پسِ مرگِ تمنا کون دیکھے


غزل


پسِ مرگِ تمنا کون دیکھے
مرے نقشِ کفِ پا کون دیکھے

کوئی دیکھے مری آنکھوں میں آکر
مگر دریا میں صحرا کون دیکھے

اب اس دشتِ طلب میں کون آئے
سرابوں کا تماشہ کون دیکھے

اگرچہ دامنِ دل ہے دریدہ
دُرونِ نخلِ تازہ کون دیکھے

بہت مربوط رہتا ہوں میں سب سے
مری بے ربط دُنیا کون دیکھے

شمارِ اشکِ شمعِ بزم ممکن
ہمارا دل پگھلتا کون دیکھے

میں کیا دیکھوں کہ تم آئے ہو ملنے
کھلی آنکھوں سے سپنا کون دیکھے

میں جیسا ہوں، میں ویسا تو نہیں ہوں
مگر جیسا ہوں ویسا کون دیکھے

محمد احمدؔ


4 تبصرہ جات : اپنی رائے کا اظہار کریں:

محمد وارث کہا...

خوبصورت غزل ہے احمد صاحب، سبھی اشعار بہت اچھے ہیں


کوئی دیکھے مری آنکھوں میں آ کر
مگر دریا میں صحرا کون دیکھے

واہ واہ واہ، کیا کہنے جناب، مکرر ارشاد

خرم ابن شبیر کہا...

کوئی دیکھے مری آنکھوں میں آکر
مگر دریا میں صحرا کون دیکھے

واہ واہ احمد بھائی کیا خوب غزل ہے ماشاءاللہ ہر ایک شعر مزے کا ہے لیکن مجھے سب سے پیارا شعر یہی لگا ہے باقی ساری غزل بھی کمال ہے بہت خوب

محمد احمد کہا...

بہت شکریہ وارث بھائی، آپ کی محبت کے لئے ممنون ہوں.

محمد احمد کہا...

خرم بھائی،

جزاک اللہ اتنی ساری داد ہے کہ سنبھالی نہیں جارہی ہے. آپ کی محبت کے لئے بے حد ممنون ہوں.

خوش رہییے.

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


FB Like Test

رعنائیِ خیال پر تبصرہ کیجے ۔ بذریعہ فیس بک