راہ میں ہر پھول ، عندلیب سا تھا

برادرانِ وطن کے سلوک کی سوگند
ندیمؔ یوسفِ کنعاں کا ہم نصیب سا تھا

احمد ندیم قاسمی

4 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

ali کہا...

بہت خوب

محمد یاسرعلی کہا...

بہت خوب احمد بھائی اچھا انتخاب ہے

محمد وارث کہا...

واہ بہت خوب

محمد احمد کہا...

@ علی صاحب،
@ یاسر صاحب،
@ وارث بھائی ۔

بہت شکریہ آپ کی توجہ اور تبصرے کا۔

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک