عظمی جون کی ایک نظم



مرے دل سے لے کر
ترے سنگِ دل تک
گماں کی چٹاں
اور
حقیقت کی سل تک
جو آنکھوں سے میری
ترے کالے تل تک
بُنا تھا محبت کی مکڑی نے جالا
زمانے کے ہاتھوں نے
وہ تارِ الفت
یہاں سے وہاں تک
سبھی نوچ ڈالا
تو دونوں ہی دل اب رہا ہو چکے ہیں
چٹان اور سل بھی جدا ہو چکے ہیں
وہ آنکھیں وہ تل بھی فنا ہو چکے ہیں
وہ چاہت نہ جانے کدھر کو گئی ہے
وہ مکڑی بھی شاید کہیں کھو گئی ہے

عظمی جون

2 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

محمد وارث کہا...

بہت شکریہ احمد صاحب شیئر کرنے کیلیے۔

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ وارث بھائی.

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک